آپ اپنے مندروں میں جانے کیلئے آزاد ہیں، مگر۔۔۔

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ رجحان ”کیا ہندو کم درجے کے پاکستانی ہیں؟“ چلایا جارہا ہے۔سوچا ذرا اس کا جواب دے دیں۔
ایک بات میں پاکستان میں رہنے والے ہندوﺅں پر واضح کرتا چلوں۔ پچاس لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کرکے اپنے لیے ایک الگ اسلامی ریاست قائم کی تھی تا کہ اس میں اسلامی قوانین اور شریعت کا نفاذ کیا جاسکے۔ ہمارا یہ مضمون پڑھتے وقت اس اہم بات کو مدنظر رکھیے گا۔
برصغیر کے ہندو کبھی بھی پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے بہیمانہ مزاحمت کے ساتھ مسلمانوں کے اس مادر وطن کی تعمیر کوروکنے کی کوشش کی۔ اس نسل کشی کے نتیجے میں ہم نے 1947 ءمیں پچاس لاکھ مسلم جانیں گنوائیں۔ ہندوﺅں کا پاکستان کی تعمیر میں کوئی کردار نہ تھا۔ یہ کسی بھی تعصب سے پاک ایک تاریخی حقیقت ہے۔
مسلمانوں نے ہندوﺅں پر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔ نہ کوئی نسل کشی ہوئی، نہ زبردستی کسی کو مذہب بدلنے پر مجبور کیا گیا اور نہ ہی کوئی جبری ہجرت کروائی گئی۔ ذرا تصور کیجیئے، ہزار سال کہ جس میں درجنوں مختلف حکمران کہ جن کا تعلق مختلف سلطنتوں سے تھا، سب نے ہندوﺅں کے ساتھ ایک سی رواداری اور برداشت کا رویہ رکھا۔ یہ ہے اسلام!
آج ہزار سال کے بعد تقسیم شدہ ہند میں جب ہندوﺅں کے پاس اقتدار آیا تو ان کا مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہے؟ان کی تو نسل کشی کی جارہی ہے۔ لہذا یہ بات آغاز میں ہی واضح ہوجائے کہ پاکستان شریعت کے نفاذ کیلئے بنا تھا نہ کہ سیکولر قوانین کے اطلاق کی غرض سے۔ گو کہ آج ہمارے ملک میں دونوں ہی قوانین رائج ہیں۔
چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ اور شرعی قوانین، کہ جو تمام مسلم سلطنتوں میں رائج تھے، میں ہم غیر مسلموں کے ساتھ برداشت اور احسان کا سلوک ہوتا دیکھتے ہیں۔ عیسائی، یہودی، آتش پرست ، مشرک اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے نہایت امن کے ساتھ مسلمان ریاستوں کے اندر رہا کرتے تھے۔
مگر یہ جان لیجیئے کہ جو شرعی قوانین ان اقلیتوں کو حفاظت فراہم کرتے ہیں، ان کی چند شرائط بھی ہیں۔
شریعت مشرکین کیلئے مسلمانوں کے آباد کیے ہوئے شہروں میں مندر بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔ مسلم حکومت پہلے سے موجود مندروں میں عبادت کی اجازت تو دے سکتی ہے، مگر وہ مسلمانوں کا پیسہ اور زمین نئے مندر بنانے میں صرف نہیں کرسکتی کہ جہاں بتوں کی پوجا ہو۔ یہ ہمارا شرعی قانون ہے!
پاکستان میں تمام ہندو، یہاں تک کہ ”اچھوت“ یعنی شودور اور دلت بھی ہندوستان سے زیادہ محفوظ ہیں۔ یہاں ان کے اپنے مندر ہیں اور بطور شہری انہیں پورے حقوق حاصل ہیں۔ یہ طاقت کے ایوانوں، سیاست، میڈیا یہاں تک کہ فوج میں بھی موجود ہیں اور ان سے کوئی جزیہ بھی وصول نہیں کیا جاتا۔
لہذا کوئی یہ ڈرامے بازی نہ کرے کہ پاکستان میں ہندوﺅں پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے اور یہ کہ مسلمان اسلام آباد میں بسنے والے 178 ہندوﺅں کیلئے مندر کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کرکے ان کے حقوق سلب کررہے ہیں۔براہ مہربانی ہماری شریعت اسلامی کی توہین نہ کریں۔
درحقیقت اس مندر کی تعمیر ملک میں بسنے والے کمینے سیکولر طبقے کی طرف سے سیاسی بازی گری ہے کہ جس کے ذریعے یہ پاکستان کے اسلامی تشخص کی توہین کرنا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد میں پہلے ہی سے صدیوں پرانے تین مندر موجود ہیں کہ جنہیں مسلمانوں نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔یہ 178 ہندو ان مندروں میں جانے کیلئے پوری طرح آزاد ہیں۔
پاکستانی اشرافیہ زیادہ تر کمینوں پر مشتمل ہے۔ یہ اسلامی قوانین کا مطالبہ صرف اس وقت کرتے ہیں کہ جب ان کے اپنے مفاد میں ہوتا ہے۔ مثلاً قتل کے مقدمات میں خون بہا کا قانون، کہ جواینگلو سیکسن قانون میں موجود نہیں۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے آئین کے مطابق شریعت کے خلاف کوئی قانون بن ہی نہیں سکتا۔
چنانچہ پاکستان میں بسنے والے ہندوﺅں سے ہم کہیں گے کہ آپ اپنے مندروں میں جانے کیلئے پوری طرح آزاد ہیں۔ ہم مسلمان آپ کو کبھی نہیں روکیں گے۔ مگر آپ ہم سے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہم آپ کیلئے اپنی پاک سرزمین پرکہ جس کو ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا ہے،بت پرستی کے اڈے بھی تعمیر کرکے دیں گے۔ لہذابلاوجہ شور نہ مچائیں اور سکون سے رہیں!
پاکستانی ہندوﺅں کو میری یہ مخلصانہ تنبیہ ہے کہ مودی کے یار اور پاکستان کے لادین کمینے آپ کو بھڑکانا چاہ رہے ہیںتاکہ پاکستان میں ہندو۔مسلم فساد برپا کیا جاسکے۔آپ اس دھوکے میں مت آئیے۔آپ یہاں محفوظ ہیں اور آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی پوری آزادی حاصل ہے، مگر شریعت کی توہین نہ کریں۔
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے کہ جس نے اپنے سبز ہلالی پرچم میں بھی اقلیتوں کو جگہ دی ہے، حالانکہ پورا سبز ہلالی پرچم زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔ہماری صلہ رحمی اور نرمی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اورپاکستان کی اسلامی ریاست میں شریعت اسلامی کے تابع رہیں۔

Syed Zaid Zaman Hamid

Syed Zaid Zaman Hamid, better known as Zaid Hamid, is a Pakistani right-wing political commentator, writer and columnist. His byline in newspaper articles has been Zaid Zaman.

Leave a Reply

%d bloggers like this: