برہان الہٰی ذات مصطفیٰﷺ

یایھا الناس قد جا ء کم برھان من ربکم ۔ (سورۃ النساء ،174)’’ اے لوگو! بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک برہان آگیا ۔‘‘
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی نو انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! تمہارے پاس ایک برہان آگیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برہان کا معنی کیا ہے ۔ چنانچہ لغت عربی کی مشہور کتاب ’’المنجد ‘‘ میں ہے :البرھان ۔’’دلیل حجت۔المعجم الوسیط ۔ : البرھان ، الحجۃ البینۃ۔ ’’روشن دلیل ‘‘
تفسیر:اب دیکھتے ہیں کہ مفسرین کرام کے نزدیک برھان سے مراد کیا ہے تو سنئیے ! یا یھا الناس قد جا ء کم برھان حجۃ من ربکم علیکم وھو النبی ﷺ ۔’’ اے لوگو! بیشک تمہارے پاس رب کی طرف سے برہان یعنی دلیل وحجت آگئی اور وہ دلیل ہے نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ کی ذات با برکات ۔‘‘ (تفسیر جلالین زیر آیت مذکورہ )
اسی طرح تفسیر ’’جامع البیان ‘‘میں ہے :قد جا ئکم برہان من ربکم یعنی محمد ﷺ او القرآن وقیل المعجزات ۔’’اس آیت میں برہان سے مراد محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں یا قرآن مجید ۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ برہان سے مراد معجزات نبوی ﷺ ہیں۔‘‘خلاصہ یہ ہوا کہ بعض مفسرین کے نزدیک برہان سے مراد معجزات نبوی ﷺ ہیں اور بعض کے نزدیک برہان سے مراد خود ذات نبوی ہے جو سراپا معجزہ ہے ۔
آ یت مقدسہ کا ایک ایک لفظ غور طلب اور معنی خیز ہے ۔یا یھا الناس ۔اے لوگو ۔’’الناس ‘‘۔میں تمام آدم خواہ کسی بھی کیفیت و حالت کے ہوں ،مومن ہو ں یا کافر ،یہودی ہوں یا عیسائی ، سکھ ہو ںیا ہندو ہوں یا مجوسی سبھی شامل ہیں ۔سب سے خطاب ہے ۔
اللہ نے فرمایا !اے بنی آدم! میرے محبوب صرف خطۂ عرب کے لئے تشریف نہیں لائے ،صرف قریش مکہ کی اصلاح کے لئے نہیں آئے ۔کسی خاص علاقے کے لئے مبعوث نہیں ہوئے ۔بلکہ اے اولاد آدم ! حضور ﷺ تم سب کی طرف تشریف لائے ۔تم سب کی طرف رسول بن کر آئے ،ان سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے وہ کسی خاص علاقے یا کسی خاص قوم کے لئے آئے ۔لیکن حضور ﷺ کی نبوت و رسالت عالمگیر ہے کہ آپ ﷺ قیامت تک کے لئے سب لوگوں کی طرف رسول بن کر آئے ،سب لوگوں کی طرف ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کی طرف ۔
جیسا قرآن حکیم نے فرمایا:وما ارسلنٰک الا رحمۃ اللعٰلمین۔’’اے محبوب ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔‘‘اور آپ ﷺ نے خود فرمایا :ارسلت الی الخلق کافۃ۔’’مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ۔‘‘تو یا یھا الناس ۔سے خطاب قیامت تک کے لئے روئے زمین کے انسانوں سے ہے ۔قد جا ء کم ۔’’یقینا آگیا تمہارے پاس ‘‘یہ کلمہ بھی بڑا معنی خیز ہے ۔حضور ﷺ کے حوالے سے قرآن مجید فرقان حمید میں ۔ جا ء اور ارسلنا کے کلمات متعدد مقامات پر آئے ہیں ۔
۱: یایھا الناس قد جآء کم الرسول بالحق من ربکم ۔۲: یا اھل الکتاب قد جا ئکم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون ۔۳: قد جا ء کم من اللّٰہ نور۔
۴: لقد جا ء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم ۔ان آیات بینات میں رسول اکرم نورِ مجسم ﷺ کے تشریف لانے کا ذکر ہے کہ اے دنیا والو! تمہارے پاس نبی آخر الزمان ﷺ مختلف شانوں کے ساتھ تشریف لے آئے ہیں ،تمہارے پاس آگئے ہیں ۔اسی طرح :۱:ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق۔۲:یا یھا النبی انا ارسلنٰک شاہدا و مبشرا و نذیرا۔۳:وما ارسلنٰک الا کافۃ للناس۔ان آیات میں ارشاد ہوا ،ہم نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام لوگوں کی طرف شاہد مبشر اور نذیر بنا کر ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔
نکتہ یہ ہے :کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہ فرمایا :’’کہ اے دنیا والو! نبی آخرالزمان ان شانوں کے ساتھ تم میں پیدا ہوئے بلکہ فرمایا وہ تمہارے پاس تشریف لائے ،ہم نے انہیں بھیجا ہے ۔اب آتاوہ ہے اور بھیجا وہ جاتا ہے جو پہلے کہیں موجود ہو ،آیت کے پہلے جملے نے بتا دیا کہ رسول اکرم ﷺ پہلے کہیں اور موجود تھے وہاں سے آئے ہیں۔ پھر سوال پیدا ہوا کہاں موجود تھے ،کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟ تو اس کا جواب اسی مذکورہ آیت کے اس جملہ سے مل گیا ۔من ربکم نبی اکرم نور مجسم ﷺ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود تھے ۔خاص مقام قرب میں تھے ،وہاں سے تشریف لائے ہیں ۔وہاں کب سے تھے ۔ کس حال میں تھے ؟
آپ ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں :کنت نورا بین یدی ربی قبل خلق اٰدم باربعۃ عشر الف عام ۔’’میں آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے رب قدوس کے حضور ایک نور تھا ۔‘‘(زرقانی ۔نشر الطیب)
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ عالیہ میں عرض گزار ہوا ، کہ حضور ارشاد فرمائیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اے جابر وہ تیرے نبی کا نور تھا ،جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا ،پھر اس نور میں ہر طرح کی بھلائی پیدا فرمائی ،پھر اس نور محمدی ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ،تو جب اللہ تعالیٰ نے نور محمدی کو پیدا فرمایا تو اسے اپنی نگاہ رحمت کے سائے میں بارہ ہزار سال تک رکھا ۔
پھر ایک طویل حدیث بیان کرنے کے بعد آخر میں یہ بھی فرمایا :’’کہ جب میرے بارے میں ارادہ الہٰی ہو تو اس نے مجھے تمام رسولوں کا سردار اور خاتم الانبیاء بنا کر اس دنیا میں میرا ظہور فرمایا‘‘
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اکرم نورِ مجسم ﷺ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی صدیوں پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام قرب میں بحیثیت نور اور بحیثیت رسول و نبی موجود تھے ۔پھر تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں خاتم الانبیاء و مرسلین کے امتیازی وصف کیساتھ بے مثل بشریت کے لبادے میں اس دنیا میں تشریف لائے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہوا ۔قد جا ء کم برھان من ربکم ۔’’یقینا آگیا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک برہان ایک دلیل۔‘‘
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ’’برہان‘‘ کا لغوی معنی ہے روشن دلیل یا حجت سراپا معجزہ اور یہاں برہان سے مراد خود ذات نبوی یا معجزات نبوی ﷺ ہے ۔البتہ اکثر مفسرین کرام کے نزدیک برہان سے مراد خود ذات مصطفوی ﷺ ہی ہے جن کا وجود سراپا معجزہ ہے جن کی صورت بھی معجزہ ہے اور سیرت بھی ۔رب قدوس کہیں صورت کی قسمیں ارشاد فرماتا ہے ۔’’والضحیٰ ‘‘ ’’رخ مصطفیٰ کی قسم‘‘ اور کہیں سیرت کے بارے میں خود ہی گواہی دیتا ہے :وانک لعلیٰ خلق عظیم ۔’’اے محبوب! آپ سیرت و کردار کے لحاظ سے خلق عظیم کی بلندیوں پر ہیں ۔‘‘فرمایا:’’تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک دلیل آگئی ۔‘‘
اسلام کا دعویٰ:لیکن دلیل کو پہلے تو نہیں آنا چاہئے پہلے دعویٰ ہو گا اس دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئے دلیل ہو گی ۔تو قارئین کرام ! اسلام کا دعویٰ ہے بلکہ خود خدا کا دعویٰ ہے :’’لا الہ الا اللہ ‘‘اس دعویٰ کی دلیل اٹل برہان قطعی و حتمی ہے ۔’’محمد رسول اللہ ‘‘
نبی اکرم نورِمجسم ﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر اور رسول ہیں ، آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر آخری دلیل کے طور پر تشریف لائے ہر نبی ہر رسول اللہ تعالیٰ کے وجود اور اسکی وحدانیت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص سے پا ک ہے ، اس ذات باری تعالیٰ پر جو چیز دلالت کرنیوالی ہو اور جو اس ذات باری تعالیٰ پر دال ہو ،اسے بھی ہر عیب و نقص سے پاک ہونا ضروری ہے ۔کیونکہ جس دعویٰ کی دلیل ناقص ہوتی ہے وہ دعویٰ خود کبھی کامل نہیں ہو سکتا ۔یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود پر اور وحدنیت پر بننے والی ہر دلیل کو زمانے اور وقت کے تقاضے کے مطابق مکمل اور کامل بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔
قارئین محترم ! شریعتیں بدلنے کے باوجود دین ہمیشہ ایک دین اسلام ہی رہا ۔ان الدین عند اللّٰہ الاسلام۔اور دعویٰ اسلام بھی ایک ہی رہا ۔’’لا الہ الا اللہ ‘‘
اسی دعویٰ کی دلیل بن کر حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے ۔کبھی نوح علیہ السلام آئے ۔کبھی ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل علیہ السلام آئے ۔کبھی اسحق علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام آئے ۔کبھی موسیٰ علیہ السلام ،سلیمان علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام آئے ۔دعویٰ ایک رہا ۔دلیلیں بدلتی رہیں ۔
کبھی دعویٰ مع دلیل یوں ہوا :’’ لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ ‘‘کبھی ’’لا الہ الا اللہ نوح نجی اللہ ‘‘ کبھی لا الہ الا اللہ ابرا ہیم خلیل اللہ ،اور کبھی ’’لا الہ الا اللہ اسماعیل ذبیح اللہ ‘‘ کبھی ’’لا الہ الا اللہ دائود خلیفۃ اللہ ‘‘ اور کبھی ’’لا الہ الا اللہ موسیٰ کلیم اللہ ‘‘ کبھی لا الہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ ‘‘ آخر میں جب میرے اور آپ کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دعویٰ توحید پر برہان اتم اور دلیل اکمل بن کر تشریف لائے تو دعویٰ مع الدلیل یوں ہوا:’’لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘
دعویٰ ایک رہا :ہر دور میں دعویٰ ایک رہا اس دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئے دلیلیں بدلتی رہیں ۔جن کے ذہن تعصب و عداوت سے پاک تھے انہوں نے پہلی دلیل سے دعویٰ کو مان لیا ،لیکن اکثر نے رد کر دیا ۔اللہ تعالیٰ نے دوسری دلیل دی چند نے مانا باقی سب نے رد کر دیا ۔دلیلیں واضح اور شفاف ہونے کے باوجود لوگ انکار کرتے رہے یا تو قلوب و اذہان میں عداوت تھی ، یا سینہ میں کینہ تھا۔ یا طبیعت میں کثافت تھی ،یا مقدر میں شقاوت تھی ،کہ انکار پہ اصرار ہی ان کی عدات تھی یا دماغوں میں جہالت تھی ،کہ دلیل ہی ان کی سمجھ میں نہ آئی ،بہر حال انکار کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے ۔
آخری دلیل زیادہ پائیدار:دیکھو آدمی دعویٰ کرتا ہے پھر دعویٰ کی تائید میں مختلف دلیلیں دیتا ہے ،رد کر دی جاتی ہیں ضروری نہیں دلیل جھوٹی یا غلط ہو ،سچی ہونے کے باوجود رد کر دی جاتی ہے ۔ کیوں؟ یا دلیل پیچیدہ ہوتی ہے سمجھ میں نہیں آتی ،یا سننے والے کا ذہن شفاف نہیں ہوتا، مدعی کے خلاف بغض ہوتا ہے سینہ میں کینہ یا تعصب ہوتا ہے یا رشوت لی ہوتی ہے ،کوئی بھی وجہ ہو دلیل صحیح ہونے کے باوجود ردکر دی جاتی ہے ،لیکن آخر ایک وقت ایسا آجاتا ہے مدعی سارا زور صرف کر دیتا ہے ،ساری توانائیاں خرچ کر دیتا ہے ،دلیل کو اتنا نکھار کر اور اتنا واضح کر کے پیش کرتا ہے ،اتنی جامع ،مانع ،کامل اور اکمل بنا کر پیش کرتا ہے ،خواہ رشوت ہی لی ہو ۔ خواہ عداوت ہو ،آدمی دلیل کو ماننے پر اور پھر دلیل کی روشنی میں دعویٰ کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
توحید خدا وندی پر مختلف انبیاء کرام دلیل بن کر آتے رہے دو چار مانتے رہے رد کر دئے جاتے رہے ۔آخری دلیل اللہ تعالیٰ نے اتنی جامع ،مانع ،کامل اور اکمل ،اعلیٰ و افضل ، اہم و اتم بنا کر بھیجی کہ اے جہان والو! ایک کے بعد دوسری ،دوسری کے بعد تیسری دلیل بھیجتا رہا، اب یہ آخری دلیل بھیج رہا ہوں ،خوب روشن کر کے اور خوب واضح کر کے بھیج رہا ہوں ۔اب اس دلیل کو مانو گے تو فبھا اور نہ اس انتظار میں رہنا کہ اس کا مل ترین دلیل کے بعد کوئی اور دلیل بھیجوں گا ۔اب مانو گے تو بچ جائو گے۔ نہیں مانو گے تو تمہیں نیست و نابود کر دوں گا، قیامت بر پا کر دوں گا۔لہٰذا فرمایا:یا یھا الناس قد جا ء کم برہان من ربکم ۔ ’’اے لوگو! تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک دلیل آگئی ۔‘‘وہ دلیل جو سراپا معجزہ ہے پہلے انبیاء کرام صلوات اللہ تعالیٰ علیہم کو انفرادی طور پر جتنے بھی معجزات ملے وہ سارے آپﷺ کو عطا ہوئے ۔
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ کو بیشمار معجزات ملے ،بلکہ حق یہ ہے کہ حضور سراپا معجزہ ہیں ۔پہلے انبیاء کرام کی ذات معجزہ نہ تھی ، بلکہ کسی کے ہاتھ میں معجزہ ،کسی کے دم میں معجزہ ،کسی کی لاٹھی میں معجزہ ، نبی آخر الزمان ﷺوہ ہیں کہ جن کی ذات بھی معجزہ ، صفات بھی معجزہ ، صورت بھی معجزہ ،سیرت بھی معجزہ ،آپکی نورانیت بھی معجزہ ،آپکی بشریت بھی معجزہ ،آپکا حسن و جمال معجزہ ،آپ کا مرتبہ و کمال معجزہ ، جاہ و جلال معجزہ ،جو دونوال معجزہ ،آپکا کردار معجزہ، رخسار معجزہ ،گفتار معجزہ ،رخ والضحیٰ معجزہ ،آ پکی زلف و اللیل اذا سجیٰ معجزہ ، دیگر نبی آئے تو قرآن نے کہا معجزات لے کر آئے ، حضور پر نور ﷺآئے تو فرمایا یہ معجزہ بن کر آئے ،باقی نبی دلیلیں لے کر آئے ،حضور ﷺ دلیل بن کر آئے ۔
دعویٰ خدا وندی پہ آپ ﷺ آخری دلیل کے طور پر تشریف لائے ،ا للہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین بنا کر اور دلیل کو خوب واضح کر کے دنیا میں مبعوث فرمایا ،یہاں تک کہ جو آپ کو دیکھتا گیا مانتا چلا گیا۔ حضور ﷺجب دلیل خدا وندی بن کر تشریف لائے ، پتھر بھی آپ کا کلمہ پڑھنے لگے ،درخت صلوٰۃ و سلام عرض کرنے لگے ،جانور آپ کو سجدہ کرنے لگے ، چاندکو اشارہ ہو ا شق ہو گیا ، سورج مقامِ عصر پر لوٹ آیا ہے ، انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ۔دعویٰ کی تائید میں دی گئی دلیل کو دعوے کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔
تو قارئین محترم !دعویٰ ہے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ اسکی دلیل ہے۔ ’’محمد رسول اللہ ‘‘
’’لا الہ الا اللہ ‘‘کلام ہے ۔’’محمد رسول اللہ ‘‘ متکلم ہے ۔ ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ہدایت ہے ، ’’محمد رسول اللہ ‘‘ ہادی ہے ۔
’’ لا الہ الا اللہ‘‘شہادت ہے ،’’محمد رسول اللہ ‘‘ شاہد ہے ۔ ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ تمہید ہے ،’’محمد رسول اللہ ‘‘ تکمیل ہے ۔
’’ لا الہ الا اللہ‘‘ مصور ہے ،’’محمد رسول اللہ ‘‘ تصویر ہے ۔
قارئین ! دعویٰ اور دلیل میں مطابقت ضروری ہے ۔چونکہ شان الوہیت پر آپ آخری دلیل تھے ،مناسبت اور مطابقت کی بہار تو دیکھو :’’ لا الہ الا اللہ‘‘ میں حرف بارہ ،’’محمد رسول اللہ ‘‘ میں بھی حرف بارہ ۔’’ لا الہ الا اللہ‘‘ میں نقطہ کوئی نہیں ، ’’محمد رسول اللہ ‘‘میں بھی نقطہ کوئی نہیں ۔’’ لا الہ الا اللہ‘‘ میں لفظ اللہ مشدد ،’’محمد رسول اللہ ‘‘ میں لفظ محمد مشدد۔لفظ ’’ اللہ ‘‘ اسم جلالت کے حرف چار ،لفظ ’’محمد ‘‘ کے حرف بھی چار۔لفظ اللہ اسم جلالت میں دو حرف احاد ہیں ۔دو عشرات ،لفظ محمد میں بھی دو حرف احاد ہیں دو عشرات ۔
لہٰذارب قدوس کے دعویٰ و حدانیت پر آ پ ایسی دلیل ہیں کہ جہاں ہزار تعصب و ہزار عداوت کے با وجود گنجائش انکار نیست۔کیونکہ دعویٰ بھی باکمال ہے اور دلیل بھی بے مثال۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: