Dr Mian Muhammad Azhar Amin Today's Columns

عمران خان کی ناکامی کے اصل راز از ڈاکٹر میاں محمد اظہر امین

Dr Mian Muhammad Azhar Amin

عمران خان کو آئی ایس آئی نے پیروں کے نیٹ ورک میں کیسے پھنسایا

ایجنسیوں نے جہاں ہر قسم کی ریسرچ اور معلومات کے لیے بہت سے نظام بنا رکھے ہیں ۔جاسوسی کے لیے جدید ترین سہولیات سے لیس ہیں وہاں پراسرار علوم بشمول پامسٹری، آسٹرولوجی،نیومرالوجی یا کشف جیسے علوم پر عبور رکھنے والے افراد کا ہر طرح کااستعمال بھی کیا جاتا ہے۔ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی اور آئی بی کومختلف طریقوں سے جمع تفریق کراکے جب سمجھ آجاتی ہے کہ فلاں شخص کی قسمت میں اہم مقام لکھا ہے تو یہ اُسے یرغمال بنانے کے لیے ہر اوچھا ہتھکنڈا اپناتی ہیں یہاں تک جرائم کیے جاتے ہیں کہ اُس کا سب کچھ چھین کر دو نمبر طریقے سے اُسے آفرز دی جاتی ہیں کہ وہ مجبور ہو کر قبول کرے اور ساری زندگی یہ سمجھے کہ مجھے اس ایجنسی نے سروایو کرایا ہے۔جیسا کہ عمران خان سے اصل مینڈیٹ چھین کر اُسے دو نمبر کرکے لولی لنگڑی حکومت دی۔۔ یہاں تک جرائم کیے جاتے ہیں کہ زائچے نکلوا کر دیکھا جاتا ہے کہ فلاں ہفتے میں اس شخص کا فلاں خانہ کمزور ہو گا اُس وقت اس سے فلاں غلطی کرائی جا سکتی ہے یا فلاں وار چل سکتا ہے یا فلاں قسم کا جھگڑااسکے گلے ڈال دیا جائے تو اس ہفتے یا اس ماہ ضرور ٹریپ ہو گا۔فلاں ہفتے اس کا قانونی معاملات کا ستارہ کمزور ہوگایا فلاں مہینے فلاں ستارہ شہوت کا زور دے گا اور مرکری بیس دن کے لیے اُلٹ ہو گا لہذا ذہن بھی غلطی سے بچنے کی پوزیشن میں کم ہو گالہذااس وقت میں ریحام خان کسی طرح عمران خان کے قریب کردو۔۔۔پھر یہ ایجنسیاں پیروں کے نیٹ ورک میں پھنسانے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔جیسا کہ عمران خان کو بالآخر یہ یقین دلوا دیا کہ بابا چشتی کے دربار پر سجدہ کرکے اُن سے نہیں مانگو گے تو حکومت نہیں ملے گی۔۔ اور جس دن عمران اس فراڈ اور شرک کا قائل ہوا اور اُسے میں نے پاکپتن مندر پر سجدہ کرتے دیکھا اُسی دن میرے دل سے یہ نکلا کہ عمران خان کبھی کامیاب نہیں ہو گا بلکہ ذلیل و خوار ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔قارئین! یہ باتیں آج میں اس لیے دوبارہ کررہا ہوں کیونکہ پرسوں بروز اتوار مورخہ 4 اپریل 2021 کوعمران خان کی قوم سے باتیں کرتے سُن کردل میں کچھ خیال آئے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اب تک کی اپنی ناکامیاں قبول کیں اور عدلیہ پر بھی زبردست لیکن سچا اٹیک کرکے انہیں مکمل ننگا کیا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کہا کہ میں لکھ کر دیتا ہوں کہ تبدیلی آئے گی اب اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔قارئین! یہاں میں عمران خان کو لکھ کر دے رہا ہوں کہ اگرعمران تم پہلے کی طرح دوبارہ ”صرف خدا“ کے اُصول پر نہ آئے اور اسی طر ح شرک میں گِرے رہے ،اس گندگی سے آلودہ رہے تو کبھی کامیاب نہیں ہو گے اور ذلیل و خوار ہو کر نکلو گے اورمرو گے۔۔۔ میں یہاں عمران خان کی یہ مدد کر سکتا ہوں کہ ملک کے قابل ترین پیر عامل اکٹھے کرلے اور مجھے ساتھ بٹھا لے اور اگر میں ان کو لاجواب نہ کردوں تو اپنا یقین جاری رکھے اور اگر میری باتیں سمجھ آجائیں تو ملک کو ان پاخنڈیوں اور ایجنسیوں کے دلالوں سے پاک کرکے ہر گھر کی لُٹتی عزت کو روکے۔ اس کے بعد اُمید ہے کہ عمران خان کو اللہ تبدیلی کا ذریعہ بنا دے گا۔۔۔یہاں میں ایک بات شامل کروں گا کہ اللہ نے مجھے دورِ طالب علمی میں ایسے اتفاقات کرائے کہ مجھے ایسے افراد سے ملاقات اور قریب ہونے کا موقع دیا جنہیں آج وقت کا ولی یا پیر کامل سمجھا جاتا ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ مکمل فرادیے اور ایجنٹ تھے اور ہیں ۔اس بات کو میں ثابت کرسکتا ہوں۔۔۔ان میں سید وجیہ السیما عرفانی مرحوم سندر شریف والے اور ان کے 1990 میں گدی نشین بننے والے اور موجودہ پی ٹی آئی علماءونگ کے صدر سید حبیب عرفانی چشتی، سرفراز احمدشاہ(کہے فقیر کتاب والے) ،پیر پنجر اور حضرت زندہ پیر گھمگول شریف والے مرحوم بھی شامل ہیں اس کے علاوہ اللہ نے مجھے ان جیسے بہت سے فراڈیوں کی حقیقت بہت قریب سے دیکھائی اور اسی لیے میں پاکستان کا واحد صحافی ہوں جس نے پیروں عاملوں اور جادوگروں کے خلاف خوفناک جنگ شروع کی ان پر چھاپے مارے اور یہ سب اخبارات میں میرے اور میری نیوز ایجنسی کے نام سے 2002/2003 میں چھپتے رہے پھر پہلے پرائیویٹ وی ٹی چینل کے سربراہ کے طو رپر میں نے جو چھاپوں کا پروگرام شروع کیا اُس میں بھی میں نے ان فراڈیوں کو ننگا کیا جسے تمام دنیا نے دیکھا ۔یہ بھی اُس وقت دنیا نے دیکھا کہ پورے ملک سے پیر عامل اور جادو گر لاہور پریس کلب کے باہر جلوس نکالتے رہے اور کہتے کہ اظہر امین کے چھاپے کے خوف سے ہم سب کئی روز سے اپنے پیر خانے نہیں کھول رہے جس پر اُس وقت کے گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول او ر کرپٹ بدکردار ڈی آئی جی لاہور جاوید نور نے یہ اعلان کیا کہ حکومت یا پولیس اظہر امین کے ساتھ نہ ہے یہ صحافی خود اپنے ایما پر کر رہا ہے یعنی انہیں کہا کہ اب یہ چھا پہ مارے تو اسے قتل کر دو۔۔ یہ سب کچھ اُس وقت کے اخبارات میں شائع ہوا ۔۔۔اور یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ آئی آیس آئی اور آئی بی نے نہ صرف میرے تمام صحافتی نیٹ ورکس بلکہ کاروباری ادارے بھی تباہ و برباد کرنے کے لیے ریاستی وسائل کا غلط استعمال کیا جس کے لیے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ پولیس کا ایسا استعمال کیا گیا کہ ایک جج پولیس گردی کی انتہاءدیکھ کر 2006 میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ پولیس ڈاکٹر میاں محمداظہر امین کے خلاف مغل اعظم بن کر ناجائز اختیا رات استعمال کررہی ہے جو آج تک جاری ہے۔۔۔۔ کیونکہ ان دونوں ایجنسیوں ( آئی آیس آئی اور آئی بی) کے جرائم کے نیٹ ورک کا سب سے اہم مہرہ پیر بابے، تبلیغی جماعت وغیرہ سمیت دیگر مذہبی ہتھکنڈے ہیں۔۔میرے اُس پروگرام کی نقل اے آر وائی پر سر عام کے نام سے چل رہی ہے۔اس ملک میں یہ سلسلہ میں نے شروع کیا تھا کہ صرف پیروں بابوں پر ہی نہیںہر سرکاری ادارے بشمول بیوروکریسی ،پولیس، عدلیہ تک پر چھاپے مارے اور پہلا قطرہ ہونے کی وجہ سے خوفناک دہشت گردی کا شکار بنا۔۔۔۔ میں نے بلا تفریق چھاپے مارے لیکن سرعام پروگرام میں صرف اُس پیر پر چھاپہ مارا جاتا ہے جس کا آئی ایس آئی وغیرہ سے تعلق نہ ہوتا ہے۔۔۔

About the author

Dr Mian Muhammad Azhar Amin

Dr Mian Muhammad Azhar Amin

Leave a Comment

%d bloggers like this: