حُبِّ عَاجِل

انسان کی فطرت میں عجلت ہے اور نفع عاجل کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”انسان جس طرح بھلائی کے جلد حصول کی دعا کرتا ہے ،اسی طرح برائی کی (بھی) دعا کرتا ہے اور انسان بہت جلد باز ہے،(بنی اسرائیل:11)‘‘۔ برائی کے لیے دعا کرنے کے معنی ہیں: ”کسی کو ضرر اور نقصان پہنچنے کی دعا کرنا‘‘۔ وہ آخرت تک انتظار کرنے کا روادار نہیں ہے ،بلکہ آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا یا ایمان رکھتا ہے تو اثرات اس پر مرتب نہیں ہوتے۔ انسان ایک بالا تر ہستی کے طور پر تو کسی درجے میں خد ا کے وجود کو ماننے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ،لیکن اس خالق ومالک کے احکام کو اپنی انفرادی واجتماعی زندگیوں پر نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے،یعنی ایک فعال اور ہر آن مؤثر بالذات رب کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔آج کا انسان اپنے خیر وشر کا فیصلہ اپنی اجتماعی دانش سے کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح آج کا انسان بھی ماضی کے انسان کی طرح حیات بعد الموت کا قائل نہیں ہے،اگر ہے بھی تو عملی رویہ منکرینِ آخرت جیسا ہے۔ ہمارے ہاں جو لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، ظلم وعدوان کا دور دورہ ہے، مظلوم لوگ اپنے حقوق اور انصاف کے لیے ترس رہے ہیں، صرف اسی نظام کو چلانے والے ہی نہیں، دیگر بالادست طبقات کا شعار بھی یہی ہے ،یہاں چند مُستثنیات کے سوا دیانت وامانت کاپیکر وہی ہے جس کے پاس کوئی اختیار ہے۔ہر ایک کے نزدیک جائز وناجائز کے اپنے اپنے معیارات ومیزان ہیں ،جس پر وہ خود کو سرخرو اور دوسروں کو خوار و زبوں قرار دیتے ہیں ۔ان تمام عوارض کا سبب اِسی دنیا کی عشرتوں کو اپنی منزل مراد بنالینا اور آخرت پر یقین وایمان کی کمزوری ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(1) ”اور انہوں نے کہا: ہماری زندگی صرف اسی دنیا کی ہے اور ہم (مرنے کے بعد) نہیں اٹھائے جائیں گے ، (انعام: 29)‘‘۔(2)”اور اگر آپ ان سے کہیں کہ تم یقینا موت کے بعد اٹھائے جائو گے ،تو کافر یہ ضرور کہیں گے، یہ صرف کھلا جادو ہے،(ہود:7)‘‘۔موجودہ دور سمیت انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں جو موت کو فنائے کُلّی اور حیات بعد الموت کو ناممکن تصور کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(1)”اور وہ ہمارے لیے مثال بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا: جب یہ ہڈیاں بوسیدہ ہوکر گل جائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟، کہہ دیجیے! ان کو وہی زندہ فرمائے گا ،جس نے ان کو پہلی بار پیدا فرمایاتھا اور وہ ہر طرح کی پیدائش کو خوب جاننے والا ہے، (یٰسین:78-79)‘‘۔(2)”اور انہوں نے کہا: کیا جب ہم (مر کر) ہڈیاں ہوجائیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ،تو پھر کیا ہمیں نئی خلقت کی صورت میں اٹھایا جائے گا، آپ کہیے: تم پتھر بن جائو یا لوہا یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی (سخت) ہو(تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا)، تو عنقریب وہ کہیں گے: ہم کو دوبارہ کون پیدا کرے گا، کہہ دیجیے :وہی (خالق)جس نے تم کو پہلی بار پیدا فرمایا تھا، (بنی اسرائیل:50-51)‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کے حوالے سے حیات بعد الموت کی مثالیں بیان فرمائیں تاکہ بندوں کے ذہن میں موت کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جانے کے بارے میں کوئی تشکیک یا تردُّد ہو ،تو وہ زائل ہوجائے ، ارشاد فرمایا:
”یا جیسے وہ شخص جس کا گزر ایک بستی پر ہواجو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی، اس نے (تعجب سے)کہا: اللہ اس بستی والوں کو ان کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟،تو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ،پھر اسے زندہ کرکے اٹھایا۔فرمایا: تم کتنی مدت اس حال میں رہے ؟،کہا:پورا دن یا اس کا کچھ حصہ رہا ہوں، فرمایا: بلکہ تم ایک سو سال تک ٹھہرے رہے ،اب تم اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو جو اب تک بدبودار نہیں ہوئیں اور اپنے گدھے کو دیکھو تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنائیں اور ان ہڈیوں کو دیکھو ،ہم کیسے ان کو ملا کر جوڑتے ہیں، پھران پرگوشت چڑھاتے ہیں، پھر جب ان پر (حیات بعد الموت) کی حقیقت واضح ہوگئی تو کہا:میں یقین کرتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے،(البقرہ:259)‘‘۔
مفسرین کرام نے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندے کو حیات بعد الموت کے بارے میں عملی حقیقت کا مشاہدہ کرایا ، وہ عزیر علیہ السلام تھے ۔ اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اس تجربے سے گزرے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اور یاد کیجیے!جب ابراہیم نے کہا: اے میرے پروردگار!مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا؟،فرمایا: کیا آپ کو یقین نہیں ؟،کہا: کیوں نہیں (ضرور ہے )،لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے، فرمایا: تو چار پرندے لیں ،پھر ان کو خود سے مانوس کرلیں، پھر(ان کو ذبح کر کے)ان کے جسم کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دیں، پھر انہیں بلائیں ، وہ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس چلے آئیں گے اور یقین رکھو!اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے،(البقرہ:260)‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت کے بارے میں یقین راسخ کرنے کے لیے اپنی شانِ جلالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
”اور وہی ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور گردش لیل ونہار بھی اسی کے اختیار میں ہے ،تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو، بلکہ انہوں نے وہی کہا جو پہلے لوگ کہہ چکے ہیں، انہوں نے کہا: بھلا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیںگے ،تو کیا ہم ضرور (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے ،بے شک ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے بھی اس سے پہلے ایسا ہی وعدہ کیا گیا تھا، یہ تو محض پہلے لوگوں کی افسانوی باتیں ہیں،آپ کہہ دیجیے!یہ زمین اور اس میں جو لوگ ہیں، کس کی ملکیت ہیں،اگر تم جانتے ہو ،عنقریب وہ کہیں گے: (سب کچھ) اللہ کا ہے، کہیے: کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ،آپ پوچھیے!سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ ،عنقریب وہ کہیں گے: اللہ ہی (سب کا)رب ہے ،کہیے!پھر تم ڈرتے کیوں نہیںہو، آپ کہیے!ہرچیز کی بادشاہت کس کے ہاتھ میں ہے، وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اگر تم جانتے ہو، عنقریب وہ کہیں گے: (یہ سب کچھ )اللہ کا ہے ،پھر کہاں سے تم پر جادو کیا گیا ہے ،بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں، اللہ نے (اپنی )کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کے ساتھ کوئی (اور)معبود ہے ،ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لے کر الگ چلا جاتا اور ان میں سے ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا ،تو اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اُس کی بابت بیان کرتے ہیں، وہ ہر باطن اور ظاہر کا جاننے والا ہے ،تو وہ ہر اس چیز سے برتر ہے، جسے وہ (اس کا)شریک ٹھہراتے ہیں، (المؤمنون:80-92)‘‘۔
انسان جاہ واقتدار اور دولت پر بڑا ناز کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ اُس کے لیے قاضیُ الحاجات بھی ہے اور دافعُ البلیّات بھی،مگر دولت عطا کرنے والے مُنعمِ حقیقی کو فراموش کردیتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس خوش فہمی کا انجام تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا ، فرمایا:
(1)”جو کوئی(صرف)دنیا کا طلب گار بنتا ہے ،(ان میں سے) ہم جس کے لیے چاہیں، جتنا چاہیں ،اسی دنیا میں جلد دے دیتے ہیں،پھر اس کے لیے ہم نے جہنم بنادی ہے ،جس میں وہ ملامت سنتا ہوا دھتکارا ہوا داخل ہوگا اور جو آخرت کا طلب گار ہو اور ا س کے لیے شایانِ شان کوشش (بھی) کی اور مومن (بھی)ہے ،تو (درحقیقت) انہی لوگوں کی کوشش (اللہ کی بارگاہ میں)مقبول ہوگی، (بنی اسرائیل:18-19)‘‘۔اِسی طرح جب قیامت میں ہر ایک کا نامۂ اعمال اُس کے ہاتھ میں تھمادیا جائے گا تو سب حقیقت آشکار ہوجائے گی ،پھر پچھتائے گا ،مگر یہ پچھتاوا بعد از وقت ہوگا ، فرمایا:
”اور جسے اس کا صحیفۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ (فخر سے)کہے گا: لو میرا نامۂ اعمال پڑھو، مجھے تو یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پانے والا ہوں، سو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا، بلند وبالا جنت میں، جس کے پھلوں کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے، (ان سے کہا جائے گا:) مزے سے کھائو اور پیو، ان نیک کاموں کے عوض جو تم نے گزشتہ ایام میں کیے اور رہا وہ شخص جس کا صحیفۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں تھمادیا جائے گا، سو وہ کہے گا: کاش!میرا نامۂ اعمال مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور مجھے (سرے سے) معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش !وہی (موت)میرا قصہ تمام کردیتی، (آج) میرا مال میرے کسی کام نہ آیا، میرا اقتدار جاتا رہا، (الحاقہ:19-29)‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی جانب بھی متوجہ فرمایا کہ محض دنیا جن کا مُدّعا ومقصود ہے ،اُن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور جن کا آخرت پر ایمان ہے ،اُن کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح ہے ، فرمایا:
(1)”جو(صرف)آخرت کی کھیتی چاہے،ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرے، ہم اسے اس میں سے کچھ عطا کردیتے ہیں اور ا س کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے، (الشوریٰ:20)‘‘۔
(2)”ہرگز نہیں!بلکہ تم جلدی ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو،(القیامہ:20-21)‘‘۔
(3)”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب !ہمیں دنیا (ہی )میں (سب کچھ )دے دے اور اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اُن میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں :اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اورہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اُن کی کمائی سے حصہ ہے ،(البقرہ:200-02)‘‘۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”دنیا ہاتھ میں رکھنی جائز ،جیب میں رکھنی جائز ،کسی اچھی نیت سے اس کو جمع رکھنا جائز، باقی قلب میں رکھنا جائز نہیں (کہ دل سے بھی محبوب سمجھنے لگے )دروازہ پر اس کا کھڑا ہونا جائز، باقی دروازہ سے آگے گھسنا نہ جائز ہے ،نہ تیرے لیے عزت ہے ،(فیوض یزدانی ،مجلس:51،ص:363)

Leave a Reply

%d bloggers like this: