Today's Columns Ume Ibrahim

خوفزدہ بزرگ از ام ابراہیم

Ume Ibrahim
Written by Todays Column

کائنات کی ہر چیز کی ایک اکائی ہے جس سے وہ وجود میں آتی ہے. اور اس کائنات کی سب سے اہم اکائی ایک پرامن معاشرہ ہے جو جنم لیتا ہے ایک گھر سے، اور گھر میں بھی ہر فرد بالخصوص والدین سے اور پھر دیگر لوگوں سے سیکھتا ہے. آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے گھروں کی خرابی کی بنیادی وجوہات کیا کیا ہیں؟
ہر گھر کی آبادی یا بربادی میں بزرگوں کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں. عرصہ دراز تک بزرگوں کو رعب، دبدبہ، انصاف، سکون کی علامت سمجھا جاتا تھا اور واقعتاً ایسا ہی ہوتا تھا. لیکن پھر کیا ہوا؟ وہ رعب، دبدبہ، تمکنت کا کیا ہوا؟ کیا اتنی بڑی تبدیلی راتوں رات آئی یا وقت لگا؟ تو وقت گواہ ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی یونہی نہیں آئی، رفتہ رفتہ آئی. پہلی بات تو یہ ہے کہ اب وہ منصف بزرگ ہی نہ رہے جن کا وجود، جن کی موجودگی باعث خیر و برکت سمجھی جاتی، محلے کے ہر رکھ سکھ میں پیش پیش ہوتے وہ بزرگ. رعب ایسا ہوتا کہ ڈنکے کی چوٹ پر بات کی جاتی، پیٹھ پیچھے بات کبھی نہ کی جاتی، شفقت اتنی تھی کہ کچھ پوچھنے، کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی. اب بھی بزرگ تو ہیں لیکن وہ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ انکی عزت نہ خراب ہو جاے. انہیں یہ خوف ہے کہ انکی بات رد کی گیی تو انکی ہتک ہو جائے گی جو شاید وہ سہہ نہ سکیں. اب بھی بزرگ تو ہیں لیکن وہ خود کو بزرگ ماننے کو تیار ہی نہیں، خوشی کے موقع پر وہ سب سے بہت ہی الگ نظر آنا چاہتے ہیں. اب بھی بزرگ ہیں لیکن وہ حق بات کہنے سے یوں ڈرتے ہیں گویا موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو،. انصاف کا یہ عالم ہے کہ ساری زندگی انکا نزلہ ایک ہی بیٹے، بہو پر گرتا ہے جبکہ دوسرے بیٹے پر اسقدر پیار نچھاور ہو رہا ہوتا ہے کہ آج کل تو ہر خاندان میں جائیداد کا زیادہ حصہ ایک وارث کو اضافی ہی دیا جاتا ہے.. سوچنے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معاشرے کی نومولود اکائی یعنی فرد واحد جو ابھی پروان چڑھ رہا ہے وہ کیا سیکھتا ہے؟؟ جب گھر سے یہ سب کچھ سیکھنے کو ملے گا تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ وہ ایک اچھا اضافہ ثابت ہو گا؟ اسلام کی تاریخ ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ انصاف کس درجے کا ہوتا تھا؟ سچ جھوٹ کا معیار کیا تھا؟ افسوس کہ آج ہم خود ہی اپنا تاثر، اپنی نسلیں تباہ کرنے کے درپے ہیں. اللہ سبحانہ سے تہہ دل سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے گھروں کو احسن طریقے سے چلانے کی نیک توفیق دے، انصاف کے فیصلے کرواے. آمین.
٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: