پاکستانی اشرافیہ اور مکافات عمل

پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے ، وہ کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز مغلیہ سلطنت کے آخری دور کی یاد تازہ کررہے ہیں۔الحمدللہ یہ فقیران کا نبض شنا س ہے اور ان کی ذہنی سطح اورمستقبل کا منظرنامہ میرے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ پاکستان اب کسی طور بھی محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ پے در پے حماقتوں،خودکش معاشی پالیسیوں اورایک شتر بے مہار حکومت نے ملک کو تباہی کے دھانے پرلا کھڑا کیا ہے۔
آئیں آپ کو ریاستی فیصلہ سازوں کے چند احمقانہ نظریات بتاتا ہوں۔
٭ پشتون تحفظ تحریک کو سیاسی عمل کا حصہ بنا کر انہیں ”راہ راست“ پر لایا جاسکتا ہے۔
٭ ایم کیو ایم کراچی ، ایم کیو ایم لندن سے مختلف ہے۔
٭ کشمیر تو یوں بھی ستر برس سے بھارت کا حصہ تھا، 5 اگست کے بعد کیا بدل گیا؟ لہذا پریشان ہونے اور شور شرابہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
٭ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زرداری مافیا نے وہاں معاملات بخوبی سنبھال رکھے ہیں۔
٭ لاک ڈاﺅن ضروری ہیں، خواہ اس سے معیشت اور معاشرہ تباہ ہوکر رہ جائے۔ حالانکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس وبائی بحران میں کرنا کیا ہے اور لاک ڈاﺅن کیا تباہی لائے گا۔
٭ عمران حکومت اپنی مدت ضرور پوری کرے گی۔
٭ بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرتا بھی ہے تو یہ ایک محدود پیمانے کی مختصر سی جھڑپ ہوگی کہ جسے پاک فضائیہ ہی نمٹا لے گی۔ لہذا قوم کو فوجی تربیت دینے کی اور اشیاءخوردونوش اور پٹرول ذخیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں۔
آپ میری رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں، مگر ان زمینی حقائق کو نہیں جھٹلا سکتے۔
کیا پی ٹی ایم کو قومی اسمبلی تک رسائی نہیں دی گئی؟ کیا ہندوستان کے کشمیر سے متعلق اقدام پر کوئی خاطر خواہ رد عمل دیکھنے میں آیا؟ کیا ایم کیو ایم عمران کی حکومت کا حصہ نہیں ہے؟ کیا پیپلز پارٹی حکومت سندھ کو تباہ کرنے میں بدستور مصروف نہیں ہے؟
جو کچھ ہورہا ہے، یہ ریاستی فیصلہ سازوںکی کوتاہ نظری کے باعث ہورہا ہے، گو کہ اس میں انتظامی کوتاہیوں کا عمل دخل بھی ہے، مگراہم ریاستی اداروں میں بیٹھے غدار اور نا اہل اور کرپٹ ترین افرادریاست پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اور یہی لوگ وجہ ہیں موجودہ افراتفری اور بحران کی۔خواہ ہماری قوم اس سے لا علم ہو، مگر ہمارا دشمن اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
بعض اوقات تو میں صورتحال کی مضحکہ خیزی پر دنگ رہ جاتا ہوں۔ کرپٹ حکمران پاکستان کو نوچ نوچ کر کھارہے ہیںاور یہ دولت بیرون ملک منتقل کررہے ہیں، اور ان کا یہ خیال ہے کہ جب پاکستان تباہ ہوجائے گا تو وہ یہاں سے فرار ہو کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں گے۔ہرگز نہیں! آج پوری دنیا میں کوئی مقام محفوظ نہیں ہے۔
اگر عدلیہ کی بات کریں تو یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں۔اگر عدلیہ انصاف کرتی تو آج ملک تباہی کے دہانے پر نہ کھڑا ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا نظام عدل بھی ریاست کو گرانے میں پورا زور لگارہا ہے۔ کرپشن کے کسی ایک کیس کا فیصلہ نہیں ہوا، کسی ایک بڑے مجرم کو سزا نہیں ہوئی اور اب تو عدالتیں دہشت گردوں کیلئے بھی پناہ گاہ کاکام دے رہی ہیں۔ افسوس!
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال سے نکلا کیسے جائے؟ شاید اب اس سے نکلنا ممکن نہ ہو۔ جہاںتک مجھے نظر آرہا ہے ، معاملات اقتدار کی مسند پر فائز افراد کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ وزیراعظم کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے الفاظ کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ، ایک کٹھ پتلی ہے کہ جس کے پاس نہ کوئی طاقت ہے، نہ اختیار اور نہ ہی اسے پتہ ہے کہ کرنا کیا ہے، بس جواس کے خوشامدی مشیر کہتے ہیں، وہی کر بیٹھتا ہے۔
دوسری طرف ایک اور طوفان سر اٹھارہا ہے۔ بھارت پاکستان میں موجود اپنے دہشت گرد وںکو حرکت میں لاچکا ہے اور سیاست میں موجود مافیا نے احتساب سے سابقہ پڑنے کے بعد اپنی ہی ریاست کے خلاف اعلان بغاوت بھی کردیا ہے۔اس غلیظ ماحول میں فوج کو بھی کیچڑ میں گھسیٹا جارہا ہے۔
آج پاکستان کو درپیش سب سے بڑا بحران قیادت کا بحران ہے۔ درحقیقت ملک یتیم ہے۔ کوئی بھی صاحب اختیار نہیں۔ہر وزیر، ہر ادارہ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہا ہے اور ریاست پاکستان اتنی کمزور شاید پہلے کبھی بھی نہ تھی، اور یہی کمزور ی دشمن بھانپ چکا ہے اور اب اس نے پاکستان کے خلاف پوری قوت سے جنگ کا آغاز کردیا ہے۔
پاکستانی ریاست اور پاکستانی قوم کو اب پے درپے شدید صدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔ یہ ہماری اجتماعی بداعمالیوں کی سزا اور فطرت کی جانب سے مکافات عمل ہے۔

Syed Zaid Zaman Hamid

Syed Zaid Zaman Hamid, better known as Zaid Hamid, is a Pakistani right-wing political commentator, writer and columnist. His byline in newspaper articles has been Zaid Zaman.

Leave a Reply

%d bloggers like this: