سورۃ حجرات کی تعلیمات

اسلام دینِ حق اور دینِ فطرت ہے۔ زندگی اور اسکے حقائق سے قریب تر۔ قرآن رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس میں ہماری زندگی کے ہر پہلو اور تمام انسانی روّیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہر ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
سورۃ حجرات میں ان تمام اعمال سے روکا گیا ہے جو معاشرے میں خرابی کا باعث ہیں۔
1۔ خبر کی خوب تحقیق کر لیا کرو: بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے کانوں میں کوئی بات پڑتی ہے اور ہم اسے بغیر تحقیق کیے آگے بڑھا دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ جس کے بارے میں ہم وہ خبر پھیلا رہے ہیں اس کی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتّب ہوں گے۔ ہونا یہ چاہیے کہ اوّل تو اگر ہم کسی کے بارے میں کوئی غلط بات سنیں تو اسے اپنے تک رکھیں پھیلائیں نہیں اور کوئی مناسب بات ہو تو پہلے مستند زرائع سے اس کی تصدیق کر لیں پھر آگے بیان کریں۔
2۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کراؤ: اگر دو مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو ان کے قریبی افراد کا فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروائیں اور اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے بر عکس ہم میں سے بیشتر لوگ اس صورتحال سے مزہ لیتے ہیں اور ادھر کی باتیں اُدھر کر کے اختلافات بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔
3۔ انصاف سے کام لیا کرو: انصاف ایک ایسا لازمی عمل ہے جس کے نہ ہونے سے ایک ہی وقت میں کئی لوگوں کی زندگیاں متائثر ہوتی ہیں۔ اللہ پاک انصاف کو اور انصاف کرنے والوں کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ عام طور ہر ہم نے اپنے اور دوسروں کے لیے الگ، الگ اصول مرتّب کر رکھے ہیں جس سے معاشرے میں خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ جو ہم اپنے لیے سوچتے ہیں وہی دوسروں کے لیے بھی سوچیں۔
4۔ ایک دوسرے کا مزاق نہ اُڑایا کرو: ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہر بات میں مزاق کا پہلو نکال لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس سے کسی کی دل آزاری بھی ہوسکتی ہے۔ کسی کا بے جا مزاق اُڑانا اس کی بے عزّتی ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ آج ہم جس پر ہنس رہے ہیں کل اس کی جگہ ہم خود بھی ہو سکتے ہیں۔
5۔ ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو: معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ کبھی بھی کسی کو ہماری ضرورت پڑ سکتی اور ہمیں بھی دوسروں کی ضرورت ہے۔ اگر کسی سے کوئی کوتاہی یا غلطی ہو جائے تو اسے درگزر کر دینا چاہیے ناکہ ہم اسے طعنے دیں یا جتائیں کہ فلاں وقت ہم نے تمھارے ساتھ یہ کیا تھا۔ یہ ایک غلط عمل ہیاس سے بچنا چاہیے۔ نیکی کر کے بھول جانا چاہیے۔ بدلہ دینے والا اللہ ہے وہ ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
6۔ ایک دوسرے کو برے القابات سے نہ پکارو: ہمارے معاشرے میں ایک عام چلن ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے ہتک آمیز القابات سے نوازا جاتا ہے اور پھر وہی عام ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مکروہ فعل ہے اس سے بچنا چاہیے۔ فحش گوئی اور کسی کو برے القابات سے پکارنا اس کی دل آزاری کرنا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
7۔ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو: غیبت ایک ایسا قبیح فعل ہے جو حرام ہونے کے باوجود ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ عام ہے۔ جہاں ایک سے زیادہ افراد اکٹّھے ہوتے ہیں وہ غیبت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور انھیں احساس بھی نہیں ہو پاتا کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔جب کہ ہم سب ہی اس کے نقصانات اور نتائج سے واقف ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ خود بھی اس سے بچیں اور دوسروں کو بھی روکیں۔ اگر دوسرے نہ رکیں تو کم از کم آپ خود اس میں شامل نہ ہوں۔
8۔ کسی کی ٹوہ میں نہ لگو: ہم میں سے بیشتر افراد خاص طور پر خواتین سارا وقت دوسروں کی ٹوہ میں رہتی ہیں کہ دوسروں کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے زیادہ دوسروں کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے مسائل سلجھانے کے بجائے ہمیں دوسروں کے گھریلو معاملات میں دخل در معقولات کرنے کی بے چینی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل سے منع فرمایا ہے۔
9 ۔ بد گمانیوں سے بچو: بد گمانی ایک ایسا عمل ہے جو اکثر تعلقات ختم ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ لوگوں کے بارے میں دلوں میں بد گمانی رکھنے سے نہ صرف ہم خود اکیلے ہو جاتے ہیں بلکہ ایک طرح کی بے چینی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے لہٰزا ہم کسی پر بھی اعتبار نہیں کر پاتے۔ اللہ پاک نے لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تاکید کی ہے اس سے زندگی آسان ہو جاتی ہے ہماری بھی اور دوسروں کی بھی۔
اگر ہم ان میں سے چند باتوں پر بھی اچھی نیت کے ساتھ عمل کر لیں تو معاشرے میں پھیلی برائیاں بہت حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برے اعمال سے بچائے ۔ آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: