Marina Maryum Khan Today's Columns

مستحکم معیشت از مرینہ مریم خان

Marina Maryum Khan
Written by Todays Column

گرچہ کو رونا کی وبا کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید نقصان کا سامنا کر نا پڑا اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں معاشی اعدادو شمار زبوں حالی کا شیکار رہے تا ہم پاکستان اللہ کے فضل سے ان چند ممالک میں شامل ہے جو نہ صرف محدودوسائل کے ساتھ کورونا کے خلاف جنگ لڑا بلکہ معیشت بھی ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوتی نظر آئی۔
یوں تو ہر برسراِقتدار حکومت کے مخالفین عام طور پر مہنگائی کا بیانہ بناکر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں مگر موجود حکومت کو خاص طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی بڑی وجہ عالمی معیشت پر کورونا کا دباو اور اندرونی سیاسی معاملات ہیں۔ اس صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ حکومت کی اچھی اور مثبت کاوشوں کو نظر اندازنہ کیا جائے او ر عالمی تناظر میں دیکھا جائے۔
حکومت پاکستان نے مہنگائی کے خاتمے کے لیے جن لائق تعریف کاموں کی طرف توجہ دی اس میں سب سے اہم بروقت لاک ڈاون اور کورونا کی روک تھام تھا ۔جس کی مد میں حکومت نے نہ صرف کورونا کہ ہولناکیوں سے غریب عوام کو بجایا اس کے ساتھ ہی مستقبل قریب کے لیے ویکسین درآمد کرنے کا بھی کام شروع کر دیا۔ اس کاوش کا سب سے زیادہ فائدہ عوام کو اس ز من میں ہوگا کہ اگر کوونا کی لہر میں شد ت اختیار ہو تو ملک کو اور معیشت کو بند کرے کی ضرورت نہ پڑے اور ملک معاشی دھچکے سے بچ سگے۔حکومت کے دوسرے چند اقدامات میں صنعت کی ترقی بھی شامل ہے۔ حکومت کی موجودہ پالیسوں کی وجہ سے نہ صرف رکی ہوئی معیشت کا پہیہ جاری ہوا بلکہ معیشت مضبوط ہوئی ہے۔ اس سے ملکی درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور برآمدات میں اضافہ ملک کے لیے سب سے زیادہ

فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں پہلی بار پاکستان سٹاک ایکسچینج نے 46 ہزار حد پار کرلی جو کہ اپریل 2018کے بعد پہلی جنوری 2021 میں 46385 تک پہنچ گیا۔
وزیراعظم کے کامیاب جوان پروگرام کے تحت بھی نوجوانوں کو اپنے کاروبار میں سہولت فراہم کی گئی ہے اور مختلف کاروباروں کے لیے 4343 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اور اس کے نیتجہ میں افراطِ زر میں نمایاں کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 5.7 فیصد رہ گئی۔ اس طرح کاروبار کی نشوونما کے لیے عالمی کاروبار کے مقابلے میں روپے کی قیمت کا بھی اس طرح تعین کیا گیا کہ جس سے ملکی معیشت میں اضافہ ہو۔ مذید پاکستان میں اشیا بنانے کی مد میں معیشت کو
فروغ مِلا۔
عالمی مالیاتی ادارے ، ائی ایم ایف(IMF) اور ورلڈ بینک سے بھی رابطے ماضی نسبت بہتر ہوئے ہیں اور مذید قرضہ بھی مِل گیا جس سے معیشت کسی بڑے خسارے سے محفوظ رہی ہے۔ حکومت کی سماجی اور فلاحی سکیموں کی وجہ سے غربت کے خاتمے کے لیے بلاسود قرضے بھی غریب عوام کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئے ہیں۔ اسی طرح 2021معاشی وسائل میں بیرون ملک سے آنے والے ذرِ مبادلہ میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس میں شرح نمو 24% دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت عالمی بنک کے اندازے مے مطابق ایک فیصد بڑھی جو کہ خو ش آئند ہے۔
حکومت پاکستان نے خاص طور پر تعمیراتی شعبہ کا بحال کیا اور بینکوں کی مدد سے عالم شہریوں کو آسان اقساط پر قرضے جاری کے جس سے لوگوں کو اپنا گھر بنانے میں آسانی ہوئی اور اس صنعت سے منسلک ہزاروں آفراد کو روزگار مہیا ہوا۔
اگر ان تمام ادادوشمار زیرغور رکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کِہ حکومت پاکستان نے انتہائی مشکل

حالات میں بھی گِرتی ہوئی معیشت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا اللہ کی آزمائش ہے اور اللہ کی مدد سے ہی حکومت پاکستان اس کی روک تھام اور ملکی ترقی میں کامیابی کے قابل ہوئی۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: