رب راکھا

جس قوم کا تہذیب و تمدن نہ رہے باقی
ایک لاش کی طرح پھرتی ہے بے جان بن کر
جو قومیں اپنی تہذیب اپنی روایات کو بھول جاتی ہیں تاریخ گواہ ہے وہ یا تو صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں یا پھر مسلسل افراتفری و بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُن کا مقدر ہو جاتا ہے ایسی اقوام کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ ،غیبت، چوری ڈکیتی، قتل و غارت، رشوت، بد کاری، حرام، دھوکہ دہی، فراڈ، نفرت ،فرقہ واریت ،مذہبی انتہا پسندی ،نا انصافی، مہنگائی، بے روز گاری، مفاد پرستی اور ذات پات وغیرہ جیسے روگ جنم لیتے ہیں پورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے دور جدید کی افادیت کے ساتھ ساتھ ہم نے کھویا بھی بہت کچھ ہے کبھی نہ پورے ہونے والے نقصانات سے دو چار ہو ئے ہیں جس طرح انسانی جسم میںقبض کو کئی بیماریوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح معاشرے کے جسم سے اخلاقیات کے ختم ہو جانے سے کئی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں ایک زمانہ تھا جب گائوں یا شہر کے محلے میں فوتگی ہو جاتی تھی تو جب تک میت کو دفنا نہیں دیا جاتا تھا تب تک گھروں میں چولہے نہیں جلتے تھے پورا گائوں یا محلہ سوگ میں مبتلا ہو جاتا تھا دیہاتوں میں تو اس قدر سناٹا چھا جاتا تھا جیسے مرنے والے کے ساتھ سارا گائوں ہی مر گیا ہو ہر آنکھ اشکبار ہو تی تھی رسیم چہلم تک ریڈیو ٹیب ریکارڈر ٹیلی ویژن کو اُٹھا کر صندوق میں بند کر دیا جاتا تھا شادی بیاہ کی تقریبات مکمل طور پر معطل کر دی جاتی تھیں قبر کشائی کیلئے پوری گائوں کے نو جوان اکھٹے ہو کر یہ اہم فریضہ ادا کرتے اگر خدا نخواسہ کبھی کوئی طلاق کا واقعہ پیش آتا تو گائوں کے معززین کہیں دور جا کر طلاق لکھنے کے واقعہ یا فیصلے کو سر انجام دیتے تا کہ اس کا عذاب پورے گائوں پر نہ نازل ہو اور بیٹی والوں کے گھر میں کئی دنوں تک افسوس کرنیو الوں کا آنا جانا لگا رہتا ایک عرصے تک وہاں کی فضا ء سو گوار رہتی تھی اگر کوئی انسانی قتل جیسی واردات ہو جاتی تو اعلیٰ اخلاق پر فائز آسمان کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ابر آلو د فضا اور آسمان پر لالی کو قتل کی علامت سمجھا جاتا تھا راستے میں پڑے کانٹوں کو اُٹھا لیا جاتا تھا تا کہ کسی دوسرے کے پائوں میںنہ چھُبیں محبت اور بھائی چارے کا یہ عالم تھا کہ شادی بیاہ کی تقریبات ہفتہ بھر جاری رہتی تھیں بچے بچپن میں ہی اخلاقی تربیت سے مالا مال ہوتے تھے ایک دوسرے سے چھوٹی اُنگلی ملا کر دوستی پکی کرتے اب گلے مل کر بھی اندر کی میل صاف نہیں ہوتی اور اسی چھوٹی انگلی کو ملا کر بچے کچی کرنے کا عمل کرتے ہیں دیسی اور قدرتی کھانوں کا استعمال کر کے لمبی عمر یں اور صحت پانے والے اب ولایتی کھانوں کی بھینٹ چڑھ کر اپنی صحت اور لمبی عمروں سے بھی محروم ہو چکے ہیں ہارٹ اٹیک کو خالصاََاُمرا کی بیماری سمجھا جاتا تھا جس سے اب علاج نہ ہونے کی وجہ سے غُربا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں بڑے بڑے تنازعات کا حل فوری انصاف پر مبنی پنچائیتوں کے ذریعے ہو تا تھا مگر اب آج کل اِسی جدید دور میں تمام عمر تھانے کچہریوں میں بسر ہو جاتی ہے عمر کے آخری حصے میں کوئی چوٹ لگتی یا تکلیف ہوتی تو منہ سے اس خالص اور انمول رشتے ہائے ماں کی صدا نکلتی تھی مگر اب فیڈر نے ماں سے بچہ چھین لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ماں بیٹے کا مضبوط ترین رشتہ بھی کمزور ہو چکا ہے بیٹا باپ کو اور باپ بیٹے کو بیٹا ماں کو بھائی بھائی کو قتل کرنے جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں بیٹی کی مضبوط ترین پناہ گاہ باپ کا گھر بھی اس کی زندگی اور عزت کیلئے محفوظ نہیں رہا اپنے خاوند کو مجازی خدا سمجھنے والی عورت نام نہاد مغربی آزادی اور اُسی آزاد ی کا پر چار کرنیو الے ہمارے ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے فیشن اور آزادی کی دھن میںمگن آج کی خواتین اپنے رویوں کی وجہ سے طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافے کا خود بہت بڑا سبب بن چکی ہیں اس جنسی فاقہ کش قوم کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہو چکی ہے کہ سب سانجھے سمجھے جانے والے بچے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کا رجحان جس تیزی سے بڑ ھ رہا ہے یہ سب اپنی روایات دین سے دوری اور پیغمبرعظیم حضرت محمدصلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے پیغام کو بھول جانے کا نتیجہ ہے ہم نے جس تیزی سے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے اس کو آہستہ آہستہ حاصل کرنے میں بھی صدیاں لگ جائیں گی ۔ اچھا جی رب راکھا
جیوندے رہے تاں فیر ملاں گے
بھَرماں دے کھنڈراں اُتے

Leave a Reply

%d bloggers like this: