Ibn e Niaz Today's Columns

رمضان اور مہنگائی۔ کیوں ہوتی ہے؟ از ابن نیاز

Ibn e Niaz

احادیث کا مفہوم ہے کہ جب رمضان کا چاند نظر آتا ہے تو شیطان کو قید کر لیا جاتا ہے۔ یقینا یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بلکہ انسانوں کی اکثریت گناہ کبیرہ سے بچ جاتی ہے۔ سوائے ان لوگوں کے کہ جن کی نسوں میں شیطان اپنی شیطانیت حلول کر چکا ہوتا ہے، وہ لوگ رمضان کے تقدس کا خیال نہیں کرتے۔ان کے چھوٹے گناہ ہوں، یا بڑے گناہ۔ وہ جاری و ساری رہتے ہیں۔ انہی گناہوں میں ایک گناہ جو بطور خاص رمضان میں زیادہ سامنے آتا ہے اور پاکستان میں سامنے آتا ہے وہ مہنگائی کے جن کا نکلنا ہے۔باقی اشیاء پر شاید کم اثر ہوتا ہو گا لیکن سبزیوں اور پھلوں کے معاملے میں آگ کا بھڑکنا نظر آتا ہے۔خدا خوفی تو ویسے بھی ہمارے دلوں سے ختم ہو چکی ہے کہ ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے ہمسائے میں کوئی بھوکا سویا ہوا ہے۔ سویا بھی ہے یا آنتوں کے قل پڑھنے کی وجہ سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ راستے میں کوئی ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے تو ہم اس کو وہیں تڑپتا چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ اس میں شاید ہماری بے حسی کم اور قانون کے اوراق کا لاگو ہونا زیادہ ہے۔ کہ بندے کو پہلے پولیس رپورٹ درج کروانی ہو گی، پھر ہسپتال لے جانا ہو گا۔ بھلے وہ مر جائے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ قانون صرف غریب کے لیے ہے یا وہ جس کی پہنچ دنیاوی خدا کے دربار تک نہیں ہے۔
مہنگائی کا جن پورے رمضان میں نظر آتا ہے ۔ جو بوتل سے ایک دو دن پہلے نکلنا شروع ہوتا ہے۔ وہ پھل جو عام دنوں میں پچاس روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہوتے ہیں وہ پہلی رمضان سے ہی ڈیڑھ سو پر چلے جاتے ہیں۔ عام دکاندار کے پاس وہی سٹاک ہوتا ہے جو اس نے ایک دن پہلے پچاس روپے کلو بیچا ہوتا ہے، پہلی رمضان کو ڈیڑھ سو روپے فی کلو ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ پوچھا جائے تو جواب ہوتا ہے کہ جی یہی تو موقع ہے کمانے کا۔ بندہ پوچھے ، یہاں تو کمائی کر لو گے، آخرت میں خدا کو کیا جوا دو گے؟ باغات سے پھل مارکیٹ تک پہنچنے میںاور پھر ایک ریڑھی والے تک پہنچنے میں اتنے اخراجات نہیں آتے۔ پھر ریڑھی والا معمولی سا ٹیکس ادا کرتا ہے، اگر کوئی ہے ۔ ورنہ تو سیلز ٹیکس، بجلی کا بل، پراپرٹی ٹیکس وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پھر بھی اس کا ریٹ ایک عام دکاندار ، جو یہ سارے ٹیکس اور بل ادا کرتا ہے، کے برابر ہوتا ہے۔ آخر کیوں؟ اس کے بالعکس ہم سنتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ یورپی ممالک میں یا غیر مسلم ممالک میں جب بھی ان کا کوئی مقدس دن یا مہینہ آتا ہے تو ان دنوں میں بالخصو ص وہ ان اشیاء کی قیتمیں جو ان دنوں میں عام استعمال ہونی ہوتی ہیں اور بالعموم ہر چیز کی قیمت کئی گنا کم کر دیتے ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد، غریب سے غریب تر بھی اس خوشی میں شریک ہو سکے۔ یہاں تک دیکھا ور سنا گیا ہے کہ ان ممالک میں اگر پھر بھی کسی کی خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی تو اس کو مفت دے دی جاتی ہے۔ یہ اخلاقیات کا سبق ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے لیکن اس پر عمل غیر مسلم کرتے ہیں۔ ریڑھی والے سے پوچھو کہ مہنگا کیوں، تو وہ جواب دیتا ہے کہ منڈی سے ہی مہنگا ملتا ہے۔ منڈی سے پوچھو تو کہتے کہ انھیں بھیجا ہی مہنگا جاتا ہے تو وہ کیا کریں۔ حالانکہ منڈی اور کسان یا باغ والے کے درمیان پہلے تو ایک عدد آڑھتی ہوتا ہے۔ جو دونوں طرف سے کھاتا ہے۔آڑھتی کسان کو منڈی تک براہ راست رسائی کبھی نہیں ہونے دیتا۔ اگر کوئی جانا بھی چاہے تو ہزارہا مشکلات اس کے راستے میں حائل کی جاتی ہیں۔ آڑھتی اس کسان سے سارا مال اٹھا لیتا ہے۔اس کو باہر انتظار کا کہتا ہے اور خود اندرمارکیٹ کے احاطے میں لیکن بڑی مارکیٹ سے باہر اس مال کی باقاعدہ بولی لگاتا ہے۔اور کمال یہ ہے کہ بولی اس کی اپنی مرضی سے ہوتی ہے۔ کسان نے جو قیمت بتائی ہوتی ہے وہ بولی کی آخری بولی سے کہیں کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سو کلو سیب کی قیمت لانے والا پانچ ہزار کہتا ہے تو یہ آڑھتی اس سو کلو سیب کی قیمت کم سے کم چھ ہزار سے شروع کرتا ہے اور شاید دس ہزار تک جاتا ہے۔ کسان کو وہ پانچ ہزار ہی ملتے ہیں۔ اوپر جتنے بھی ہوتے ہیں وہ سب آڑھتی کی جیب میں جاتے ہیں۔آڑھتی سے خریدنے والے مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں جس میں منڈی میں دکان کرنے والے ہوتے ہیں یا پھر وہ عام دکاندار جو سو کلو سیب نہ سہی، کم از کم بیس کلو ضرور اٹھاتے ہیں۔ یوں مہنگائی کو جنم دینے میں پہلا کردار اس آڑھتی کا ہوتا ہے۔ منڈی کے دکاندار پھر اپنا مارجن رکھ کر وہ پھل یا اناج زیادہ تر عام دکانداروں کو دیتے ہیں۔ اے سی ، ڈی سی سے وہ گھروں محلوں میں بیٹھے دکانداروں کی م مرضی کی قمیتیں مقرر کرواتے ہیں کیونکہ اسے تو نہیں علم ہوتا کہ آڑھتی کیا کھیل کھیل گیا ہے۔اب وہ قیمیتیں کس بنیاد پر مقرر ہوتی ہیں، وہ اللہ ہی جانتا ہے۔
پھر جب دکاندار منڈی سے یا آڑھتی سے مال اٹھاتا ہے تو وہ بظاہر مقرر کردہ نرخ پر ہی بیچتا ہے۔لیکن یہ وہ نرخ ہوتا ہے جو اس نے اپنی مرضی سے مقرر کروائے ہوتے ہیں۔ کسان سے پچاس روپے فی کلو خریدا گیا سیب مجھے اور آپ تک پھر ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کلو میں پہنچتا ہے۔ اس ساری مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے؟ سب سے پہلے آڑھتی جو کسان کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی نہیں دیتا۔ مال کی قمیتیں اپنے ہاتھوں میں رکھ کر ہر دوسرا آڑھتی آج کروڑ پتی بنا بیٹھا ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی محنت بیچ میں شامل نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ دکاندار جس سے ہم پھل خریدتے ہیں۔ یا حکومت ان آڑھتیوں کے خلاف کوئی ایکشن لے گی؟ اجناس کی قمیتوں کا تعین اگر حکومت خود کرے، کسان کوکیا نرخ دینا ہے، وہ کسان کی محنت اور اس کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے جائز قیمت مقرر کرے یا پھر براہ راست کسان کو منڈی تک رسائی دے تو شاید بہت حد تک پھلوں اور دیگر اناج کی قمیتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جب ایک کسان سو کلو سیب پچاس روپے میں اپنی خوشی سے فروخت کرے گا، منڈی کا دکاندار وہ قیمت یقینا خوشی سے ادا کرے گا کہ اسے تو آڑھتی کے بیچ میں سے ہٹ جانے سے تین گنا کم قیمت پر اناج مل رہا ہے۔ پھر حکومت وہاں پر عام دکاندار کے لیے مناسب سا فائدہ رکھ کر نرخ مقرر کرے تو مجھے یقین ہے کہ مجھے اور آپ کو پچاس روپے کلو سیب زیادہ سے زیادہ اسی روپے کلو میں میسر ہوں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟
اگر حکومت یہ سب کچھ نہیں کرسکتی تو پھر میری عوام الناس سے گزارش ہے کہ اگر آپ پھل فروٹ نہ کھائیں تو کیا آپ کا روزہ افطار نہیں ہو گا؟ ہو جائے گا۔ کھجور بجائے تین چار کھانے کے ایک دانہ کھائیں۔ باقی روٹی کھائی جائے تو بہتر ہے۔ جتنا پھل کم خریدیں گے ، دکاندار کے پاس وہ پڑا گل کر سڑتا رہے گا۔ پھر دکاندار کو اپنی اصل قیمت کی طرف لوٹنا ہی پڑے گا۔ کاش ہم اصراف سے اور ریاکاری سے بچ سکیں۔
٭…٭…٭

About the author

Ibn e Niaz Ibn e Niaz

Ibn e Niaz

Leave a Comment

%d bloggers like this: