Dua Fatima Today's Columns

ورزش کے فائدے از دعا فاطمہ

Dua Fatima
Written by Dua Fatima

صحت انسانی ذندگی کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ایک انسان کے لئے صحت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہیں ہے۔صحت کو متوازن رکھنے کے لیے بہتر خوراک کے ساتھ ساتھ ورزش بھی بہت ضروری ہے۔ورزش سے انسان تندرست رہتا ہے۔ورزش کرنے سے بیماری لگنے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔
صبح سویرے اٹھ کر ورزش کرنا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
ورزش اور انسانی جسم:
انسانی جسم مشین کی طرح ہے۔ ایک مشین سے زیادہ کام کروانے کے لئے ہم اس کا خیال رکھتے ہیں۔اس طرح جسم کے لئے بھی ورزش ضروری ہے کیونکہ یہ بھی تو ایک مشین کی طرح ہی ہے۔ ورزش کے بغیر انسانی جسم نشوونما نہیں پا سکتا اور انسان اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے نہیں جی سکتا۔ایک انسان کے پاس جتنی بھی نعمتیں ہوں اور صحت نہ ہو تو اس کا کیا فائدہ؟ صحت صرف ورزش سے ممکن ہے۔
کھیلوں کیذریعے ورزش:
کھیلیں بھی ورزش کا کام کرتی ھیں۔ اسی لیے اسکول اور کالجز میں کھیل کے میدان بنائے جاتے ہیں۔ چلنا اور دوڑنا بھی ایک ورزش ہے۔اس سے جسم کے اعضاء میں حرکت ہوتی ہے اور جسم بہتر طریقے سے کام کر سکتا ہے۔جو لوگ ورزش نہیں کرتے اکثر ان کے جسم میں درد ہوتا ہے۔ورزش سے جسم میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔جب انسان ورزش کرتا ہے تو اس کے جسم پر پسینہ آتا ہے اور فاسد مادے جسم سے باہر نکل جاتے ہیں اور جسم صاف ہوجاتا ہے۔جسم فٹ رہتا ہے۔ورزش سے جسم خوبصورت نظر آتا ہے۔اور اس سے خون میں گردش ہوتی ہے جس سے انسان ترو تازہ نظر آتا ہے۔
ورزش کے طریقے اور وقت:
ورزش کے بہت سے طریقے ہیں جن کا جاننا بہت ضروری ہے۔اگر ورزش کے طریقے اگر نہ آتے ہوں تو فائدہ کی جگہ نقصان ہو سکتا ہے۔ورزش ایک وقت پر کرنی چاہئے۔کھانا کھانے کے فورا بعد ورزش نہیں کرنی چاہیے۔ صبح سویرے اٹھ کر ورزش کرنا بہت اچھا ہے۔ ورزش کے بعد دودھ یا جوس پینا چاہیے۔بوڑھے افراد کے لیے بھی ہلکی پھلکی ورزش بہت ضروری ھے۔
صبح کی سیر:
صبح کی سیر بھی ورزش میں آتی ہے۔اس سے جسم کے ساتھ ساتھ زہن کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔صبح کی تروتازہ ہوا جب انسان کے پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو وہ صاف ہو جاتے ہیں۔طلباء اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے یہ بہت اچھی ہے۔
ورزش نہ کرنے کے نقصان:
اگر ہم ورزش نہ کریں تو ہم کوئی کم بھی ٹھیک سے نہیں کر پائیں گے۔کوئی بھی کام کریں گے تو ہماری سانس پھول جائے گی۔جسم میں ہمت ہی نہیں رہے گی۔ہم بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔لوگ سستی اور کاہلی کی وجہ سے بدمزاج اور چڑچڑے بھی ہوجاتے ہیں۔
چند احتیاطی تدابیر:
ورزش میں احتیاط بہت ضروری ہے۔اگر احتیاط نہ کریں تو فائدے کی جگہ نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ورزش کے فوراً بعد نہیں نہانا چاہیے اور نہ ہی پانی پینا چاہیے۔ورزش میں باقاعدگی ہونی چاہیے۔صحت مند اور اچھی زندگی گزارنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔
ہمارا المیہ
اُم ابراہیم
آج کے اس مصروف ترین دور میں ہر شخص کا مسئلہ ہے کہ اسے نوکری نہیں ملتی، سکون نہیں ہے، انتشار کا شکار ہے. کبھی ہم نے سوچا کہ آج ہمارے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟؟ آخر کیوں اتنی تگ و دو کے بعد بھی ہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتے؟؟؟ آخر کیوں یہ دل کہیں چین نہیں پاتے؟؟؟ان سب مسائل کے پیچھے جو جو عوامل کارفرما ہیں، آئیے ان پر ایک نظر دوڑائیں:
اخلاص:
ہم جو بھی کام کرتے ہیں اسمیں پوری جان کھپا دیتے ہیں، دن رات ایک کر دیتے ہیں، لیکن پھر بھی کامیاب نہیں ہو پاتے، کیونکہ ہماری نیت خالص نہیں تھی. کبھی ہم نے اپنا کاروبار چمکانے کیلیے کسی کی حق تلفی کی ہوتی ہے تو کبھی کسی کو نیچا دکھانا مقصود ہوتا ہے، کبھی کسی سے دنیاوی طور پر آٖگے نکلنا…… بہت ہی شاز و نادر یوں ہوتا ہے کہ ہمارا دل صاف ہو، اور ہمارا مقصد رضاے الہی ہو. یقین جانیے جن لوگوں کی نیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو خوش کرنا ہو، وہ کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے….. کم میں بھی خوش رہتے ہیں. انکے چہروں سے ہی انکا سکون عیاں ہوتا ہے.
باہمی نااتفاقی:
بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ اتفاق میں برکت ہے. لیکن جوں جوں بڑے ہوتے جا رہے ہیں، کم ہی لوگوں کو یہ سبق یاد ہے. ہم خلوص دل سے کسی کی مدد کر کے راضی نہیں، نہ کسی کو خود سے آگے دیکھ سکتے ہیں… جب تک ہمارا ذاتی مفاد حاصل نہ ہو، ہم کسی کی مدد نہیں کرتے…. یہی اگر ہم خلوص دل سے کسی کی مدد کریں تو رب تعالیٰ ہمارے لیے بھی راہیں آسان فرمائے..
عدم برداشت:
آج چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر بزرگوں تک، سب اسکا شکار ہیں. بچوں کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ بچہ ہے، کوئی بات نہیں. جبکہ بڑوں کا معاملہ بھی مختلف نہیں…. نمایاں وجوہات میں جنک فوڈ کھانا، ڈرنکس، ہیجان انگیز ڈرامے، فلمیں، کارٹونز، شدت پسند روئیے سر فہرست ہیں. مغربی طرز زندگی اور انہی کے طریقوں پر لاشعوری طور پر چلتے ہوئے ہم اپنی قیمتی میراث سے دور ہوتے جا رہے ہیں….
صحت مند خوراک، واک، ورزش، مثبت سرگرمیوں اور نیک صحبت میں رہ کر تزکیہ نفس کر کے ہم اس مہلک روئیے سے جھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں…….
لاعلمی:
ہم میں سے بہت ہی کم ایسے افراد ہیں جو خود کو اچھے سے جانتے ہیں. انہیں یہ خوب معلوم ہے کہ انہیں کن کاموں سے خوشی ملتی ہے، کن کاموں، باتوں، رویوں سے انہیں ٹھیس پہنچتی ہے….. یہی وجہ ہے کہ متعدد کامیاب کاروباری لوگوں، اداروں کو نیند کی گولیوں کے بغیر نیند نہیں آتی…… انسان ہونے کے ناطے ہمارا خود پر یہ حق ہے کہ ہم اپنی ذات پر بھی غوروفکر کریں…. وہ کام کریں جن سے جسم اور روح کو سکون ملے، حقیقی خوشی ملے. اور بلا شبہ دلوں کا سکون تو اللہ کی یاد میں ہی ہے…
منفی روئیے:
یقین جانیے، یہ عنصر ہمیں تیزی سے کھوکھلا کر رہا ہے. ہم نہ تو خود خوش رہتے ہیں، نہ کسی کو رہنے دیتے ہیں… ہر لمحہ دوسروں کی دل شکنی، حوصلہ شکنی میں پیش پیش رہتے ہیں… کیا یہ رویّہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف نہیں. ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ خود پر ایک بہت بڑا احسان کرے کہ منفی سوچوں، رویوں سے کوسوں دور رہے… بہترین حل یہ ہے کہ انسان صحبت صالح میں رہے یا کم از کم اپنے جیسوں میں، جہاں وہ کچھ نہ کچھ مثبت سیکھے
.وقت نہیں، پیسے نہیں:
آج ہم میں سے ہر ایک کا خواب ہے کہ اسکے پاس بہترین لباس ہو، عمدہ کھانا ہو، بہترین رہائش ہو، دنیاوی طور پر اعلی تعلیم یافتہ اولاد ہو.. لیکن یہ کیا جب وہی اولاد اسلامی تعلیمات سے روشناس ہونا چاہتی ہے، اپنی زندگی کا کچھ حصہ دین کے نام پر وقف کرنا چاہتی ہے تو ہماری جیب سے پیسے کہاں گم جاتے ہیں؟؟! آج سب سے پہلے تو ہم کوئی بھی ہنر سیکھنے کو تہہ دل سے تیار نہیں، اور اگر بالفرض ارادہ بن بھی جاے تو کبھی وقت کی کمی آڑے آتی ہے تو کبھی پیسے کی کمی اور کبھی یہ بے کار دل ہمیں کسی کام کا نہیں چھوڑتا. ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آنے والا وقت ہنر کا ہو گا اور وہی انسان کامیاب ہو گا جس کے پاس تعلیم کے علاوہ ہنر بھی ہوگا…. پھر وہی کامیاب گردانا جاے گا جس نے آج مواقع سے فائدہ اٹھایا ہو گا.
یہ تو صرف چند ایک چیدہ چیدہ وجوہات تھیں، اسکے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہیں… یاد رکھیں، مسایل، مشکلات سب کی زندگیوں میں موجود ہیں. کامیاب اور عقلمند وہی ہے جو ان مشکلات سے نکلنے کے راستے سوچے… نہ کہ یوں ہو کہ آپ ان مشکلات میں ہی الجھ کر رہ جائیں اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کریں….. جب زندگی میں رب تعالی سے مضبوط تعلق ہو گا، سنتوں پر عمل ہو گا، بدعتوں سے، مغربی افکار سے، منفی رویوں سے بچا جاے گا، برداشت، پیار، محبت، باہمی تعاون جیسے عوامل کارفرما ہوں گے تو اس خطہ ار پر پاکستان امن کا گہوارہ ہو گا…. ان شاء اللہ
میرا نصب العین
اقصی رمضان (نارووال)
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی بھی چیز بیکار پیدانہیں کی۔ہر چیز کو پیدا کرنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔انسان جو کے اشرف المخلوقات ہے کو پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد ہی پیدا کر دیا ہے۔اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آ ؤ گے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے والدین جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے سب سے قیمتی تحفہ ہے کہ ساتھ اپنے بندوں کے لیے زمین،اسمان،چرند،پرند،جنگل،پہاڑ،صحرااور بہت سی چیزیں بنائی ہیں۔لیکن انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔اللہ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے”بیشک میں نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے”۔یہ دنیا فانی ہے۔اس میں موجود ہر چیز فنا ہو جانے والی ہے۔اصلی زندگی تو آ خرت کی زندگی ہے جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اس لیے میری زندگی کا مقصد اپنے آ پ کو اپنے ،اللہ کے دین کے لئے وقف کر دیناہے۔اور میں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے خود بھی دین کے احکامات پر عمل کروں گی۔اور اسلام کا یہ پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچاؤں گی۔تاکہ قیامت والے دن کوئی کسی مسلمان بھائی کا گریبان نہ پکڑے کہ اورکہے اے اللہ تو نے اپنے اس بندے کو دین کی دولت سے مالامال کیا تھا۔لیکن اس نے اس دولت سے کسی تیرے بندے کو نفع نہیں پہنچایا۔میں جب تک زندہ رہوں گی۔دین کی خدمت اور عظمت کے لیے کام کروں گی انشاء اللہ۔میری اللّٰہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ہدایت کی دولت سے نوازے۔اور میرا اور سب مسلمانوں کا یہ نیک مقصد پورا کرے آمین۔
”میری دعا ہے کہ نورحق دنیا میں عام ہو جائے
سب پرچموں سے اونچا پرچم اسلام ہو جائے
”انمول رشتے”
اقراء اشرف(ظفروال)
والدین،بہن بھائی،دوستی
یہ تینوں رشے انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کے حامل ہیں-ان میں سے ایک بھی بچھڑ جائے تو زندگی ویران سی لگتی ہے-
والدین وہ انمول رشتہ ہے جو ہر کسی کے پاس ہوتا ہے-یہ رشتہ ساری دنیا سے انمول رشتہ ہے-کڑی دھوپ میں ہماری چھاؤں کا سماں ہمارے والدین ہیں-اللہ پاک کسی سے اس عظیم رشتے کو الگ نہ کرے-اللہ یہ انمول رشتہ دے کے بھی آزماتا ہے اور لے کے بھی-اور جب وہ لے جاتا ہے تو پھر دیکھتا ہے کہ اس کے بندوں میں کتنا صبر ہے-والدین چیز ہی ایسی ہے جو کوئی بھی اسے کھونا نہیں چاہتا-یہ وہ عظیم ہستی ہے جس کے بارے میں آپ(ص) نے فرمایا میں ”فرض نماز میں بھی کھڑا ہوتا اور میری ماں مجھے پکارتی مجھے آواز دیتی تو نماز کے دوران ہی ان کی بات سنتا”-اتنی فضیلت ہے ماں باپ کی ”سبحان اللہ”یہ وہ انمول رشتہ ہے جس نے ہمیں آج اس حال کو پہنچایا کہ ہم قلم پکڑ کے ان کی شان اقدس کے بارے میں لکھ سکیں ان کی عظمت کو بیاں کر سکیں -والدین کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمارے قلم کی سیاہی ختم ہو جائے,ہمارے ورق ختم ہو جائیں لیکن ان کی شان میں لکھنے والے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے-یہ وہ رشتہ ہے جو اپنی اولاد کی تکلیف کو بن بتائے ہی سمجھ جاتے ہیں -اپنی اولاد کو ہر وہ چیز دیتے ہیں جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے -اپنی اولاد کو سیدھے راستے پہ چلنے کی تلقین کرتے ہیں-صراط مستقیم کے رستے پہ چلنے کی ہدایات دیتے ہیں -”باپ وہ عظیم ہستی ہے جس کے پسینے کی ایک بوند کا بدلہ نہیں چکا سکتے ہم”-ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی اک آہ! کا ہم ساری زندگی بھی بدلہ چکاتے رہیں تو نہیں چکا سکتے-
”میرے دل کی مسجد میں جب بھی تیری یادوں کی آذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسو سے وضو کر کے تیرے جینے کی دعا کرتی ہوں ”-
قرآن پاک میں ارشاد ہے-
اے میرے پروردگار!ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی-(سورۃ بنی اسرائیل:24)
”ہے میرے سر پہ سایہ میرے والدین کا!!
تا حیات رہے یہ سایہ میرے والدین کا!!
بہن بھائی:
یہ ایک ایسا انمول رشتہ ہے جو دل,اور خون کا رشتہ ہوتا ہے-اچھے بہن بھائی ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں -بھائی تو بہنوں کی جان ہوتے ہیں,مان ہوتے ہیں-ان کے ہجر کا قیاس رلا دیتا ہے -ایک دوسرے سے لڑنا,جھگڑنا اور اتنا ہی پیار بھی کرنا یہی تو ہے بہن بھائی کا پیار-بھائی بہنوں پہ جان قربان کر دینے والے اور بہنیں بھائیوں پر -بڑا بھائی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور چھوٹے جیسے پیارا کوئی نہیں ہوتا جو بہن سے ہر بات شئیر کرتا ہے چھوٹے بہن بھائی ایک دوسرے کے رازداں ہوتے ہیں-اللہ ہر کسی کو اس نعمت سے نوازے-آمین!!بہن بھائی کا ایسا انمول رشتہ ہے جو ہر کسی کو میسر ہوتا نہیں-یہ نعمت اور رحمت جس کے پاس ہو وہ کبھی بھی اس کو دکھ پہنچانے کی سوچ بھی نہیں سکتا -بھائی اپنی بہنوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں بہنیں کبھی بھی اپنے بھائیوں کی دل آزاری نہیں کرتیں-ان میں سے ایک بھی رشتہ نہ ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا رک گء ہو ہر چیز سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے-جو بن کہے ایک دوسرے کی باتوًں کو سمجھ جاتے ہیں-بہنیں بھائیوں سے ہر فرمائش پوری کرواتی ہیں اور بھائی خوشی خوشی کر دیتے ہیں یہی تو بہن بھائی کا رشتہ ہے -ایسا انمول رشتہ جو جس کی خواہش ہر بھائی بہن کے لیے,اور بہن بھائی کے لیے کرتی ہے-اللہ پاک ہر کسی کو ایسے انمول رشتے دے-
”بھائی تو بہنوں کا مان ہوتے ہیں!
بھائی تو بہنوں کی جان ہوتے ہیں!
دوستی:
دوستی اک ایسا رشتہ ہے جو خون کا نہیں,دل کا,احساس کا رشتہ ہوتا ہے-اچھے دوست کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے-ان کو کبھی بھی احساس کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی-یہ اک من چاہا رشتہ ہوتا ہے احساس سے بھر پور,محبت سے چور,-یہ وہ رشتہ ہے جو بن کہے دل کی بات کو سمجھ جاتا ہے-اک دوست کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کے جان جاتا ہے کہ یہ سونے کی وجہ سے لعل ہیں یا کسی اور بات سے -اسی احساس کے تحت جب دوست,دوست کو گلے لگائے تو ہر وہ بات بھول جاتی ہے جو اسے دکھ دیتی ہے -اسی پل سکون میسر آ جاتا ہے دل کوجب دوست کے کندھے پہ سر رکھ کے سارے آنسو بہا ڈالو-یہ انمول رشتہ ایسا ہے جس سے ہم ہر طرح کی بات کر سکتے ہیں اپنے دل کا حال سنا دیتے ہیں اور پھر جب وہ ہم ٹوٹنے لگیں تو ہمیں ایسی ہمت دیتی ہیں کہ ہم خود پہ فخر محسوس کرتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں اتنا انمول رشتہ دیا-ہماری ہمت,طاقت,رازداں, ہماری کامیابی کا راز,ہمارا یہ انمول رشتہ ہوتا ہے-
”دوستی عطائے خداوندی ہے” برے دوستوں کی صحبتیں انسان کو برا بنا ڈالتی ہیں -ہر وہ کام برا کرنے کی تلقین کرتے ہیں جو ہمارے لیے حرام ہو-بری صحبتیں نشہ, چوری جیسے کاموں کی طرف راغب کرتی ہیں-
”آدمی اپنے دوست کے طریقے پر کار بند ہوتا ہے اس لیے دوستی سے پہلے دیکھ لینا چاہئیے کہ کس سے دوستی کی جا رہی ہے”(ابوداؤد)
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اچھے دوست بنائیں-نیک دوستوں کی صحبت اختیار کریں تا کہ ہم زیادہ سے زیادہ نیکی کی طرف راغب ہوں –
آپﷺنے ارشاد فرمایا!!
”نیک ساتھی مشک بیچنے والے کی طرح اور برا ساتھی بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے”
وفادر دوست کسی کو ملتا نہیں
یہ گلاب ہر باغ میں کھلتا نہیں
تیری دوستی کے قابل تو نہیں تھی
لیکن تیرے جیسا دوست ملتا نہیں
”زندگی کی حقیقت”
تحریر: میمونہ اعوان بولہ (جوہرآباد)
زندگی کو اس کے اصل مقصد کے مطابق جینے کے لیے انسان میں ہمت ہونی چاہیے تاکہ وہ انسان زندگی کی اصل حقیقت کو سمجھ سکے زندگی صرف گزار دینے کا نام نہیں زندگی کی اصل حقیقتوں کو سمجھ کے جینا ہی تو اصل زندگی ہے لیکن ہمارے ہاں اکثر لوگ بس زندگی گزار دیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ زندگی کے اصل اصول و ضوابط کو اہمیت نہیں دیتے اگر ہم زندگی کی حقیقت کو اچھے سے سمجھ لیں تو ہم خود بھی ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں سمجھا سکتے ہیں
اللہ پاک نے ہم انسانوں کو اس دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا ہے تاکہ ہم اس کے بتائے ہوئے احکامات کی پیروری کریں یہ زندگی تو عارضی ہے انسان اس فانی دنیا کے اندر ایک مقررہ مدت کے لیے بھیجا جاتا ہے اور جیسے ہی وہ وقت ختم ہوتا ہے اس انسان کو اس دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ابدی سفر کی طرف روانہ ہونا پڑتا ہے زندگی صرف اچھا کھانے پینے اور پہننے کا نام نہیں, ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنا پھنس جاتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے بس یہی دنیا ہی سب کچھ ہے ہم انسان دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں مال و دولت اکٹھا کرنے کے چکر میں ہم اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ اپنے اصل کو بھول جاتے ہیں نا یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی ہے نا اس دنیا کی لذتیں ہماری اصل منزل ہماری ہمیشہ کی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جس کے بارے میں اللہ پاک نے اپنی پاک کتاب قرآن پاک میں فرمایا: (سورت الانعام:32 آیت, ترجمہ) اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشہ ہے اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگار ہیں
اس آیت میں اللہ پاک نے واضح کر دیا کہ دنیاوی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ہماری اصل کی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جہاں تمام انسانوں نے ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اس دنیا میں جتنے بھی لوگ آئے چاہے وہ نبی ہوں ولی ہوں یا کوئی عام انسان سب اس دنیا کو ایک دن چھوڑ کے اپنی اصل زندگی جو آخرت کی زندگی ہے اس کی طرف چل بسے
اللہ پاک کا فرمان ہے؛ سورت آل عمران: 185 آیت, ترجمہ: تمام نفوس نے موت سے دوچار ہونا ہے
اس دنیا میں کسی کو بھی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں ہم اس دنیا میں مسافر ہیں اس بات کو ہمیں جتنا جلدی ہو سکے سمجھ لینا چاہیے تمام انسانوں کو دنیا کی رنگینیوں سے دور ہو کر اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے جہاں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے وہاں کی نعمتوں سے وہی لطف اندوز ہو سکیں گے جو اللہ پاک کے بتائے ہوئے احکامات کی پیروری کر کے اپنی زندگی گزاریں گے
اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا؛ سورت یوسف: 109 آیت, ترجمہ: اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے ہے (اے سننے والوں) کیا تم عقل نہیں رکھتے
اس لیے ہمیں اس دن سے ڈرنا چاہیے جس دن ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہمارے دنیاوی اعمال کا حساب لیا جائے گا اور اس دن کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کی جائے گی, ہم مسلمانوں کو قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی کو ایسے گزارنا چاہیے جیسے ہمارے اللہ پاک اور پیارے نبی کریمؐ نے ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے بتائے ہمیں اس دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنی چاہیے وہاں ہمارے اچھے اعمال زیادہ ہوں اس کے لیے ہمیں محنت کرنی چاہیے اپنے اندر عاجزی اور اللہ پاک کا ڈر پیدا کرنا چاہیے ہر عمل کو کرتے وقت اپنی نیت کو پاک اور صاف رکھنا چاہیے صرف اللہ پاک کی رضا پانے کے لیے ہر کام کو سرانجام دینا چاہیے اور اللہ پاک سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے میرے پیارے اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نوازنا اور آخرت کے عزاب سے محفوظ رکھنا
آمین ثم آمین_
وقت اور انسان
تحریر:ثناء ذیشان
اللہ تعالیٰ جی کے ہر فیصلے میں ہم نادان انسانوں کی بہتری چھپی ہوئی ہے مگر بات پتا کیا ہے؟
ہم نا شکروں اور بے قدروں کی عقل بھی چھوٹی اور اس چھوٹی عقل کا استعمال بھی اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں یہ ختم نا ہو جائے۔ ہائے رے ہم نادان انسان۔ زندگی ایک سفر ہے اللہ تعالیٰ جی سے لے کر اللہ تعالیٰ جی تک کا۔
سورہ النساء میں رب العالمین نے فرمایا:
”اے لوگوں! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللّٰہ جی سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو
اور رشتوں سے بھی۔ بیشک اللہ تعالیٰ جی تم پر بڑا نگہبان ہے۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ جی نے اپنے ہر بندے پر آسان الفاظ میں سب کچھ واضح کر دیا ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا مرد آدم علیہ السلام جس کا وجود رب العالمین کے حکم سے بنا اور مٹی کے بے جان ڈھیر میں روح ڈال کر اسے ایک انسان ہمارے پیارے اللّٰہ جی نے بنایا اور دنیا کی پہلی خاتون حوا کا وجود اس پہلے مرد آدم کے وجود سے تشکیل پایا اور پھر وہاں سے انسان پیدا ہوئے ہم مرد و عورت کی تعداد میں اضافے ہوئے۔ جب ہم سب انسان ایک ہی طرح سے پیدا ہو رہے اور وقت پورا ہونے پر مر رہے ہیں ہم سب کا وجود میں آنا اور بے جان ہونا ایک ہی طرح کا ہے تو کیوں ہم ایک دوسرے میں فرق رکھتے ہیں؟
یہ ذات پات کا فرق وہ اونچی ذات، یہ نیچی ذات کچھ بھی نہیں ہے سوائے ایک غرور کے اور یہ بات تو کتابوں میں سہی ہو نا ہو حقیقت میں بڑے سچے اور پکے رنگوں سے لکھی ہوئی ہے۔
” سب انسان مٹی میں مل جائیں گے، سارے غرور خاک ہو جائیں گے”
اے عورت نا تو مرد کو اور اے مرد نا تم عورت کو کم تر سمجھو تم دونوں برابر ہو اور تم دونوں کو برابری رب العالمین کی طرف سے ملی ہے اور بیشک وہ رب العالمین نہایت مہربان ہے اس کے ہر فیصلے میں بہتری چھپی ہوئی ہے
حساس دل لوگ
تحریر:سفینہ اقبال
اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے حساس دل بھی ہوتے ہیں۔ جو ہر وقت دوسروں کے دل میں اپنی جگہ بنانے کے لیے انتھک کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ جو دوسروں کو خوش کرنے کی چاہے جتنی بھی سعی کرلے آخرکار ناکامی ہی ان کا مقدر بنتی ہے۔ جو اداس چہروں پر مسکان بکھیرنے کی کوشش میں خود کو پل پل ازیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔
جو خود کو دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھالنے کے باوجود بھی ہمیشہ نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ جو سب کا دکھ سنتے ہیں۔ سب کو تسلی دیتے ہیں۔ مگر ان کا دکھ سنے والا اس دنیا میں کوئی ایک بشر بھی نہیں ہوتا۔ جو کروڑوں کی آبادی بھی میں خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔
جنہیں اپنے دل کے جزبات و احساسات کا اظہار لفظوں کے ذریعے کرنا نہیں آتا۔ وہ چاہتے بس کوئی آنکھیں پڑھنے والا ہو جو دیکھتے ہی سمجھ جائیں۔ کہ یہ کس ازیت میں مبتلا ہے۔ کس ملال کی دیمک انہیں اندر ہی اندر چاٹے جارہی ہے۔
ہاں ہوتے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی جو چاہے جتنا اچھا بنے کی کوشش میں لگے رہے۔ مگر آخر کو سب کی نظروں میں وہ ایک برا کردار بن کر رہے جاتے ہے۔ سب کی سوچ میں ان کا ایک برا عکس نمایاں رہتا ہے۔
ہاں وہ وقت کے ساتھ دوسروں کے تلخ رویوں کے خوگر تو ہوہی جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی کبھی کبھار کسی کی بے رخی، کسی کا خس و خاشاک لہجہ ان کے دل کے پرخچے کردیتا ہے۔ ان کی روح تڑپ کر رہ جاتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ آخر کار ان سے غلطی کہا رہ جاتی ہے۔
وہ کسی سے روٹھنے کا حق نہیں رکھتے۔ وہ تو بس ہمیشہ اسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔کہ کہیں ان سے کچھ ایسا نا ہوجائے کہ کوئی ان سے ناراض نا ہوجائے۔ ان کی ذات کسی کے لیے ازیت کا باعث نا بن جائے۔
اس سب کے باوجود بھی وہ لوگوں سے کبھی کسی بات پر شکوہ نہیں کرتے۔ انہیں اللّٰہ کی ذاتِ اقدس پر کامل یقین ہوتا ہے۔ کہ وہ عظیم ذات تو ہر ساعت ہر لمحہ ان کے ساتھ موجود ہے۔
اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے۔کہ وہ اپنی حساسیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ان پر سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ انہیں خلوت بھانے لگتی ہے۔ وہ لوگوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں پھر کسی کا بے حس لہجہ ازیت نہیں دیتا۔ وہ خود کو ہی بے حس بنالیتے ہیں۔
کوئی انسان ان کی توجہ کا باعث نہیں رہتا۔ دوسرے ان کے بارے میں کیا گماں رکھتے ہیں۔وہ یہ تک سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ایسا تب ہوتا ہے۔جب وہ دنیا کہ ہر رشتے کی حقیقت کو پہچان لیتے ہیں۔ جب وہ جان لیتے ہیں۔ کہ وہ چاہے اپنی رمق سی جان کی ایک ایک سانس بھی ہتھیلی پر رکھ کے پیش کردے۔ تب بھی دوسرے ان سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوسکتے۔
ایسے حساس لوگوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے۔کہ وہ خود کو دوسروں کی نظروں میں ہلکا کردیتے ہے۔ اور پھر دوسرے تو انہیں بالکل ہی بے معنی سمجھ لیتے ہیں۔
بھائی بہن
کومل سلطان خان ۔منڈی بہاؤالدین
بھائیوں کی محبت لینے کی عادی بہنیں باہر کسی سے اس چیز کی طلب نہیں رکھتیں!
ہر اداس شخص کا مسئلہ عشق نہیں ہوتا میری عادت ہے میں جب بہت زیادہ اداس یا پریشان ہوتی ہوں،تو اپنے بھائیوں کے ساتھ گزرے اچھے وقت کو یاد کرتی ہوں کہ اس سے میرا موڈ خوشگوار ہوتا ہے اس لئے میرے زیادہ تر سٹیٹس میرے بھائیوں کے نام ہی ہوتے ہیں میرے سٹیٹس سے صرف میری خوشیوں کے اندازے لگا کر حسرت کی نگاہ سے نہ دیکھے کہ جس سے مجھے نظر لگ جانے کا اندیشہ ہو.آپ کے انشائاللہ،ماشائاللہ اور دعاؤں بھرے کمینٹس سے مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے بس یہی وجہ ہے کہ میں اداسی میں اور اچھا لکھتی ہوں۔کیونکہ میں جانتی ہوں جہاں بہت سے لوگ میری خوشیوں پہ خوش ہوتے ہیں وہی کچھ میرے غم سے خوش ہوتے ہیں میرے دکھی ہونے کا انتظار کرتے ہیں..!
کہ خود پہ ہنسنے کا موقع تو میں خود کو بھی نہ دوں تو لوگوں تم کس خوش فہمی میں ہو۔ اپنے بھائیوں کے نام!
باپ نہیں مگر نقش قدم پر بالکل باپ سے ہیں
ہاں میرے بھائی عزیز مجھے میرے باپ سے ہیں
اوپر سے تلخ دکھائی دیتے ہیں اندر سے ہیں نرم دل
لہجے میں رعب، انداز بالکل کسی سربراہ سے ہیں
غلطی پر میری ڈانٹ نہ پڑے یہی لگا رہتا گماں سا ہے
بابا کے ہوتے بھی شہزادی کی طرح جس نے پالا
وہ میرے بھائی عادات و اطوار میں کاپی بادشاہ سے ہیں
ہر دعا میں پہلے لب پر نام آتا ہے میرے بھائیوں کا عامر،کامران
مجھے میری جان سے پیارا یہ رشتہ جو دعا سا ہے
جن کا مقام میرے لیے مسیحا اور راہ نما سا ہے
باپ نہیں مگر نقش قدم پر بالکل باپ سا ہے
ہاں میرا بھائی عزیز مجھے میرے باپ سا ہے
اور بھائی ہی تو وہ ہوتے ہیں جو کمرے کو پھیلائے رکھتے ہیں اور جو کھانا کھانے کے بعد ہاتھ بیڈ شیٹ پردہ، تکیہ وغیرہ سے صاف کرتے ہیں جو فریج میں رکھی چاکلیٹ آئس کریم میٹھائی اپنا حصہ کھانے کے بعد بہن کا حصہ بھی ہڑپ کر جاتے ہیں اور بھائی ہی وہ مخلوق ہوتا ہے جو بہانا بنا کر بہن کی پاکٹ منی بھی کھا جاتا ہے بھائی اس کو کہتے ہیں لڑائی بھی بہن سے کرتے ہیں کھیلتے ہوئے چیٹنگ کرتے ہیں اپنی باری کھیل لیتے ہیں جب بہن کی باری آئے کوئی نا کوئی بہانا بنا کر بھاگ جاتے اور بھائی ہی وہ ہوتا ہے جو بہن کو بائیک پر بٹھا کر تیز بائیک چلا تا ہے بہن کو ڈرانے کے لئے اور بھائی وہ بھی ہوتا ہے جو بہن کو اپنی نوکری کے لا رے لگا کے پیسے مانگتا رہتا ہے اپنی بہن کو ڈبل دوں گا سہی بات ہے نہ بھائی کامی ہاہاہاہا جب بازار سے کوئی چیز منگوائیں تو پہلے ٹیکس لیتے ہیں پھر جاتے ہیں اور خود تو بہن کے ساتھ لڑتے ہیں جب کوئی اور ان کی بہن کو کچھ کہے تو اس کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں اور بھائی وہ ہوتے ہیں جو بہن کے لیے گفٹ لاتے ہیں لو یو عامر بھائی کامی بھائی اور بھائی ہی ہوتے جو کبھی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بہن خود کو مضبوط سمجھتی ہے ہاں بھائی ہی ہیں جو بہن کا مان ہوتے ہیں جس پر بہن کو فخر ہوتا ہے بھائی ہی وہ ہوتے ہیں جو اپنی بہن کا سائے کی طرح خیال رکھتے ہیں ہاں باپ کے بعد بھائی ہی تو ہوتے ہیں جو بہن کے لیے ڈھال ہوتے بھائی جو بہن کوشاپنگ پر لے جاتے ہیں جو ہمیشہ امی کی چپل سے بچ جاتا ہیں ہاہاہاہا بھائی اور بہن کے رشتے میں لڑائیاں بھی بہت ہوتی ہیں اور پیار بھی بہت ہوتا ہے اللہ سب کے بھائیوں کا سایا اپنی بہنوں کے سروں پر قائم و دائم رکھے آمین اور بھائی ہی تو بہنوں کا غرور ہوتے ہیں اللہ میرے بھائیوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین
اخلاق
نزاکت اعوان
جب ھم کسی سے ملتے ھیں
تو نہ تو ہمارے گلے میں
ھماری ڈگریاں لٹکی ہوتی ہیں
نہ ہما رے ماتھے پہ
ہمارے خاندان کا نام کندہ ھوتا ھے
یہ صرف ھمارے کردار اخلاق اور اچھے برتاؤ کی خوشبو ھوتی ھے
جو دوسروں کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ھے۔
ہم نہیں جانتے کہ
ہماری ایک مسکراہٹ، ایک درگزر، ہمدردی کا ایک کلمہ، مہربانی کا ایک عمل کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔
یہ عمل ایک کمزور اور محروم انسان کے دل میں ہمارا وہ عکس قائم کرتا ہے
جو مدتوں نہیں بھلایا جاتا۔
یہ عکس کبھی
ایک انسان تک نہیں رکتا
بلکہ روشنی بن کر
دوسروں میں منتقل ہوتارہتا ہے۔
اور کسی مایوس میں امیدکی کرن جاگ جاتی ہے
کو? ہارا ہوا پھر سے جی اٹھتاہے
یہ عمل بظاہرچھوٹا ہے
مگر کسی کی زندگی پہ
بہت گہرا اثر چھوڑتاہے

٭…٭…٭

About the author

Dua Fatima

Dua Fatima

Leave a Comment

%d bloggers like this: