مہنگائی آنہیں رہی، مہنگائی آگئی ہے

0 2

ملک میں اس وقت شدید سیاسی افراتفری جاری ہے لیکن اس سارے معاملے میں عوام کی سہولت کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ حکمران جماعت کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے جس کہ وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں جو زیادہ تر غیر عوامی ہیں لہٰذا عوام انہیں ناپسند کرنے لگے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ حکمرانوں کو اس امر کا احساس نہیں وہ آنکھیں بند کیے مزیدعوام مخالف پالیسیاں بناتے چلے جا رہے ہیں،مہنگائی کے طوفان نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، آٹا، چینی اور دیگر اشیاء خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں کہا جاتا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں وہ مجبور ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائے کیونکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتی ہے جو انہیں اپنی شرائط پر من و عن عمل درآمد کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ عوام مر رہے ہیں یا جی رہے ہیں،تبدیلی سرکار بھول چکی ہے کہ کہ اگر عوام کو پریشان کیا جائے یا ان پر طاقت سے زائد ٹیکس عائد کیے جائے تو عوام کو جینے کی راہ سے دْورہوجاتی ہے اور اْن میں نفرت کا طوفان امڈ آتا ہے تو کیا یہ بات ملک کے لیے ٹھیک ہوتی ہے ہرگز نہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اچھے دانا قسم کے عوام دوست وزیروں مشیروں کو آگے لائے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو بتائیں کہ عوام ان شرائط کے متحمل نہیں اْن میں اب مزید سختی سہنے کی برداشت نہیں وہ پچھلے بیس برسوں سے کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے چلے آ رہے ہیں اس کا ثبوت ملک بھر میں اعضاء کا فروخت ہونا ہے جسم فروشی کا بڑھنا ہے نوجوانوں کی حکمت کا متاثر ہونا ہے اور تعلیم کے میدان کا سکڑ جانا ہے لہٰذا وہ اپنے پروگرام میں لچک پیدا کرے غریب ترقی پذیر ممالک کو کچھ سہولتیں دینے کی طرف آئے لیکن جب سے موجودہ حکومت بر سراقتدار آئی ہے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں‘ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے غریب عوام پہلے سے ہی بجلی اور گیس کے زائد بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے تنگ آچکے تھے کہ حکومت نے آٹااور چینی کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کردیا جس سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی حکومت کے بلند بانگ دعووں کے باوجود مہنگائی کیخلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور ضروریات زندگی تقریباً عوام کی پہنچ دور ہوگئی ہیں‘اب جب تبدیلی سرکار نے انتظامیہ کے بر عکس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کوالرٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ کمزور ہوچکی ہے اور بیو رو کریسی کے سامنے موجودہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے دوسری جانب آٹا اور چینی کی قلت نے بھی عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔پچھلے دور حکومت اور موجودہ حکومت میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے گزشتہ حکومت میں 20کلو آٹے کا تھیلا 600روپے جبکہ تبدیلی سرکار کے دور میں 1500روپے میں فروخت ہورہار ہے‘چینی 55روپے کی بجائے 110روپے فی کلو‘ گھی120کی بجائے 200روپے سے زائد‘دال چنا 65اوراب140روپے فی کلو‘لوبیا 80روپے کی بجائے 220روپے فی کلو‘ دال مونگ 70روپے کی بجائے 200‘چاول100کی بجائے 170روپے‘ چائے کی پتی600کی بجائے 1000روپے‘ خشک دھنیا120کی بجائے 300روپے فی کلو‘ مسور کی دال70کی بجائے 150روپے‘بیس 60کی بجائے 110‘ زیرہ200کی بجائے 600روپے فی کلو فروخت ہونے لگا ہے جبکہ اس کے علاوہ فی بوری سیمنٹ کی قیمت 460سے بڑھ کر 550روپے‘ سفید سیمنٹ1000روپے کی بجائے 1300روپے کی فی بوری‘سریا 70ہزار روپے فی ٹن سے ایک لاکھ 10ہزار روپے فی ٹن تک پہنچ گیا‘جبکہ پٹرول65روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 105روپے تک پہنچ چکا ہے سونے کی قیمت بھی 55ہزار روپے فی تولہ سے بڑھ کر 1لاکھ30ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈالر 101/102سے بڑھ کر 170/175کا ہو گیا جو یقینا موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔موجودہ دور میں غریب اور کمزور طبقہ ایک وقت کی روٹی کھانے پر مجبور ہو چکا ہے مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں لیکن حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔غریب اور محنت کش طبقے کے وسائل انتہائی قلیل جبکہ مسائل پہاڑ کے برابر ہیں مہنگائی کے اس بدترین دور میں کمزورطبقے بچے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔آٹا، چینی، دالوں،گھی، گڑ، سبزیوں، گوشت،انڈوں اور دیگر اشیاء و خورد ونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ لمحہ فکریہ ہے جس حکومت کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ظاہر ہورہی ہے‘موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی کوئی مربوط پالیسی ہے حکومت کے اپنے وزراء اور کارندے بھی مہنگائی سے پریشان نظر آرہے ہیں اور کابینہ اجلاس میں بار بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ارکان عوام کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور کابینہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں تو ٹائیگر فورس کے ذریعے مہنگائی پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: