Arshad Munim Today's Columns

سوال کی صلیب از ارشد منیم

Arshad Munim
Written by Arshad Munim

میں ایک عورت ہوں۔ میری بھی وہی کہانی ہے جو شاید دنیا کی تمام عورتوں کی ہے۔ہماری پیدائش کے وقت ہی گھر میں ایسے ماتم چھا جاتا ہے جیسے گھر میں کسی پیدائش نہیں بلکہ موت ہو گئی ہو۔میرے ساتھ بھی شایدایسے ہی ہوا ہوگا۔اس کا احساس مجھے تب ہوا جب میں ذرا بڑی ہوی میری اور میرے بھائی کی پرورش میں فرق مجھے صاف محسوس ہونے لگا۔میریبھائی کی ہر جائزنا جائز فرمائش پوری کی جاتی اور میری جائز فرمائش بھی نہ جانے کہاں دب کر رہ جاتی۔میٹرک پاس کرنے کے بعد میرا آگے پڑھنا بند کر دیا گیا جبکہ میریبھائی کیہڑھائی مزید جاری رہی اس کا کالج میں داخلہ کروا دیا گیا۔جو کہ پڑھائی میں بہت کمزور تھا۔میں بھی آگے پڑھنا چاہتی تھی میرے بھی کچھ خواب تھے۔جب اس بارے میں میں نے اپنی ماں سے بات کی تو اُنھوں نے یہ کہتے ہوئے میرے خواب چکنا چور کر دئیے کہ لڑکی کو زیادہ پڑھنا لکھنا نہیں چاہیے۔وہ تو پرایا دھن ہوتی ہے۔اس لئے تو پڑھنے لکھنے کے بارے میں چھوڑ کر گھر کے کام کاج سیکھنے کی طرف دھیان دے تاکہ تجھے اپنے گھر جاکر کوئی دقت پیش نہ آئے۔ماں کے منہ س اپنا گھر لفظ سنتے ہی میں حیران رہ گئی تھی۔کیا یہ میرا گھر نہیں۔۔۔۔۔؟!میرا گھر کون سا ہے۔۔۔۔۔۔؟ یہ سبھی میرے اپنے ہی تو ہیں پھر گھر میرا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔؟
ایسے پتہ نہیں کتنے ہی سوالات مجھے پریشان کر گئے۔میرے ہنسنے کھیلنے کے دن گھر کے کام سیکھنے میں دب کر رہ گئے۔مجھے بات بات پر ٹوکا جاتا۔”تو ٹھیک ڈھنگ سے کام کر تاکہ اپنے گھر جا کر ہماری تعریف کروا سکے”
میں ہر وقت اپنے گھر کے بارے میں سوچتے ہوئے ماں سے گھر کے کام سیکھنے میں لگی رہی۔پھر میری شادی ہو گئی۔میں اس گھر سے ہمیشہ کے لئے پرائی ہو گئی جسے میں اپنا سمجھتی تھی مگر وہ میرا نہ تھا۔وداعی کے وقت مجھے میرے پتا نے سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔
”دیکھ بیٹی تو خوشی خوشی تو اس گھر میں آ سکتی ہے۔لڑ جھگڑ کر مت آنا اپنے گھر خوش رہنا۔سسرال میں سبھی کا خیال رکھنا۔ ہمیں کسی بات کی شکایت نہ ملے”اپنوں سے بچھڑنے کا غم تو تھا۔ساتھ ہی اس بات کی خوشی بھی تھی کہ مجھے اپنا گھر مل گیا تھا۔جسے میں اپنا کہہ سکتی تھی۔میں گھر کے سبھی لوگوں کا پورا دھیان رکھتی۔خاص کر اپنی ساس کا تو میں پورا خیال رکھتی۔مگر پتہ نہیں کیوں میری ساس مجھ سے خوش نہ رہ سکی۔وہ مجھ میں کوئی نہ کوئی کمی نکالتی رہتی۔میرے پتی کو بھی میرے خلاف بھڑکاتی رہتی۔جس وجہ سے وہ اکثر میرے ساتھ لڑائی جھگڑا بھی کرتے رہتے۔کئی بار تو میری پٹائی بھی ہو جاتی۔چلو یہ ہی میرا مقدر۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے گھر میں تو ہوں۔آج نہیں تو کل سب اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا۔یہ سوچ کر میں چپ ہو جاتی۔
آج تو حد ہو گئی کام سے واپس آتے ہی میرے پتی نے اپنی ماں کی باتوں میں آکر میری پٹائی کرتے ہوئے مجھے دھکے مار کر یہ کہتے ہوئے گھر سے نکال دیا کہ ”نکل جا میرے گھر سے اس گھر میں اب تیرے لئے کوئی جگہ نہیں۔”
رات کے اندھیرے میں میں سنسان سڑک پر اکیلی کھڑی ایک ہی سوال کی صلیب پر لٹک رہی ہوں
”آخر میرا گھر ہے کون سا۔۔۔۔۔۔۔؟!!”

٭…٭…٭

About the author

Arshad Munim

Arshad Munim

Leave a Comment

%d bloggers like this: