Muhammad Akram Amir Today's Columns

ضمنی الیکشن کا ایک اور معرکہ از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

این اے 75 کے ضمنی الیکشن کے بعد اب عوام کی توجہ پی پی 84 خوشاب کے پانچ مئی کو ہونے والے ضمنی الیکشن پر لگ چکی ہے، قومی اسمبلی کے حلقہ 75 میں مسلم لیگ (ن) کی سیدہ نوشین کی 16 ہزار 643 ووٹوں کی برتری سے کامیابی نے واضح کر دیا ہے کہ قبل ازیں ہونے والی پولنگ میں حکومت نے دھند کی آڑ میں 23 پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائیڈنگ آفیسرز کو 6 گھنٹے تک نا معلوم مقام پر رکھ کر نتائج تبدیل کر کے حکومتی امیدوار کو کامیاب کرانے کی کوشش کی تھی اور 23 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کو متنازعہ بنا دیاتھا۔ اور اسی تناظر میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کر کے استدعا کی کہ اس کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ بصورت دیگر صرف متنازعہ 23 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس سے قبل اس نوعیت کا تلخ تجربہ بھگت چکی تھی اور این اے 91 کی جیتی نشست ہار گئی تھی، حالانکہ 11 ماہ تک مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی بطور ایم این اے رہے، ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کے عامر سلطان چیمہ نے الیکشن کمیشن سے رجوع کر کے موقف اختیار کیا تھا کہ ریجنل الیکشن کمیشن آفس سرگودھا میں 20 پولنگ اسٹیشنوں کے تھیلے کھول کر ان کے ووٹ ٹمپر کیے گئے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متنازعہ 20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا اور عدالت نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، 20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ میں عامر سلطان چیمہ 11 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت گئے، حالانکہ پورے حلقہ کی تین بار گنتی کے دوران قبل ازیں وہ ایک ہزار سے زائد ووٹوں سے ہارے تھے، اب مسلم لیگ (ن) کے این اے 91 سے ہارنے والے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے 20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کے عمل کو سپریم کورٹ میں ایک بار پھر چیلنج کر رکھا ہے، اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اور این اے 75 سے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پھر عدالت عظمیٰ میں قانونی جنگ لڑی، جس کے نتیجہ میں پورے حلقہ میں دوبارہ ہونے والی پولنگ میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کو پہلے ہونے والی ضمنی پولنگ کی نسبت دوسری بار ہونے والی پولنگ میں زیادہ ووٹ ملے، اس طرح مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کے شہر ڈسکہ میں ہونے والا ضمنی الیکشن کا معرکہ جیت کر حکومت بالخصوص کپتان کو ایک اور آفٹر شاک جھٹکا دیا ہے، اب عوام کی نظریں خوشاب کے حلقہ پی پی 84 میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں، پی پی 84 کے ضمنی الیکشن میں دلچسپ اور حیران کن صورتحال پیدا ہو چکی ہے یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے 2018ئ� میں ضلع خوشاب سے جیتنے والے اکلوتے ایم پی اے محمد وارث کلو کی وفات پر خالی ہوئی تھی، 2013ئ� کے انتخابات تک خوشاب مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں (ن) لیگ نے جیت کر 2013 کے انتخابات میں خوشاب سے کلین سویپ کیا تھا، پھر حلقہ بندی کے بعد ضلع خوشاب کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کم ہو گئی، 2018ئ� کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) خوشاب میں دو دھڑوں میں تقسیم تھی اور دونوں دھڑے ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت کر رہے تھے، جس کی وجہ سے ماسوائے محمد وارث کلو کے مسلم لیگ (ن) کو دیگر نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں جیت گئی تھی، 2018 میں ناراض مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے اب ضمنی الیکشن میں ایک پیج پر نظر آ رہے ہیں اور ان میں صلح ہو چکی ہے۔ اور مسلم لیگ (ن) ضمنی الیکشن جیتنے کیلئے پر عزم ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے وارث کلو مرحوم کے بیٹے و سیاسی جانشین معظم کلو کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے مرکزی جنرل سیکرٹری عامر کیانی کے قریبی ساتھی گل اصغر بگھور کو پی پی 84 سے میدان میں اتارا اور ٹکٹ جاری کیا تھا، جو کہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع بھی کرایا جا چکا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے احسان ا? ٹوانہ نے گل اصغر بگھور کو ٹکٹ دینے کی بھرپور مخالفت کی، اور بقول سیاسی ذرائع ایم این اے احسان ا? ٹوانہ نے ٹکٹ تبدیل کرانے کیلئے بھر پور جدوجہد کی اور پی ٹی آئی شمالی پنجاب کی جنرل سیکرٹری شپ کے عہدے سے اپنا استعفیٰ بھی کپتان کو بھجوایا، جس میں واضح کیا گیا کہ گل اصغر بگھور کو ٹکٹ دینے والی کمیٹی نے حلقہ ایم این اے ہونے کی حیثیت سے مجھ سے مشاورت نہیں کی اور گل اصغر بگھور نے 2018ئ� کے الیکشن میں پارٹی سے بغاوت کر کے آزاد ایم این اے کا الیکشن لڑ کر پارٹی امیدواروں کی کمر میں چھرا گھونپا تھا، احسان ا? ٹوانہ نے اپنے پارٹی عہدہ استعفیٰ میں کپتان کو یہ بھی باور کرایا کہ وہ پی ٹی آئی کا وفادار ہونے کے ناطے چیئر مین قائمہ کمیٹی (خارجہ امور قومی اسمبلی) اور ایم این اے حلقہ 94 کے عہدہ سے اپنا استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہیں جس پر پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان نے پی پی 84 میں گل اصغر بگھور کو جاری کردہ پی ٹی آئی کا پارٹی ٹکٹ واپس لے کر احسان ا? ٹوانہ کے گروپ کے سردار علی حسین بلوچ کو دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ گل اصغر بگھور کے ساتھ 2018ئ� کے الیکشن میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، پی ٹی آئی نے این اے 94 سے پارٹی ٹکٹ گل اصغر بگھور اور پی پی 84 کا ٹکٹ اس کے ساتھی حامد محمود وڈھل کو دیا تھا، پی ٹی آئی خوشاب کی قیادت نے حامد محمود وڈھل پر اعتراض اٹھایا تو پارٹی کی مرکزی قیادت نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے دونوں ٹکٹ گل اصغر بگھور کو دے دیئے تھے، اور گل اصغر بگھور نے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور بھرپور انتخابی مہم شروع کر دی تو پی ٹی آئی کی قیادت نے پی پی 84 کا ٹکٹ سردار شجاع خان بلوچ کو دے دیا۔ گل اصغر بگھور اپنی انتخابی مہم کی کمپین جاری رکھے ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے گل اصغر بگھور سے ایم این اے کے امیدوار کا ٹکٹ بھی واپس لے کر احسان ا? ٹوانہ کو دے دیا، جس پر گل اصغر بگھور نے پی ٹی آئی سے بغاوت کر کے 2018ئ� میں آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور بے دریغ خرچ کر کے آزاد حیثیت سے 40 ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے، اس کے باوجود احسان ٹوانہ جیت گئے، جس کی ایک وجہ حلقہ میں ٹوانہ گروپ کا ذاتی ووٹ بینک اور دوسرا مسلم لیگ (ن) میں دھڑا بندی تھی، اس وقت آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر پی ٹی آئی کی قیادت گل اصغر بگھور سے نالاں تھی کہ مرکزی جنرل سیکرٹری عامر کیانی نے راہ ہموار کر کے گل اصغر بگھور کو دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل کر لیا۔ جبکہ اب مسلم لیگ (ن) خوشاب میں دھڑا بندی ختم ہو چکی ہے، اور دونوں دھڑے یک جان ہو کر این اے 75 کی طرح پی پی 84 کا ضمنی الیکشن جیتنے کیلئے متحد نظر آ رہے ہیں۔
سیاسی ذرائع کہتے ہیں کہ احسان ا? ٹوانہ کے گروپ کے سردار علی حسین بلوچ کو پارٹی ٹکٹ دلوانے میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سپورٹ حاصل تھی، جبکہ گل اصغر بگھور کو ٹکٹ لے کر دینے میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری عامر کیانی کا دونوں بار اہم کردار تھا لیکن اس کے باوجود دونوں بار گل اصغر بگھور پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم ہوئے، دیکھنا یہ ہے کہ اب گل اصغر بگھور کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا، کیا موصوف 2018ئ� کی طرح بغاوت کر کے آزاد حیثیت سے ضمنی الیکشن لڑیں گے؟ یا پارٹی کے کپتان عمران خان کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدوار کو ضمنی الیکشن میں سپورٹ کریں گے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا؟ تا ہم این اے 75 کے بعد خوشاب کے حلقہ پی پی 84 میں ضمنی الیکشن کا دنگل سجنے جا رہا ہے، جس کے لئے کپتان کے کھلاڑی سردار علی حسین بلوچ اور مسلم لیگ (ن) کے متوالے معظم کلو کو میدان میں ہیں۔ یاد رہے کہ 2018ئ� میں اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے شجاع خان بلوچ اور مسلم لیگ (ن) کے وارث کلو کے مابین مقابلہ ہوا تھا، اور وارث کلو جیت گئے تھے۔ سابقہ ایم این اے شجاع خان بلوچ اور ایم پی اے وارث کلو وفات پا چکے ہیں اور اب مقابلہ دونوں کے بیٹوں کے مابین ہونے جا رہا ہے، ہمدردی کا زیادہ ووٹ جو حاصل کر پائے گا وہ کامیابی سمیٹے گا؟ تا ہم پانچ مئی کو ہونے والی پولنگ میں پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: