بھان متی نے کنبہ جوڑا

گوجرانولہ جلسہ میں ماضی کے دشمنوں اور موجودہ دوستوں کی تقریروں پر کیا رد عمل سامنے آیا اسکا ذکر بعد میں کرونگا مگر پہلے یہ بتا دوں کہ جلسوں سے حکومتیں نہیں جاتیں عمران خان کے مینار پاکستان جلسے سے کوئی نہیں گیا اگر جلسوں سے جانا ہوتا تو پی ٹی آئی نے ٹکا کر 126 دن جلسوں میں لگائے 1986میں بے نظیر کا جلسہ اور عمران خان کا لاہور مینار پاکستان کے جلسے کے سامنے گوجرانوالہ کا جلسہ کچھ نہیں تھا گوجرنوالہ جلسے میں میاں نوازشریف نے 11دفعہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لیا اور یہی باجوہ ہے جسے (ن) لیگ نے اپنے ووٹ دے کر مدت ملازمت میں توسیع دی ہے فوج نے اب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے مگر گیٹ نمبر 4کی پیداوار اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ فوج اگر چاہے تو انہیں اقتدار میں شامل کرسکتی ہے مگر اب ایسا نہیں ہے یہ سب کو معلوم ہے کہ فوج کے ان لوگوں پر بہت سے احسانات ہیں انکی انگلیاں پکڑ کر انہیں اقتدار کے ایوانوں میں دھکیلا گیا اور اب یہی لوگ اپنے محسنوں پر ہرزہ سرائی کرتے ہیں کیونکہ عوام میں جا نہیں سکتے انہیں اپنی لوٹ مار کا اندازہ ہے اسی لیے تو انہوں نے جان بوجھ کر اس فرسودہ نظام سے نجات حاصل نہیں کی جو نظام 73سالوں میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں نہیں دے سکا وہ قوم کو عزت اورتحفظ کیا دے گا؟اس نظام نے عوام دشمن مافیا کو جنم دیا اوریہ بدقسمتی ہے کہ ریاست کمزور اور مافیا طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے بعض سیاسی رہنما بظاہر تو جمہوریت کے علمبردار ہیں مگر وہ بادشاہوں کی طرح اٹھتے بیٹھتے اور سوچتے ہیں انکی پارٹیوں میں جمہوریت ہے نہ ہی انکے ذہنوں میں یہ سب لوگ صرف عوام کو دھوکہ اور فریب دے رہے ہیں اور اسی سوچ نے پاکستان کو مضبوط اور خوشحال نہیں ہونے دیاعوام کو جمہوریت کا لالی پاپ دیکر اور ترقی کے سہانے خواب دکھا کرایک جاتا ہے تو دوسرآ جاتا ہے بینظیر کی حکومت ختم کرنے کے لیے نواز شریف نے ایڑی چوٹی کا زور لگایااسی طرح بینظیر نے نواز شریف کی حکومت کو گرانے میں ہر رکاٹ توڑ دی تھی اور اب یہ سب اکھٹے ہوکر عمران خان کی حکومت ختم کرنا چاہتے ہیں محاذ آرائی اور مفاہمت کی سیاست نے ملک کے 73 سال ڈبو دئیے ہیں اور ابھی تک اس ٹولے کو سمجھ نہیں آئی، ذاتی مفادات کیلئے ملک، اداروں، نظریئے اور معیشت کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے ہر دور میں یہی کہا جاتا رہا کہ حکمران بد مست اور اپوزیشن مفاد پرست ہے اس نظام نے ان کی پرورش کی ہے جس سے نکلنے کیلئے جامع اصلاحات اور جمہور کی حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے اس وقت کسی کے پاس مسائل سے نکلنے کا لائحہ عمل نہیں ہے، کرپشن، ذاتی مفادات اور اپنی بقا کیلئے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے یہی لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اسکے نشے میں مبتلا ہو کر ہوش کھو جاتے ہیں اس وقت ملک میںمہنگائی، معاشی بدحالی، جہالت اور صحت کا کتنا بڑا بحران ہے اس سے کیسے نکلا جائے کسی کے پاس کوئی حل نہیں مگر سیاسی رسہ گیر عوام کی بوٹیاں نوچ کر سر عام عیاشیوں میں مبتلا ہیں اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں اس وقت ضرورت ہے تو سخت احتساب کی ضرورت ہے تاکہ چھوٹے چوروں کے ساتھ ساتھ بڑے چور بھی جیل میں مشقت کرتے ہوئے نظر آئیں ورنہ تو یہ لوگ ایسے ہی جلسے جلوس کرکے عوام کا وقت ضائع کرتے رہیں گے جیسا گوجرانوالہ میں ہوا اس جلسہ میں مختلف مقررین تقریریں کرتے جارہے تھے اور انکی باتیں سن کر ہم چار لوگ ہنس رہے تھے میرے پاس دفتر میں بیٹھے ہوئے ان میں ایک ندیم دوسرا احمد تیسرے فرد بخاری صاحب اور چوتھا میں تھاان میں سے ندیم اور احمد ہر بار میاں نواز شریف کو ووٹ دیتے تھے مگر اب انہیں سوشل میڈیا نے اتنا باخبر کردیا ہے کہ وہ ہر بات پر غور کرنا شروع ہوگئے ہیںمختلف تقریروں پر انکی طرف سے جو دلچسپ ریمارکس دیے جاتے رہے وہ اور حکومتی ترجمانوں کا رد عمل آپ کے گوش گذار کردوں باقی کی باتیں بعد میں لکھوں گا مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہاہے کہ پانامہ کی سازش کا مقصد ملک کو کمزور کرنا اور نوازشریف کی حکومت گرانا تھا محب وطن صرف آئین کو توڑنے والے ہیں باقی سب غدار ہیں تاریخ اور حقائق بڑے تلخ ہیں۔ان جملوں پر دوستوں کا رد عمل تھا کہ پانامہ نے تو آپ کی حقیقت عوام پر کھولی تھی ورنہ تو ہم آپ کو معصوم ہی سمجھتے رہتے اور ہم لٹتے رہتے ، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے اب حکمران ہم سے این آراو مانگ رہے ہیں لیکن ہم انہیں این آر او نہیں دے رہے ۔مولانا صاحب پھر آرمی چیف کے پاس کیا لینے جاتے ہیں آپ لوگ ، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ اب سلیکٹڈ کو ہمارے پیج پر آنا ہوگا ورنہ جانا ہوگا فاطمہ جناح نے پارلیمانی جمہوریت کے لئے جدوجہد کی۔بلاول نے کیا خوب فرمایا سبھی سلیکٹڈ تو اسکے اردگرد موجود ہیں اور خود بھی سلیکٹ کیا ہوا ایک مہرہ ہی تو ہے اور فاطمہ جناح کی خوب بات کی کیونکہ انکے اسٹیج سیکریٹری کے والد نے ہی محترمہ فاطمہ جناح کی اسی شہر گوجرانولہ میں تضحیک کی تھی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین کی بالا دستی قبول نہ کرنے والا غدار ہے۔بلکل درست فرمایا آپ نے اور وہ سب تو اس وقت آپ کے ساتھ موجود ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازشریف نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے حکومتیں آنی اور جانی چاہئیں جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا وہ حال ہوتا ہے جو آج ہو رہا ہے ، اب پتا چلا سسلین مافیا کیا ہوتا ہے۔جی بلکل سب کو اب پتا چل گیا کہ وہ مافیا آپ لوگ ہی ہو جنہیں صرف اقتدار اور پھر لوٹ مار کے سو
ا کچھ نظر نہیں آتا ۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم جمہوریت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں فراڈ کرنے والے زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتے ۔بلکل آپ نے بھی درست فرمایا کہ فراڈ کرنے والے زیادہ دیر نہیں چل سکتے اسی لیے آپ لوگ ٹھہر نہیں سکے پنجاب سے آپ کا صفایا ہوگیا اور جمہوریت کون سے والی انتقام والی جسکا آپ نے خوب لیا سندھ کو لوٹ لیا اور آپ کو تو راجہ رینٹل کا خطاب بھی مل چکا ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں ، حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے ہم ووٹ کی عزت کو بحال کریں گے۔اچھا جی آپ نے ہی توووٹ کی عزت بحال کرنی ہے تاکہ لندن اور دبئی سمیت پورے ملک میں پاکستان سے لوٹے ہوئے پیسوں کی جائیدادیں خریدی جائیں ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا بیانیہ صرف عوام کے ووٹ کا احترام کریں جو امانت عوام آپ کو ووٹ کی صورت میں دیتے ہیں اس میں خیانت نہ کریں ۔ ووٹ کو عزت دو ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ملک میں آئین کی حکمرانی ہو گی ۔ جی بلکل ووٹ لیکر آپ لوگ تو عوام سے ایسے دور بھاگتے ہو جیسے کوا غلیل سے پروٹوکول نے تو آپ لوگوں کی حالت ہی خراب کردی تھی، سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہاہے نواز شریف کا بیانیہ کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے بلکہ اداروں میں ان کرداروں کے خلاف ہے جو آئین شکنی کرتے ہیں اور اداروں کو کمزور کرتے ہیں۔ہاں جی آپ لوگوں نے ہی پرچیوں کے زریعے اپنے غنڈوں کو ہر ادارے میں بھرتی کرکے میرٹ کی دھجیاں آڑائی قانون شکنی ایسی کہ جسکی مثال آج تک قائم نہیں ہوسکی اور آج انہی لوگوں کی وجہ سے ہر ادارہ تباہ ہوگیا ۔اب کچھ باتیں حکومتی ایوانوں سے بھی جو اس جلسے کے بعد سننے کو ملی وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مولانا صاحب پہلے بھی آکر دھمکیاں دے کر گئے تھے لیکن ان سے یہ پوچھیں کہ اثاثے کیسے بنائیں، اس کا یہ لوگ جواب نہیں دے رہے ماضی میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے اب ساتھ کھڑے ہیں جو ملکرعوام کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنانا چاہتے ہے، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپوزیشن کا نام لیے بنا کہا ہے کہ بھان متی نے کنبہ جوڑا کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ، بابر اعوان نے کہا کہ گیارہ رکنی پاکستان ڈکیت موومنٹ کی ٹیم ایک طرف ہمارا کپتان ایک طرف، او پی سی کے وائس چیئرمین چوہدری وسیم اختر رامے کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان واحد مذہبی رہنما ہیں جو صرف چوروں کی امامت کرتے ہیں۔ اور تمام چوروں کے متفقہ لیڈر کے طور پر سامنے ہیں۔ 11پارٹیاں ملکر بھی عوام کو باہر نہیں نکال سکیں۔مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی عامر مغل نے اس جلسہ کے حوالہ سے کہا کہ پاکستان ڈاکو موومنٹ عوام سے لوٹے ہوئے اربوں روپے خرچ کر کے بھی عوام کو جمع نہ کر سکی کیونکہ پاکستان میں مہنگائی کے اصل ذمہ دار گوجرانوالہ اسٹیج پر اکٹھے تھے۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ جلسے کے حوالے سے کہا کہ ایک ارب تین کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود گیارہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو آٹھ ہزار سے زائد افراد اکٹھے نہ کر سکنے پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے اور عمران خان نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ احتساب کا عمل شروع ہوگا تویہ سب اکٹھے ہو جائیں گے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: