Today's Columns Umair Hamid

استاد کیوں مارتا ہے؟ از عمیر حامد

Written by Todays Column

میرے ٹیچر نے ایک دن مجھے بہت مارا۔۔۔میں نے دل میں انہیں جتنی گالیاں دے سکتا تھا دیں ارادہ کیا جب بھی زرا بڑا ہوا تو انہیں قتل کر دو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لازم کرنا۔۔۔۔۔۔لیکن وہ مجھے سکھا گئے، ایک دن ملے سائیکل پر تھے، کافی بزرگ ہو چکے تھے۔۔۔ان کے پاؤں شوگر کی وجہ سے سوجے رہتے کبھی کبھی بنا جوتوں کے سائیکل چلاتے۔۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی بولے رضوان۔۔۔میں گاڑی سے بھاگ کر اترا بڑے خوش ہوے مجھے دیکھ کر۔۔۔ایک دم ہاتھ جوڑ کر بولے۔۔۔۔۔۔۔۔کمزور آواز میں یار مجھے معاف کر دینا تجھے بہت مارا۔پر اس لیے مارتا تھا کہ تم کچھ بن جاؤ اور آج تمہیں کسی مقام پر دیکھ کر رو پڑا ہوں کہ میرا شاگرد آج بڑی گاڑی میں بیٹھا ہے۔۔بیٹا تم میری خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے۔۔۔اور رو پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سینے پر گھونسہ لگا۔۔۔تڑپ کر انہیں سینے سے لگا لیا۔۔۔سارا روڈ یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔پھر ان کے پاؤ چومے۔۔ہم۔دونوں استاد شاگرد گلے لگ کر روتے رہے۔۔۔۔۔
عجب سی مہک تھی ان کے سینے سے آتی، مجھے ان کی چھاتی میں سکون محسوس ہو رہا تھا۔۔ابدی سکون۔۔۔جس جس راہ چلتے بندے کو پتہ چلا وہ رو پڑا استاد شاگرد کا پیار دیکھ کر۔۔۔۔۔بات یہ ہے کہ آپ اچھے نمبرز نہ بھی لیں۔۔اچھے گریڈز نہ بھی لیں۔۔۔صرف اپنے ٹیچر کا ادب کریں تو اجر ٹیچر نہیں خدا دیتا ہے۔۔۔مجھے یہ ملاقات کبھی نہیں بھول سکتی۔۔۔مجھے تراشنے والے وہی تو تھے۔۔۔میں اک بے شکل پتھر تھا
٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: