Sayed Jawad Naqvi Today's Columns

وزیر اعظم کے نام مودی کا خط از سید جواد نقوی ( تحریک بیداری امت مصطفٰی )

Sayed Jawad Naqvi
Written by Sayed Jawad Naqvi

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے اپنی حکومت بننے کے بعد پہلی دفعہ پاکستا ن کے وزیر اعظم کو خط لکھاہے کہ اتنی مس کالوں کے بعد وزیر اعظم صاحب جب سے مودی الیکٹ ہوا ہے ہمارے وزیراعظم صاحب مسلسل ا س کو کالیں کرتے رہے وہ ان کا فون اٹھاتانہیںہے اور انہوںنے یہ بات پریس کانفرنس میں کی ہے کہ میں اتنی کالیںکر کر کے تھک گیاہوںوہ میرا فون ہی نہیںاٹھاتا ، اب اس نے خط لکھ کر ۳۲ مارچ کو چند کام کیے ہیں۔۱۔وزیر اعظم صاحب کی صحت کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا ہے اچھے کہ ان کوصحت ملے۔ ۲۔ دوسرا ہندوستان کے وزیر ااعظم نے۳۲ مارچ کی کہا ہے کہ پاکستان کے یوم پر قرارداد پاکستان یا قرارداد آزادی پر مبارک باد دی ہے ۔ ۳۔ اور تیسرا اس نے کہاہے کہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے خواہشمند ہیں اور گویا مذاکرات پر یا خوشگوار تعلقات قائم کرنے پر، آمادگی ظاہرکی ہے، اتنے عرصے عالمی سطح پرپاکستان کے خلاف ہندوستان کے اندر طیش دلاکر ، ماحول بنا کے ، حملے کرکے ہرپاکستان جو نقصان پہنچا سکتا تھا پہنچا کراب اس نے خط لکھا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، البتہ مودی کے خط سے پہلے ایک اور کام ہوا ہمارے چیف صاحب نے ایک ایسا بیان دیاجو سب کی حیرت کا باعث بنا اور چونکہ چیف صاحب کا بیان تھااس لیے حیرت سے آگے کسی نے کچھ بھی نہیںکہاچونکہ سب کو پتا تھاکہ حیرت کی حد تک تو ٹھیک ہے، حیرت سے اگے کچھ کہا تو پھر کچھ مسئلہ بن سکتا ہے اور یہ احتیاط سب کو کرنی چاہےے، حیرت سے آگے نہ جائیں ورنہ حیران ہونے کا بھی موقع نہیںملے گا، انہوںنے بیان یہ دیا ہے یعنی مودی کے خط سے پہلے ، مودی نے گویا جواباً یہ جواب دیاہے ، جنرل صاحب نے اپنی ایک تقریر میں یہ فرمایاہے کہ ہم نے غور کیاہے ،فکر کی ہے اور غور و فکر کرنے کے بعد خطے کے اندرپاکستان و ہندوستان میں سلامتی کے لیے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہےے یعنی پاکستان کے اندرونی مسائل کو ہمیں پہلے کنٹرول کرنا چاہےے تاکہ ہم باہر کی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکیں، یہ بات سابقہ وزیر اعظم نے کی تھی نواز شریف صاحب نے لیکن انہیںاس بات کرنے کا کافی خمیازہ بھگتناپڑا لیکن اب آرمی چیف صاحب نے یہ بات کی ہے ، ڈان لیگ کے حوالے سے ایک خبر ، مشہور ہواتھاسکینڈل وہ یہی تھی بات کہ یہ بات وزیر اعظم نے کی تھی کہ ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہےے، اب آرمی کے ، یعنی پاکستان کے جو سب سے مقتدر شخصیت انہوںنے یہ بیان دیاہے کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہےے، یہ بہت معنی خیز بات ہے ، بہت بنیادی بات ہے اور بہت اہم بات ہے جو چیف صاحب نے کی ہے، میں ا س کو عرض کر وں گا ، آپ کی خدمت میں ابھی ، مودی اور پاکستان کے تعلقات یا بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں خوشگواری کے لیے امریکی جریدے نے یہ لکھا ہے امریکی اخبار نے کہ یہ سفارت کاری متحدہ عرب عمارات نے کی ہے ، یو اے ای نے کی ہے، وہ جو پاکستان کا دوست ملک ہے ، سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات ، دبئی ، ابو ظہبی ، یہ ریاستوں سے ملک کر مملکت بنی ہوئی ہے ، ا ن کی حکومت نے بھارت اور پاکستان کے اندر یہ تعلقات خوشگوار بنانے کے لیے یہ سفارت کی ہے، بائیڈن کے ترجمان نے، وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امارات کے سفات نے یہ سفاری کی ہے اور دنیا کے لیے یہ بھی بڑ ی خوشگوار خبر تھی کہ مودی کا تھوڑا نرم لہجہ پاکستان کے متعلق اور پاکستان کے چیف صاحب کابیان کہ ہم پہلے اپنا گھر ٹھیک کریں یہ دونوں باتیں ایک خوشگوار خبر سمجھی گئی ہیں، اب ان خبروں کے اندر عوام کی آگاہی کے لیے، چونکہ عموماً یہ ضروری نہیںسمجھتے، نہ ہمارے سیاستدان، نہ ہمارے علمائ، نہ ہمارے پارلیمنٹیرین سارے کہ عوام کوبھی آگاہی دے دیں ، اپ ڈیٹ کر تے رہیں، ایسی کوئی ضرورت نہیںہے، عوام کو آگاہ رکھنا لازمی نہیںسمجھتے بلکہ عوام جتنے بے خبر رہیں، جتنے جوش جذبے میں مست رہیں اتنا بہتر ہے، حقائق نہ سمجھیں لیکن ایک ملک کے عوام کے لیے جو کچھ ہورہاہے، وہ عوام کو سمجھ میں آنا چاہےے کہ ہمارے خیر میں ہورہاہے یا ہمارے خلاف ہورہاہے، امارات کی حکومت پاکستان کی دوست سمجھی جاتی ہے لیکن اس کی ہمارے وزیر اعظم صاحب کے بقول ،امارات حکومت اب سعودی عرب کی تمام ہمدردیاں ہندوستان کے ساتھ ہیں، امارات نے جو اور بڑا قدم اٹھایا ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ ، اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ طور پر تعلقات قائم کرکے جو عرصے سے دیرینہ دوستی ان کی خفیہ تھی وہ باقاعدہ رسمی تعلقات میں تبدیل ہوگئی ہے، ایک دوسرے ملکوں میں سفار ت خانہ بن گیاہے، ایک دوسرے ملکوںمیںسفیر تعینات ہوگئے ہیںاور سفارتی اور اقتصادی کاروبار ان کا چل رہاہے، امارات کے بارے میں پہلے یاد ہوگاآپ کو ، ایک سال سے زیادہ عرصے سے پہلے یہ بات کی تھی کہ اسرائیل کا انٹلجنس دارالخلافہ امارات بن چکاہے، چونکہ سوریامیںجو کچھ ہواہے، داعش کی شکست کے بعد اسرائیل کو یہ یقین ہوگیاتھاکہ اسرائیل اب محفوظ نہیںہے چونکہ تمام مخالف اوراسرائیل دشمن طاقتیںانہوںنے جاکر سوریا میں جاکر اپنا اڈا بنالیاہے،جن میں حزب اللہ ، سوریا کی حکومت ،ایران اور ان کے باقی جو طرفدار ہیں ، حشد شعبی ہےں ، انصار الاسلام ہیں، یہ سب سوریامیں جاکر بیٹھ گئے ہیںاور سوریا اسرائیل کا بارڈر ہے، اسرائیل کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھاکہ اب ہم بہت غیر محفوظ ہیں ،ایران کے میزائیل ایران سے اسرائیل کو نشانہ بناسکتے ہیں، اتنے رینج کے ہی انہوںنے بنائے ہیں کہ اسرائیل کا چپہ چپہ اس کی زد میں آتا ہے، لیکن انہوںنے یہ میزائیل اٹھاکر انہوں اسرائیل کے محاذپر جاکرکارخانے بھی لگا دیئے اور وہاںان کے ٹرمینل بھی دیئے او ر وہاں انہیں نصب بھی کردیاہے او ر حزب اللہ نے ، یہ بیچ میں سیاسی جوڑ توڑ ہوا ،دباﺅ آیا پریشر ہوا، جس وجہ سے وہ حملہ رک گیاتھا ورنہ وہ بالکل کنفرم تھاکہ جولان پہاڑیوںکو آزاد کرانے کے لےے جنہیںیہاںپاکستان میں گولان کہاجاتا ہے،عربی میںجولان کہتے ہیںاس کو، جولان پہاڑیوںکی آزادی کے لیے حزب اللہ نے باقاعدہ طور پر جنگی نقشہ بنا کر اس کی مکمل تیاریاںکرکے اس کا لاجسٹک مرحلہ طے کر کے ،نفری تعینات کرکے ،صرف ٹائم کاباقی تھا اور یہ حملہ ہونا تھااور اسی حملے سے ڈر کے اسرائیل نے اپنے ملک کے اندر بہت ساری چیزیں محفوظ بنائیں اور اپنا جو جاسوسی کانظام تھا وہ اثاثے جو اسرائیل نے محفوظ کرنے تھے وہ سارے امارات شفٹ کردیئے.

٭…٭…٭

About the author

Sayed Jawad Naqvi

Sayed Jawad Naqvi

Leave a Comment

%d bloggers like this: