نعت مصطفی ﷺ اور عصری تقاضے

جس طرح ہر دور میں زاویے اور لہجے بدل بدل کر نعت کہی گئی ،کہیں رنگ تغزل ابھرا ،کہیں حسن نظم نکھرا ،کہیں مسدس کے قالب میں اتری ،اور کہیں رباعی کے پیکر میں ڈھلی ،گلشن نعت کے ہر پھول کا رنگ دل آویزاور بو عطر بیز ہے ،عہد جدید بھی دولت نعمت سے مالا مال ہے ،ہر زبان میں نعت کہی جارہی ہے ،نئے عنوانات اور جدید اسالیب سامنے آرہے ہیں ،اور یہ منظر بہت خوش رنگ اور نور آہنگ ہیں ،عصر حاضر کے ذہن اور تقاضوں ،اور لمحہ موجود کے تناظر اور اطراف کو مدّ نظر رکھ کر نعت کہنے کی ضرورت اور اہمیت بڑھتی جا رہی ہے ،فضائل و شمائل سر آنکھوں پر مگر اب مسائل میں جھانک کر اسلوب تخلیق کرنا چاہیئے،اور ماشاء اللہ اس باب میں ہمارے متعدد شعراء داد ِ سخن دے رہے ہیں ،یہ انداز آج کی نسل کے لئے بہت appealing and relevantہے ۔
حضور ﷺ کے شخصی محاسن اور محامد کی کوئی حد نہیں ،اور آپ ﷺ کا وجود گرای بذات خود ایک آیئہ الہی اور معجزہ ربانی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی فکر ،جدو جہد اور تعلیمات کے نتیجے میں جو انقلاب برپا ہوا اور انسانیت کو ایک نیا وجدان اور شعور ملا اس کا معلوم انسانی تاریخ میں کوئی جواب اور بدل نہیں ۔ آج دنیا جن باتوں پر سب سے زیادہ زور دے رہی ہے ،مثلاََشرف انسانی ،مساوات ، بنیادی حقوق اور عظمت بشر وغیرہ یہ سب کچھ انقلاب محمدی ﷺ کا ثمر ہے اور وہ آپ ﷺ ہی ہیں جنہوں نے انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کیا ،بنی آدم کو رنگ و نسل اور علاقہ و زبان کے تعصبات سے آزاد کیا ،احترام آدمیت اور مساوات کی تعلیم دی ،ہر نوع کی ذہنی و فکری اور سماجی و سیاسی اور معاشی و معاشرتی غلامی سے نجات عطا کی ، تمیز بندہ و آقا کا فلسفہ رد کیا اور شعور و آگہی کا درس دیا ،انہی تعلیمات کا نتیجہ کہ آج انسان اپنے آپکو، اپنے حق کو،اور اپنے شرف کو پہچانتاہے ورنہ یہی انسان صدیوںتک مختلف قسم کی غلامی کا اسیر رہا اور اسے نوشتئہ تقدیر سمجھ کر برداشت کرتا رہا آج بھی تفرقے ہیں،امتیازات ہیںاور مظالم ہیںلیکن بہ زور اور جبر ،انہیںکوئی ادنی سے ادنی آدمی جائز اور قانونی نہیں سمجھتا اور نہ انہیں کسی معاملے سے تقدس حاصل ہے ۔آج نعت کے ذریعے انہی باتوں کے ابلاغ کی ضرورت ہے اور سیرت نبوی ﷺ کے اس انقلابی پہلو کو عصری اسلوب میں پیش کر نا چاہیے ،کیونکہ یہ روح عصر اور فرمان امروز ہے ،متعدد شعراء اب اس رخ کونکھار رہے ہیں ،اور اس زاویے کو ابھار رہے ہیں ،یہ بہت حوصلہ افزا علامت اور بہت ہی نیک شگون ہے ،تاکہ نعت کے ذریعے تبدیلی کی لہر مزید زور پکڑے اور شعور انسانی اپنا سفر جلد مکمل کر لے ۔
یہ آہنگ ہمیں جوش ملیح آبادی ،احمد ندیم قاسمی ،نعیم صدیقی ،ضمیر جعفری،حفیظ تائب ، ماہر القادری ،صبا متھراوی ،حفیظ الرحمن احسن اور نظر زیدی کے ہاں بہت نمایاں نظر آتا ہے ،اسے اور واضح کر نے کی ضرورت ہے ۔محترم حفیظ تائب اپنا اور امت کا درد یوں بیان کرتے ہیں :
دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی ﷺ ایک شیریں جھلک ،ایک نوریں ڈلک،تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیﷺ
روح ویران ہے ،آنکھ حیران ہے ،ایک بحرا ن تھا ،ایک بحران ہے گلشنوں،شہروں،قریوں پہ ہے پر فشاں،ایک گھمبیر افسردگی یا نبی ؑ
احمد ندیم قاسمی کچھ اس طرح بات کرتے ہیں :
اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا
تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی اب جو تا حشر کا فروا ہے وہ تنہا تیرا
ایک بار اور بھی یثرب سے فلسطین میں آیا راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصی ٰ تیرا
سید ضمیر جعفری کا آہنگ ملاحظہ ہو :
تمدن کو شائستگی تو نے بخشی محبت، کرم، دوستی، نام تیرا
شب زندگی کو سحر کرنے والے ہر اک دور کی روشنی نام تیرا
اسی سے فروزاں خیالوں کے رستے خبر ، آگہی، زندگی، نام میرا
جوش کہتے ہیں:
تیرے قدم پہ جبہ سا روم و عجم کی نخوتیں تیرے حضور سجدہ ریز چین و عرب کی خود سری
تیرے کرم نے ڈال دی طرح خلوص و بندگی تیری پیغمبری کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے
صبا متھراوی کی ایک نعت کے چند اشعار :
کہا انسانیت نے یہ میرے چہرے کی رونق ہے کہا تہذیب نے یہ ہے عروج علم و فن میرا
تمدن نے کہا یہ زندگی ہے زندگی میری معیشت بول اٹھی یہ ہے نقش جان و تن میرا
عبادت نے کہا اس سے بڑی ہے آبرو میری سیاست نے کہا یہ ہے نظام انجمن میرا
اور سید نظر زیدی کے چند اشعار۔
مرے آقا ، نکھار ہے جمال زندگی تو نے عطا کی ہے رخ تہذیب کو تابندگی تو نے
اب انساں پہ کوئی انساں حکومت کر نہیں سکتا عطا فر مائی علم و عقل کی وہ روشنی تو نے
عطا کردی حکومت کی وجاہت زیر دستوں کو غلاموں کے سروں پر رکھ دیا تاج شہی تو نے
صدا آتی ہے زیدی ،اب بھی التمتش کے مرقد سے غلاموں کے غلاموں کو عطا کی سروری تو نے
یہ مختلف چند نعتیہ اشعار عصری تقاضوں کی درست نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں ، انہیں پڑھ اور سن کر ایک ولولہ تازہ نصیب ہوتا ہے اور دامن اپنے نبی ﷺ کے بہت قریب ہو جاتا ہے ،وہ حضور ﷺ ہی ہیں جنہوں نے جہل کے مقابلے میں عقل ،ذہنی غلامی کے مقابلے میں آگہی،محکومی کے مقابلے میں خودی،اور جاہلی غرور کے مقابلے میں انسانی شعور کو فو قیت دی ،اور اپنی فکر اور عمل سے اس رجحان کو پروان چڑھایا ،آج بھی دنیا ادھر ادھر دستک دینے کے بجائے سیدھی درِ رسول ﷺ کی خیرات مانگے، تو سارے فتنے اور جاہلی حربے د م توڑ جائیں گے ۔بقول شاعر چاہتے ہو تم اگر، نکھرا ہوا فردا کا رنگ
سارے عالم پر چھڑک دو ، گنبد خضرا کا رنگ

Leave a Reply

%d bloggers like this: