Ali Jaan Today's Columns

آنکھ ،کان، بال اورکھال کوروزہ سوشل میڈیاکے مفتی از علی جان ( مستقبل جاں )

Ali Jaan
Written by Ali Jaan

حضرت امام جعفرصادق نے فرمایا جب تم روزہ رکھو تو تمہاری آنکھ ،کان،بال اورکھال کو بھی روزہ ہونا چاہیے تمہارے روزے کے دن اورافطار کے درمیان فرق ہونا چاہیے تمہیں لڑائی جھگڑا اوربحث مباحثہ سے دوررہناچاہیے تمہارے اندرروزہ دارکا وقارپایا جانا چاہیے اورتمہیں اپنے خدمت گذاروں کی اذیت سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔رمضان المبارک اللہ کا مہینہ ہے اس میں رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ایک روایت کے مطابق اس مہینہ میں شیطان ہرمن زنجیروں سے جکڑدیے جاتے ہیںیہ روایت کوحضرت جابرسے مروی ہے کہ ایک بار حضورپاک ﷺ نے فرمایا اے لوگو جب رمضان کا چاندنظرآتاہے توشیطان کو زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے اورآسمان کے دروازے،جنتوں کے دروازے،رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروزے بندرکردیے جاتے ہیںاس مہینے میں دعائیں قبول ہونے لگتی ہیںیہاں تک کہ شوال کا چاندنظرآجاتا ہے اس وقت مومنوں کوآوازدی جاتی ہے کہ اے مومنوآئواوراپنا انعام لے جائوکیونکہ یہ انعام دینے کادن ہے(وسائل الشعیہ طبع اسلامیہ جلدنمبر۴)مگراس مہینے میں بھی کچھ لوگ دوپل کی مشہوری کیلئے اتنا کچھ بول جاتے ہیں کہ انکو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ دائرہ اسلام سے کب خارج ہوگئے جاہل لوگوں نے دین کا حلیہ بگاڑنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے جیسے رمضان المبارک کا چاند نظرآتا ہے تو سوشل میڈیا کے مفتی ایکٹو ہوجاتے ہیں کوئی مفتی منیب الرحمان کو برابھلا کہہ رہا ہوتا ہے کوئی مولانا طارق جمیل کو تو کوئی اویس رضاقادری پراپنے فتوے جھاڑ رہا ہوتا ہے فیسبکی مفتی بیک وقت عالم دین،سائنسدان،ماہرفلکیات،قاضی جج بن کرفیصلے صادرکرتے ہیں میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں جنہو ں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچارکھی ہے وہ دین اسلام کے بارے میں کتنا جانتے ہیں،ماہرفلکیات کی کتنی جان کاری ہے عقل کے اندھوں نے دین اسلام کا تماشا بنا رکھا ہے اور اپنی مرضی کے ایسے جواز پیش کررہے ہیں جیسے یہود ونصاریٰ نے قرآن مجیدسے پہلے والی آسمانوں کی تحریف کرکے اصل کلام کا حشرنشرکیا یہ کلام یہاں تک نہیں رکا بلکہ پہلے روزے کو تو اسلام سے بیزارلوگوں نے روزے داروں کا خوب مذاق اڑایا کہ رات چاند نظرآیا اب دن میں تارے نظرآرہے ہیں اگرکوئی غلطی سے ان جاہلوںکی کال اٹھا لے تو کہتے ہیں رات تو بڑی مبارکیں دے رہے تھے اب روزے نے آواز بند کردی۔میں ان عقل کے اندھوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسی کا اجردوں گاجاہل اور نامنہاد روشن خیال لوگوں نے ماہ مبارک کو ماہ مذاق بنا کے رکھا ہوا ہے جن کو پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدانوںکی طرح سورۃ اخلاص بھی صحیح طرح سے پڑھنا نہیں آتی وہ بھی اس ماہ مبارک میں طنزومذاح کررہے ہوتے ہیںخدارابس کریں ابھی بھی وقت ہے توبہ کرلیں کیونکہ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں شیطان کو جکڑدیا جاتا ہے جہنم کے دروازے بندکریے جاتے ہیں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اللہ کی رحمت کی برسات ہوتی ہے ایک ایک نیکی کا ثواب کئی کئی گنا بڑھ جاتا ہے یہ قدرتی امرہے کہ اس ماہ مقدس میں دنیاکی فضا تبدیل ہوجاتی ہے کائنات کی رو رو میں روحانی سکون ہوتا ہے اللہ کی رحمت سے صرف وہی راحت محسوس کرسکتے ہیں جنہوں نے صرف اللہ کی رضاکیلئے روزہ رکھا ہو اورکسی کی باتوںکی پرواہ نہ کی ہومجھے یقین ہے سوشل میڈیا پرجتنے بھی طنزومذاح کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں وہ یقیناًروزہ نہیں رکھتے ہونگے مگرافطاری میں سب سے پہلے بیٹھے ملیں گے عام زندگی میں ہمیں جھوٹ اور ٹھٹھہ مذاق سے روک گیا ہے مگرآج کے سوشل میڈیا کے مفتی لوگوں نے دین اسلام کومذاق بناکررکھ دیا ہے مگرجس کا جتنا ظرف وہ اتنا ہی خاموش ہے علم رکھنے والا جانتا ہے کہہ جہنم میں لے جانی والی یہی زبا ن ہے اور جو اللہ کے زیادہ نزدیک ہوتا جاتا ہے اتنا ہی خاموش ہوتا جاتا ہے کم ظرف اور علم نہ رکھنے والے شورشرابازیادہ کرتے ہیں کیونکہ وہ احسا س کمتری کا شکار ہوتے ہیں مگرسمجھتے خودکو مفکرہیں ۔زیادہ علمی روب جھاڑنے کیلئے پھربے تکی ہی چھوڑتے ہیں ۔آج کل سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی جماعتیں سب کے سوشل میڈیا سیل بنے ہوئے ہیں سوشل میڈیا کو مسلسل کیا جارہا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپگینڈا سے مذہبی جماعتیں لاعلم ہوں اپنے مفادات کی بات آئے تو ملا،قاضی اور سیاستدان سب سڑکوں پرنکل آتے ہیں مگرجب اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی بات آتی ہے تو سب کو چپ کیوں لگ جاتی ہے آج بچے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور بچوں کا ذہن بالکل کوراکاغذ ہوتا ہے اور وہ وہی کرتے ہیں جو بڑے کرتے ہیں جب وہ دیکھیں گے ہمارے بڑے سوشل میڈیا پر اس ماہ مقدس کا مذاق اڑا رہے ہیں تویقیناً وہ بھی ویسا ہیں کریں گے اور آپ سوچئے ہماری آنے والی نسلیں کہاں کھڑی ہوں گی سوشل میڈیا کی حدود وقیود مقرر کرنا بہت ضروی ہوچکی ہے آخرمیں میں ہاتھ جوڑ کے سوشل میڈیاکے مفتیوں سے گزارش کروں گا کہ اپنے لیے نہ سہی آنے والی نسلوں کی حفاظت کیلئے اچھے اچھے پیغام بھیجا کریں۔روزہ دارکوچاہیے کہ وہ اپنی زبان سے جھوٹ،غیبت،نکتہ چینی،گالی گلوچ،بحث ومباحثہ،بیہودہ گوئی اوردیگرلغویات سے دوررکھے اوریاد الٰہی سے اپنے گلے کوشیریں کے رکھے ۔دعا،درود اورقرآنی آیاد سے اپنے دل کو معطرکیے جائے ۔

٭…٭…٭

About the author

Ali Jaan

Ali Jaan

Leave a Comment

%d bloggers like this: