کشمیری آبادی کے تناسب میں تبدیلی

پچھلے سال بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت نے پانچ اگست کو آئینی دہشت گردی کاا رتکاب کرتے ہوئے کشمیر بارے آرٹیکل تین سو ستر اور پینتیس اے حذف کر دیئے اور ریاست جموں و کشمیر کو اپنی جغرافیائی حدود میں شامل کر لیا۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قرادادوں کی صریح خلاف ورزی تھا جن میں کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کاا ختیار کشمیری عوام کو تفویض کیا گیا تھا، مگر بھارت نے سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کو ٹھکرا یا اور اپنے آئین کی بھی دھجیاں بکھیر ڈالیں۔
بھارت کا مقصد یہ تھا کہ وہ آئینی رکاوٹ دور کر دی جائے جس کے تحت غیر کشمیری باشندے کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتے تھے اور نہ ریاست جموں و کشمیر کی شہریت حاصل کر سکتے تھے۔ مگر آئینی جارحیت کے بعد بھارتی ہندوتوا حکو مت نے کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے داخلے کا دروازہ کھلوا دیا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کشمیر ی نوے لاکھ مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے اور ان پر ہندو اکثریت مسلط کر دی جائے۔
مودی سرکار ہٹلر کے نازی فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ ہٹلر کا فلسفہ یہ تھا کہ جرمن قوم کو نسلی برتری حاصل ہے چنانچہ اس نے بے دردی سے غیر جرمن باشندں کا قتل عام کیا۔انہیں مشقتی کیمپوں میں گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا اور جو سخت جان نکلے انہیں گیس چیمبرز میں ڈال کر پگھلا دیا جاتا اور بجلی کے جھٹکوں سے کوئلہ بنا دیا جاتا۔
اسرائیل نے فلسطین میں اسی مذموم فار مولے پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا، یہ لوگ لبنان شام عراق اردان مصر اور لیبیا تک پھیلے ہوئے مہاجر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے بہیمانہ طریقے سے فلسطینی نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اورفلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کر کے فلسطینیوں کو غزہ اور غر ب ارد ن کی چھوٹی سی زمینی پٹی میں محصور کر دیا ہے اور ان سے بیت المقدس بھی چھین لیا ہے جہاں وہ اپنا دارالحکومت قائم کر رہا ہے۔
بھارت اسی ڈگر پر چل کر کشمیریوں کی دو نسلوں کو تہہ تیغ کر چکا ہے، ا سنے چن چن کر نوجوانوں کو شہید کیا۔ اور ان کے مکانوں، ان کی دکانوں اور ان کے سیبوں کے باغات پر ہندوئوں کا قبضہ کروا رہا ہے۔ بھارت کے یہ تمام ا قدامات بنیادی انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منافی ہیں اور یو این کے متعدد ذیلی اداروں کے منظور شدہ قواعد کی رو سے وہ جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔
ستمبر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت کے خلاف کشمیرا کی آبادی کے تناسب کو درہم برہم کرنے پر جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے، ایسے مقدمے یوگوسلاویہ کے قاتلوں کے خلاف چلائے جا چکے ہیںا ور انہیں قرار واقعی سزائیں سنائی گئیں۔
مسئلہ کشمیر پر ترکی نے ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے۔ ترک صدر طیب اردوان دو سال سے جنرل اسمبلی میں کشمیریوںپر بھارتی جبر کی مذمت کر رہے ہیں اوراس مسئلے کو سلامتی کونسل کی قراردادوں نمبر 47, 51, 80, 96, 98,122, 126 کے مطابق پرا من استصواب کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں،پچھلے دنوں ترک حکومت کے نائب وزیر خارجہ علی ساہن نے کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کے خلاف ایک وڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا جس سے واشنگٹن سے غلام نبی فائی۔ مظفر آباد سے صدر سردار مسعود خان۔ انقرہ سے پاکستانی سفیر سجاد قاضی اور اسلام آباد سے وفاقی وزیر اطاعات و نشریات شبلی فراز نے خطاب کیا۔شرکائے کانفرنس کا متفقہ مطالبہ تھا کہ بھارت اپنے مذموم منصوبوں سے باز رہے اور کشمیرمیںآبادی کے تناسب کوتبدیل کر نے کی کوشش مت کرے ورنہ اس کے خلاف یو این چارٹر کی رو سے جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے ا ورا سے عالمی انسانی حقوق کی عدالت سے کشمیریوں کو انصاف فراہم کیا جائے ،کانفرس میں افتتاحی کلمات میں ترک میزبان علی ساہن نے کہا کہ بھارت جبرو تشدد سے کشمیریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان کی نسل کشی کر کے وادی میں ہندو اکثر یت بنانے پر تلا ہو اہے جس کی اجازت یواین چارٹر نہیں دیتا اور یہ ایک توجنگی جرم ہے جس سے بھارت کو فوری طورپر باز آنا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں نسلی تطہیر کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس نے شہریت کے نئے قانون کے تحت پچھلے چند ماہ میں ہزاروں غیر ریاستی اور ہندو باشندوں کو کشمیر کی شہریت دے دی ہے اور وادی کشمیر کا وسیع رقبہ صنعتی زون کے قیام کے بہانے ہتھیا لیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت ہرر وز وادی میں قتل عام کر رہا ہے۔ وہ کشمیریوں کی دونسلوں کو شہید کر چکا ہے اور اس نسلی تطہیر تربیت کے مذموم فعل سے اس کامنصوبہ ہے کہ مسلمان اقلیت میں رہ جائے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بھارت کو لگام دے اور کشمیریوں کی آزادی کا تناسب تبدیل کرنے کی اجازات بھی دی جائے ورنہ کل کو استصوب ہو بھی گیا تو اس کی ہندو اکثریت کے لوگ بھارت کے حق میں الحاق کا ووٹ دے کر سلامتی کونسل کی قراردادوں کامنہ چڑائیں گے۔ واشنگٹن میںمقیم ممتا زکشمیری حریت لیڈر غلام نبی فائی نے کہا کہ وہ عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ بھارت کو کشمیر میں نسلی تبدیل سے روکا جائے ورنہ ا سے عالمی جنگی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
یوں بھارت ہر گز رتے روز کشمیر کے مسئلے پر عالمی تنہائی کا شکار ہو رہے۔ اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت سے کشمیریوں کے گھروں میں آزادی کا سورج طلوع ہوکے رہے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: