ستم بالائے ستم

میں ایک گھر میں سپارہ پڑھانے جاتی ہوں۔دو بچیاں ہیں ان کی اول دوئم میں پڑھنے والی،وہ صبح سکول جاتی ہیں۔ایک بجے انہیں ٹیوشن جانا ہوتا ہے۔چار بجے سپارہ پڑھتی ہیں۔چھ بجے کراٹے کی کلاس اور سات بجے جم،ہفتے میں تین دن سوئمنگ۔اس طرح ان کا پورا دن ایسے گزرتاہے جیسیکوئی روبوٹ ہوں جس کے اندر کوئی پروگرام فیڈ کر دیا گیا ہو۔اور اسکے مطابق ہی انہیں چلنا ہے اس سے آگے پیچھے نہیں ہونا۔کبھی کبھار اپر کلاس کی ان دو بچیوں پہ بہت ترس آتا ہیان کے والدین کے پاس تو ان کو دینے کے لیئے وقت نہیں ہوتا،
وہ سارا دن دوسرے لوگوں کے رحم وکرم پہ ہوتی ہیں اگرچہ والدین ان کی زندگی کو ایک ترتیب دے کر مطمئن ہیں مگر میری نگاہ میں یہ بھی چاہلڈ لیبر کی ایک قسم ہے۔لیکن آج جس چیز نے مجھے قلم اٹھانے پہ مجبور کیاوہ تین بچیاں ہیں جو مزکورہ بالا گھر میں انہی چھوٹی بچیوں کی دیکھ بھال پہ مامور ہیں۔عائشہ،صدف اور ایمن تینوں بہنیں ہیں عائشہ اور صدف گھر میں موجود بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں جبکہ ایمن دادی اماں کے کام انجام دیتی ہے۔جب پہلے روز میں ان بچیوں سے ملی تو مالکوں اور نوکروں کے بچوں میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔سوائے لباس کے۔۔مگر جیسے جیسیدن گزرتے گئے وہ بچیاں پرت در پرت کھلتی گئیں۔عائشہ کی عمر دس سال ہے وہ سب سے چھوٹی ہے اور سب سے جلد مجھ سے مانوس بھی ہوئی۔میں نے اس سے پوچھا: آپ تو خود اتنی چھوٹی ہو پھر آپ کی ماما نیآپ کو انکے ہاں کام کے لیئے کیوں بھیجا۔نوعمر پھول کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔،آپ اسی کی زبانی سنیئے۔
پتہ ہے آپی میرے ابو نے ایک انکل سے قرض لیا تھا میں اورمیری بہنیں امی کو زیادہ سارے پیسے جمع کر کے دیں گے جس سے وہ ہمارے ابو کا لیا ہوا قرض واپس کریں گی۔پھر ہم اپنے گھر کے لیئے پیسے جمع کریں گے۔اتنے خرچے ہوتے ہیں گھر کے،گھر کا کرایہ،بجلی، گیس کا بل، پانی کا بل،پھر میرے ابو بیمار ہیں ان کی دوائیں ہیں میری ماما خرچے پورے کرتے کرتیتھک جاتی ہیں اس کے باوجود جب بیس تاریخ ہوتی ہے ناں تو ماما کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ان دنوں میں ہم ایک وقت ہی کھانا کھاتے ہیں اور ماما کو تنگ تو بالکل بھی نہیں کرتے۔آپ تو اتنی بڑی ہیں،آپ کو تو پتہ ہے ناں ماں کو اللہ نے کتنا بڑا دل دیا ہیوہ ہم سے چھپ چھپ کر روتی رہتی ہیں اور ہم ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے ہمیں کچھ پتہ ہی نہ ہو۔میں چھوٹی سی بچی کے منہ سے اتنی بڑی بڑی باتیں سن کر حیران تھی میں نے اس سے پوچھا:عائشہ آپ کا سکول جانے کو جی نہیں چاہتا۔
کیوں نہیں چاہتا۔
پہلے میں سکول بھی جاتی تھی۔مگر جب میں تھری کلاس میں گئی تو میرے ابو بیمار ہو گئے۔سکول کی فیس جمع کرونے کے پیسے نہیں تھے ماما نے سکول چھڑوا دیا۔کرونا کے دوران تو کام بھی نہیں تھا اور ہماری پرنسپل کہتی تھیں پورے پانچ ماہ کی فیس جمع کروائیں۔اب جب ہم نیا گھر لے لیں گے تو ماما مجھے سرکاری سکول میں داخل کروائیں گی،آپ کو پتہ ہے وہاں کوئی فیس نہیں ہوتی اور کتابیں بھی سکول والے دیتے ہیں۔آپی میں تو روزانہ سپارہ بھی پڑھتی ہوں بس کسی کو پتہ نہیں چلتا آپ اندر زارا اور زرنش کو پڑھاتی ہیں میں با ہر بیٹھ کر سنتی رہتی اور آپ کے ساتھ ساتھ
پڑھتی بھی رہتی ہوں اس طرح میں بھی قران پڑھ لیتی ہوں۔
؎حیف اے دور غریبی
تیرے ستم سے پناہ
تو نے گل نو خیز کو
پتھر بنا دیا
میری آنکھوں میں پانی آگیا زبان سے الفاظ کہیں کھو گئے ہمارے یہ معصوم بچے کتنی مشکلات سے گزر رہے ہیں،ہر گھر میں کہیں تو کوئی کام کرنے والی بچی اور کہیں کوئی ورکشاپ میں کام کرنے والا لڑکا۔ہر کوئی اپنے سینے میں کوئی نہ کوئی کہانی لیئے پھرتا ہے۔حالانکہ دیکھا جائے تو ہمارے مکل کے حالات تو عرصہ دراز سے ایسے ہی چلے آرہے ہیں۔مگر کرونا وبا کے بعد حالات نے اور بھی سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔گھروں کے سربراہ نوکریوں سے جو محروم ہوئے بہت سے ہونہار بچے علم کی دولت سے محروم ہو گئے۔سکولوں کی پالیسیاں،چھ ماہ کی فیس کی ادائیگی،اساتذہ کی تنخواہوں پہ
بندش اوپر سے سونے پہ سہاگہ ہماری حکومت،۔۔کون کون سے معاملات ہیں جن پہ رویا جائے۔نہ جانے کب تک ہم خود کو ٹھیک کرنے کی بجائے ملبہ دوسروں پہ ڈالتے رہیںں گے۔نہ جانے کب تک یہ ستم بالائے ستم کی یہ کہانیاں نسل در نسل چلتی رہیں گی۔ان مسائل کو حل کرنے کی تجاویز تو بے شمار ہیں مگر عمل کرنے والے ندارد۔۔۔مسائل تب ہی حل ہو سکتے جب ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمت رکھتے ہوں۔خود کو سدھارنے کی خواہش دلوں میں زندہ ہو۔ورنہ نہ جانے کتنی عائشائیں اور کتنے علی،چھوٹے اور چھوٹیاں بن کر اپنی زندگیاں گزارنے پرمجبور ہوں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: