پاک سرزمین کے غدار

0 4

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمان ریاستوں نے جب بھی بیرونی دشمنوں سے شکست کھائی ہے تو اس کی اصل وجہ اندر کے غدار تھے، اور یہ غدار ہمیشہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر پوری قوت اور طاقت کے ساتھ براجمان تھے۔
کوئی ملک کا وزیراعظم تھا، کوئی وزیر دفاع اور کوئی سپہ سالار۔۔۔
خلافت عباسیہ کی تباہی کے کئی اسباب ہیں، مگر اس کو ضرب قاتل اس وقت لگی جب خلیفہ کا وزیراعظم ابن علقمی غداری کرکے تاتاریوں سے مل گیا اور نہ صرف ریاست کے تمام خفیہ راز ہلاکو خان تک پہنچائے بلکہ اپنے اختیار اور طاقت کو استعمال کرکے چار لاکھ کی مسلح افواج کو بھی غیر مسلح کرکے تتر بتر کروادیا۔ نتیجہ پھر وہی نکلا جو تاریخ کا ایک عبرتناک باب ہے۔
میر جعفر اور میر صادق دونوں بنگال اور دکن کے سپہ سالار، وزیردفاع اور وزیراعظم تھے۔ اب تاریخ میں رہتے دم تک اس طرح جانے جاتے ہیں:
جعفر از بنگال، صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
مگر اس وقت ان کی غداری سے دو مسلمان ریاستیں نہ صرف تباہ ہوئیں بلکہ ہند میں ایک ہزار سال تک رہنے والی اسلامی حکومت بھی تباہ و برباد ہو کر ایسے فنا ہوئی کہ پورا ہند ہی کفار کا غلام بن گیا اور آج تک اس زخم سے لہو بہہ رہا ہے۔
بزرگ کہتے ہیں کہ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، جلد ہی ان کا جغرافیہ بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ ہم پاکستانی تو اس حکمت کا انتہائی تکلیف دہ عملی مظاہرہ دیکھ بھی چکے ہیں۔ ہم نے نہ بغداد کے غداروں سے کچھ سیکھا، نہ بنگال و دکن کے، نتیجتاً 1971 ءمیں اپنا جغرافیہ تبدیل کروابیٹھے۔
مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے پچاس برس کے بعد بھی اس قوم نے کوئی سبق سیکھ کر نہیں دیا۔ ایک ناقابل یقین بات لگتی ہے کہ 1971 ءکے اتنے بڑے سانحے پر کسی ایک غدار کو بھی نہ تو سزا دی گئی اور نہ ہی کوئی سبق سیکھا گیا۔ نتیجتاً آج دو نسلیں گزرنے کے بعد بھی ہم وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو پاکستان بنانے والی نسل نے کی تھیں۔۔۔ غداروں کو عہدہ، طاقت اور اختیار دینا۔۔۔!
شیخ مجیب الرحمن ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ تھا۔ 65 ءکی جنگ کے بعد ہی کھل کر بھارت کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو توڑنے کی سازش بناچکا تھا۔ اگرتلہ سازش تاریخی حقیقت بھی ہے اور عبرتناک باب بھی۔ ہر طرح کے قانونی اور آئینی شواہد ہونے کے باوجود کھلم کھلا غداروں کو نہ صرف باعزت بری کیا گیا بلکہ دوبارہ الیکشن میں حصہ دلوا کر ریاست کی حکمرانی تک حوالے کرنے کی نوبت آن پہنچی۔ اور پھر اس ریاستی حماقت کا بھی وہی نتیجہ نکلا جو بغداد و بنگال و دکن میں نکلا تھا۔
میں اللہ و حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ آج پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں غداروں سے اٹی پڑی ہیں۔ شرعی اور قانونی طور پر الطاف حسین، زرداری، نواز شریف، فضل الرحمن، اچکزئی، اسفندیار ولی اور منظور پشتین ہر لحاظ سے ملک و قوم و ملت کے غدار ہیں۔ یہ پاکستان کے وجود کو صرف اس وقت تک قبول کرتے ہیں کہ جب تک ان کو حق حکمرانی دے کر اس ملک و قوم کی ہڈیوں تک سے گودہ تک نکال لینے کی اجازت ہو۔ جس لمحے ان سے اختیار و طاقت و دولت لوٹنے کا موقع چھین لیا جائے، یہ کھلم کھلا ملک دشمن اوروقت کے مجیب الرحمن و میر جعفر و میر صادق و ابن علقمی بن کر نکلتے ہیں۔
اگر ایک پٹواری رشوت لے تو اسے کرپشن کہتے ہیں۔ جب ملک کا وزیراعظم رشوت لے تو اسے غداری اور معاشی دہشت گردی کہتے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان معاشی دہشت گرد تو ہیں ہی، مگر سیاسی اور دفاعی طور پر بھی کھلم کھلا دشمن کے مفادات کے لیے کام کرنے والے اور ملک و قوم و ملت کے غدار ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی نظریاتی پاکستانی نہیں ہے۔ دو ٹکے کے لچے لفنگے، سڑکوں پر گندی فلموں کے ٹکٹ بلیک کرنے والے، یا طوائفوں کے بازار میں گجرے بیچنے والے، شارٹ کٹ لگا کر سیاست کے ذریعے جب ملک و قوم کے حاکم بن بیٹھیں تو ہر قدم پر ان حرامزادوں کا کمینہ پن ابل ابل کر باہر آئے گا۔
میموگیٹ اٹھا کر پڑھ لیں، حسین حقانی اور زرداری نے یہ سازش کی تھی کہ امریکہ اور بھارت کے ذریعے جی ایچ کیو پر اس وقت حملہ کروایا جائے جب وہاں کور کمانڈر کانفرنس ہورہی ہو اور پھر امریکیوں کو اختیار دیا جائے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرسکیں۔ پاکستان کے حصے بخرے کرکے سندھ کو الگ کردیا جائے جہاں زرداری اپنی الگ حکومت بنالے۔ اس کیس کو فوج اور آئی ایس آئی کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا، مگر افتخار چوہدری جیسے جہنمی قاضی نے معاملے کو ایسا دبا دیا کہ آج کسی کو کان و کان خبر نہیں کہ زرداری کتنی بڑی چال چل گیا تھا۔۔۔
نواز شریف کو طیارہ اغواءکرنے کے کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مگر اس کا جرم تو فوج میں بغاوت کروانا تھا کہ جس پر نہ تو کوئی مقدمہ چلا اور نہ ہی اسے کوئی سزا سنائی گئی۔ فوج کے حاضر سروس سپہ سالار کے خلاف فوج میں ہی بغاوت کروا کر ڈی جی آئی ایس آئی کو خفیہ طور پر نیا سپہ سالار بنا دیا گیا اور جس کے نتیجے میں صورتحال اس قدر خطرناک ہوگئی کہ پاک فوج کے دستے مسلح ہو کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تقریباً خون خرابا کرنے صف آراءہوگئے۔ ملک میں دو سپہ سالار تھے، اور فوج تقسیم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف کو اس جرم پر کوئی سزا نہیں دی گئی۔ ابھی بھی دی جاسکتی ہے۔۔۔!
کیا الطاف حسین کے غدار ہونے پر کسی کو شک ہے۔۔۔؟
کیا اچکزئی، اسفندیار ولی اور منظور پشتین کے غدار ہونے پر کسی کو شک ہے۔۔۔؟
کیا فضلو کے بھارت اور پاکستان دشمن طاقتوں سے تعلقات پر کسی کو شک ہے۔۔۔؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عدالت نام کا کوئی ادارہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ ملک کے قاضی القضاءشراب کی بوتلوں پر تو ”ازخود نوٹس“ لے سکتے ہیں، مگر سیاست دانوں کی کھلم کھلا غداریوں پر سکتے طاری ہوجاتے ہیں۔
لہذا یہ کہنا کہ جب تک عدالتوں سے سزا نہ ہو کسی کو غدار نہیں کہا جاسکتا ایک بے معنی اور لا یعنی جملہ ہے۔ نہ غداروں پر مقدمے چلائے جاتے ہیں نہ ان کو سزائیں دی جاتی ہیں بلکہ جو جتنا بڑا غدار ہو ملک میں وہ حرامی اتنا ہی بڑا معزز ہوتا ہے۔
کیا فوج میں بھی غدار ہوتے ہیں۔۔۔؟
جی ہاں۔۔! جب ملک کا سپہ سالار شرمناک حد تک بدکردار ہوکہ اس کی حماقت اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ملک ٹوٹ جائے تو یہ جرم بھی غداری میں شمار ہوتا ہے۔ کسی بھی باکردار ملک میں ایسے سپہ سالار کو گولی سے اڑا دیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں یحییٰ خان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو بھٹو اور مجیب کے نصیب میں آیا، یعنی مکمل بریت۔۔۔
حال ہی میں فوج نے ایک لیفٹیننٹ جنرل اور بریگیڈیئر کو غداری کے جرم میں سزائیں سنائیں ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل کو تو شاید عمر قید دی گئی ہے، مگر بریگیڈیئر کو پھانسی چڑھا دیا گیا ہے۔ فوج نے اپنے اندر احتساب کرکے اچھی روایت قائم کی ہے۔
کیا ججوں میں بھی غدار ہوتے ہیں۔۔۔؟
جی ہاں۔۔۔! آج اگر پاکستان کی ریاست تباہ و برباد ہے تو عدالتی دہشت گردی کی وجہ سے ہے۔ سیاسی یا نظریاتی طور پر اپنے فیصلوں کو دشمنوں کے ہاتھ فروخت کرنے والے قاضیوں کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی لحاظ نہیں ہے کہ آج پاکستان ایک مرتبہ پھر 1971 ءکے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس وقت تین بڑے غدار تھے، آج ہر سیاسی جماعت میں چونٹیوں اور سنڈیوں کی طرح رینگ رہے ہیں۔ شرمناک اور حیران کن بات ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی سیاستدان کو غداری کے جرم پر سزا نہیں دی گئی۔ ہم نے تاریخ سے کچھ بھی نہیں سیکھا اور مجھے خوف ہے کہ کہیں فطرت ایک مرتبہ پھر ہمارے جغرافیے کو تبدیل نہ کردے۔
کسی سیاسی کمینے پر غداری کا کیس خراب کرنا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کیس کو اس قدر پھیلا دیا جائے اور اتنے لوگوں کو ملوث کردیا جائے کہ غداری کے اصل جرم سے نگاہ ہٹ کر صرف سیاسی انتقام میں الجھ جاتی ہے۔ ن لیگ کے خلاف حالیہ غداری کیس بھی اسی مکاری کا نتیجہ ہے۔ اصل غدار حلق پھاڑ پھاڑ کر سیاسی انتقام کا بیانیہ پھیلارہے ہیں، ورنہ سادی سی حقیقت ہے کہ نواز اور زرداری ملک و قوم و ملت کے بدترین دشمن اور غدار ہیں۔۔۔!!!
آج ملک کا وزیراعظم، قاضی القضاءاور سپہ سالار ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اگر ملک میں سانپ اور کتے کھلے پھررہے ہیں تو انہی سے سوال کیا جائے گا۔ اگر ملک ترقی اور خیر کی راہ پر چلتا ہے تو اس کیلئے دعائیں بھی انہیں کو ملیں گی۔ لیکن اگر ملک و قوم کو نقصان ہوا تو پھر امت کی بدعائیں بھی انہی کے نصیب میں ہونگی۔ یہ فیصلہ آج ان کو کرنا ہے، کل تاریخ کرے گی۔۔۔!!!

Leave a Reply

%d bloggers like this: