یکساں نصاب تعلیم ایک خوبصورت ادھورا خواب

یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرنے کی بات ہمیشہ تحریکِ انصاف کے رہنمائوں کی تقاریر کا اہم جزو رہی ہے لیکن تاحال پاکستان تحریکِ انصاف محض زبانی جمع تفریق سے اس ولوے کو حقیقت کا روپ دینے میں مصروف ہے۔ پانچ سال خیبر پختونخواہ میں حکومت کرنے کے باوجود صوبہ بھر میں یکساں تعلیمی نصاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے اگرچہ یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے لیکن یہ اعلان بھی محض رسمی اعلان ہی رہا تو اس سے ملک و قوم کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دینی ادارے کی ایک تقریب میں ایک بار پھر نصاب کے حوالہ سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے نیشنل کریکولم ونگ ایک نصاب کی تکمیل میں مصروف ہے جو ممکنہ مارچ 2021ء تک نئے نصاب کو آخری شکل دے کر ملک میں نافذ کرے گی۔ طبقاتی نظام تعلیم اور نصاب نے ملک کو مختلف کیٹیگریزمیں تقسیم کر رکھا ہے۔ نصاب کو یونیورسل بنانے سے بلاشبہ طبقاتی نظام کا عملی خاتمہ عمل میں آنے کا سبب بن سکتا ہے لیکن کیا عمران خان اور اُن کی کابینہ اپنے اس فیصلے کو حقیقت کا روپ دھارنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی تجار کے ساتھ اس پالیسی کو نافذ کرسکے۔ کیا ایچیسن، شوئفات انٹرنیشنل، کریسنٹ، لاہور گرائمر سکول، بیکن ہائوس، سٹی سکول، لکاس انٹرنیشنل سکول سسٹم، روٹس انٹرنیشنل سکول سسٹم، امریکن لائسم سکول سسٹم سمیت ہزاروں نجی ادارے بھی بیک وقت حکومتِ پاکستان کا وضع کردہ یکساں تعلیمی نصاب پڑھانے کے پابند بنائے جائیں گے؟ عملاً تو یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ ایلیٹ کلاس یکساں تعلیمی نصاب کے فیصلے کو کسی طور تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ عمران خان کا فیصلہ اگرچہ لائق تحسین ہے لیکن بیوروکریسی خود اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر اس کے نفاذ میں روڑے اٹکائے گی۔ یکساں تعلیمی نصاب کیا اس معیار کا وضع کیا جا رہا ہے جو بیک وقت دینی اداروں سمیت ایلیٹ کلاس، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے طبقات کے لیے قابلِ قبول ہوگا؟ ایسا نصاب وضع کرنا بھی ایک نہایت پیچیدہ اور دشوار، کٹھن کام ہے۔ تعلیم کو تجارت بنانے کی کمپنیاں کس طرح حکومتی فیصلہ پر راضی ہوسکتی ہیں۔ تعلیمی فلاح و بہبودکے نام پر رجسٹرڈ نام نہاد بڑی این جی اوز یکساں تعلیمی نصاب کے فیصلہ پر کیسے عمل پیرا ہوں گی؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کیا جائے۔ فلاح و بہبود کے نام پر تمام تعلیمی ادارے حکومتی تحویل میں لے لیے جائیں اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ان اداروں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مثبت فلاحی پراجیکٹس میں استعمال کیا جائے۔ ایک نظام تعلیم، ایک نصاب پالیسی کے تحت پرائیویٹ سیکٹر سے تعلیم کی تجارت کے سلسلے کو فی الفور بین کردینا چاہیے۔ موجودہ سرکاری سکولز اور ایلیٹ کلاس کے سکولز کو ایک یونیورسل ایجوکیشن بورڈ سسٹم کے تحت حکومتی کنٹرول میں لے لیا جائے۔ صرف پروفیشنل ایجوکیشن کو پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے چلانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ رسمی تعلیمی ادارے حکومتی پالیسی کے تحت حکومتی نصاب تعلیم پڑھانے کے پابند بنائے جائیں۔
دینی تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی ادارے ایک نصاب تعلیم کے تحت اگر تعلیم کی تکمیل کے فریضہ کی ادائیگی کریں گے تو یقینا اس سے ایک بہتر اور ذمہ دار فرض شناس نوجوان نسل کی تشکیل میں آسانی ہوگی۔ عمران خان کا ویژن کسی بھی شعبۂ زندگی میں منفی نہیں ہے لیکن راستے کی مشکلات، بیوروکریسی کے روایتی رویوں، منفی ہتھکنڈوں کے باعث حکومتی جگ ہنسائی کا سبب بنا ہوا ہے۔ دینی تعلیمی اداروں اور رسمی و غیر رسمی (نان فارمال سکولز) کا تدریسی نصاب اگر یکساں ہوگا تو قومی مفادات کو تحفظ حاصل ہونے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ حکومت اپنے نیشنل انٹرسٹ کو بامقصد تعلیمی نصاب کے ذریعے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ قومی مفادات کا تحفظ اور معاشرتی ترقی کا دارومدار بھی نصاب تعلیم کی یکسانیت میں مضمر ہے۔ اگر فرسودہ طرزِ تعلیم، فرسودہ نصاب تعلیم کو معمولی تدوین کے ساتھ ازسر نو نافذ العمل قرار دیا گیا تو بجائے ترقی حاصل کرنے کے ملک تنزلی کی طرف گامزن ہوگا۔ اس لیے نصاب سازی کے لیے قومی سوچ، مثبت سوچ اور طرزِ فکر کو اختیار کرنے سے ہی ملکی ترقی عمل میں آ سکتی ہے۔ محض پرائمری ایجوکیشن کے نصاب کو یکساں کرنے سے خاطر خواہ ثمرات حاصل نہیں کیے جاسکتے بلکہ مڈل، سیکنڈری، ثانوی، گریجوایشن، پوسٹ گریجوایشن سمیت ایم فل اور ماسٹرز ڈگری کے نصابات کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ نصاب ساز کمیٹی کو ہر سطح پر حکومتی وسائل اور حکومتی مسائل کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔ تمام اقتصادی، سماجی، اخلاقی، دینی معاملات کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر نئے نصابات کو معین کرنے میں ہی قومی ترقی اور معاشی ترقی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر نصاب ساز کمیٹیاں تشکیل دے کر فی الفور نئے تعلیمی سیشن سے پہلے نئے نصاب کے ٹارگٹ کو مکمل کرنا ہوگا۔ ہر سطح پر یکساں نصاب تعلیم وضع کرنے کا فیصلہ بلاشبہ تبدیلی حکومت کا ایک مستحسن فیصلہ ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: