Muhammad Akram Amir Today's Columns

نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

کپتان نے ملک کی باگ ڈور سنبھال کر اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور غریبوں کیلئے 50 لاکھ سستے مکان تعمیر کریں گے، پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں تو نہ مل سکیں لیکن کپتان اب بھی پر عزم ہیں کہ وہ ملک میں بسنے والے ہر غریب کو سستا مکان (اپنی چھت) ضرور دیں گے، اسی سلسلہ میں کپتان نے گزشتہ روز سرگودھا میں نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے، کپتان کہتے ہیں کہ نیا پاکستان ہا?سنگ سکیم سے 30 صنعتیں وابستہ ہیں، جس سے لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور صنعت کو فروغ ملنے سے ملکی ترقی میں اضافہ ہو گا۔ کپتان کی یہ بات تعجب خیز ہے کہ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم بارے رجسٹریشن پہلے ہی کی جا چکی ہے، کپتان نے 50 لاکھ سستے مکان بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور ان میں سے 1 ہزار 175 گھروں کی تعمیر سرگودھا میں ہو رہی ہے، جبکہ اتنی ہی تعداد کے لگ بھگ سستے مکان لاہور میں تعمیر ہو رہے ہیں، باقی مکانات کہاں اور کب تعمیر ہونگے؟ اس بارے میں ابھی تک کوئی وضاحت نہیں کی تا ہم نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے نام پر ادارہ قائم کر دیا گیا ہے، جس میں بڑی بڑی تنخواہوں پر افسران بھی تعینات ہیں۔ کپتان کہتے ہیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر کا سرکاری سطح پر منصوبہ شروع کیا جارہا ہے،اور عام آدمی جو ساری زندگی کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کا اپنا گھر ہو اس کے اپنے ذاتی گھر کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے، ماضی میں بینکوں سے قرضہ بھی سرمایہ داروں کو ملتا تھا لیکن تنخواہ دار اور محنت کش کے لئے قرضے کا حصول مشکل مرحلہ تھا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سستے مکانات کی تعمیر کیلئے قرضہ حاصل کرنے میں حائل رکاوٹیں دور کر دی ہیں، پہلے عام آدمی کو بنک سے مورگیج کے لئے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا، کپتان کہتے ہیں کہ اب بنکوں کے سربراہان قرضہ کی سہولت کیلئے اپنے عملہ کی خصوصی تربیت کریں گے تاکہ یہ امر سہل ہو سکے۔ اس منصوبے میں خصوصی طور پر کم آمدن کے لوگوں کو حکومت نے اپنا حدف رکھا ہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں کہ چھوٹے شہروں کے ساتھ مزید شہر اور دیہاتوں میں بھی یہ گھر بنائے جائیں گے، یاد رہے کہ ماضی میں محمد خان جونیجو کے دور میں شہروں سے دور دیہاتوں میں گھروں کی تعمیر کامنصوبہ شروع کیا گیا تھا جو اربوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ اور وہ پیسہ قرضہ حاصل کرنے والے ہی ہضم کر گئے تھے، اب کپتان کہہ رہے ہیں کہ ہم جو گھر بنا رہے ہیں، ان کی رجسٹریشن کا کام پہلے ہی ہوچکا ہے اور لوگ حکومت کے مہیا کردہ سستے مکانات میں رہائش حاصل کرنا چاہتے ہیں، 3 مرلہ کے گھر کی قسط 10 ہزار ماہانہ ہو گی، جبکہ بڑے شہروں میں تین مرلہ کے گھر کا کرایہ اس سے زیادہ ہے۔ کپتان اعتراف کرتے ہیں کہ اس منصوبے کی شروعات میں پاکستان نے بہت تاخیر کی ، ملک میں غریب آدمی کے لئے اپنا گھر خریدنا ایک خواب تھا، یہی وجہ تھی کہ ملک میں بڑی تعداد میں کچی آبادیاں قائم ہوئیں، کپتان شاید اس بات سے لا علم ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر کراچی 40 فیصد کچی آبادیوں پر مشتمل ہے، ان آبادیوں میں نہ تو بنیادی سہولیات ہیں اور نہ بجلی گیس کے کنکشن اور نہ ہی پینے کا صاف پانی، نہ ہی کراچی کے 40 فیصد آبادی میں سیوریج سسٹم ہے، لیکن کپتان اس کے باوجود پر عزم ہیں کہ وہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں بسنے والے ہر بے گھر کو سستا مکان ضرور دیں گے۔ کپتان کہتے ہیں کہ ابھی پنجاب کی 31 تحصیلوں میں یہ منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ چونکہ بنکوں کو قرضہ دینے کی عادت نہیں ہے اس لئے بہت سی شکایات آرہی تھیں، جس پر پنجاب بینک کے سربراہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں اپنے عملے کو خصوصی تربیت دیں، تاکہ سستا مکان کے خواہشمند شخص کو قرضہ کی فراہمی آسان ہو سکے۔ کپتان کہتے ہیں کہ اگر اس منصوبے کے لئے بنکوں نے اپناکردار درست ادا کیا تو پھر ملک میں معاشی انقلاب آئے گا، مگر قوم کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم سے 30 ادارے منسلک ہیں، ان اداروں کے پاس اپنے وسائل ہیں، اور انہیں نیب کا بھی کوئی ڈر نہیں، اگر پیسہ ملنے میں تاخیر بھی ہو تو یہ منصوبہ متاثر نہیں ہو گا۔ کپتان کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے اس منصوبے میں قائدانہ کردار ادا کیا، اور اراضی کی فراہمی یقینی بنائی۔ مگر کپتان اعتراف کرتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے اس سلسلہ میں سستی برتی، اسے بھی پنجاب حکومت کی تقلید کر کے نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے منصوبے میں تیزی لانی چاہیے، کپتان ہر مکان پر 3 لاکھ سبسڈی دینے کا بھی کہہ رہے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سکیم سب سے کم شرح مارک اپ کے تحت پائیہ تکمیل تک پہنچے گی۔
کپتان جی آپ کا جذبہ لائق تحسین ہے، لیکن ماضی میں بھٹو دور میں ملک بھر کے دیہی علاقوں میں غریب عوام کو 7 مرلہ سکیم کا آغاز کیا گیا، اور پھر جونیجو دور میں دیہی علاقوں میں 7 مرلہ سکیم اور شہر کے قریب بیوگان میں 3 مرلہ سکیم شروع کی گئی تھی، کپتان جی ریکارڈ کا ملاحظہ کیا جائے تو سابقہ ادوار میں ملک میں جتنی بھی ہائوسنگ سکیمیں شروع کی گئیں ان میں اکثریت سیاستدانوں نے اپنوں کو نوازا، غیر قانونی الاٹمنٹیں ہوئیں، حتیٰ کہ ایسے بھی شواہد ملے کہ گا?ں میں اثر رسوخ رکھنے والے زمینداروں کے ملازموں کے پورے کنبے کے نام پر پلاٹ الاٹ کرائے گئے، بعد ازاں ان پلاٹوں کے انتقالات زمینداروں نے اپنے اور اپنے بچوں کے نام منتقل کرا دیئے۔ کپتان جی وہ پلاٹ گو کہ مفت تقسیم کیے گئے تھے لیکن اب جو ہائوسنگ سکیم شروع ہو رہی ہے، اس میں مکان تعمیر کر کے دیئے جا رہے ہیں اور ہر مکان پر تین لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، تو کپتان جی دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بارپھر آپ کی جماعت کا ہر صاحب حیثیت اپنوں اپنوں کو نہ نواز دے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سستی ہائوسنگ سکیم کے چیک اینڈ بیلنس کے لئے اعلیٰ سطحی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو ہر اس امر کا تعین کریں کہ جو شخص مکان تعمیر کر رہا ہے وہ اس کی حیثیت رکھتا ہے نیز یہ کہ کیونکہ ماضی میں پلاٹ تقسیم کیے گئے تھے اور اب مکانات دیئے جا رہے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ مکانات میں استعمال ہونے والے میٹریل پر بھی چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت ہے، ایسی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو ہر علاقہ میں نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے بننے والے مکانوں میں استعمال ہونے والے میٹریل پر نظر رکھیں، ورنہ کپتان جی بے رحم ٹھیکیدار مافیا غیر معیاری میٹریل استعمال کر کے حکومت کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی اور مستقبل میں کئی منصوبوں میں ایسا ہو چکا ہے۔ تو کپتان جی ذرا سنبھل کے اور اپنے ارد گرد نظر ضرور رکھیے گا تا کہ قومی سرمایہ کا ضیاع نہ ہو۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: