ٹیپو سلطان اور آج کے ”میر جعفر“

آج 4 مئی 1799 ء کے روز ٹیپو سلطان کو داخلی غداری کی وجہ سے شہید کردیا گیا تھا۔ جانتے ہیں پھر کیا ہوا۔۔۔؟آج 220 برس ہونے کو آئے ہیں، آج تک انگریزوں کی غلامی چل رہی ہے۔ کروڑوں مسلمان شہید کروائے، صدیوں کی غلامی اوربرصغیر میں اسلامی تہذیب کا عبرتناک زوال۔
جعفر از بنگال، صادق از دکن
ننگ دیں، ننگ ملت، ننگ وطن
علامہ اقبالؒ نے ٹیپو سلطان کی شہادت پر، میر جعفر غداری پر یہ المناک مرثیہ کہا تھا۔ ایک غدار وزیراعظم، میر صادق، صدیوں تک امت رسولﷺ کو غلام کرگیا۔
ٹیپو سلطان کو کس نے شکست دی؟انگریزوں نے۔۔؟ نہیں۔۔!
ٹیپو کے جنازے پر غداروں کا ٹولہ میر صادق، غلام علی لنگڑا اور پنڈت پورنیا جمع ہوا اور غلام علی لنگڑا نے کہا: ”ٹیپو کو انگریزوں نے نہیں ہم نے شکست دی ہے۔“میر صادق وزیراعظم اور پورنیا وزیر خزانہ تھا۔بزرگ کہتے ہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں ان کا جغرافیہ بہت جلد تبدیل ہوجاتا ہے۔ہم پاکستانیوں نے بھی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ غداروں کو اپنی صفوں میں پالا، نتیجتاً آزادی کے 25 برس بعد ہی ہمارا جغرافیہ بھی تبدیل ہوگیا۔
ٹیپو سلطان فرمایا کرتے تھے: ”اگر تم مجھے میرے دوستوں کے شر سے بچا سکو تو میں دشمنوں سے تمہاری حفاظت کرنے کا وعدہ کرتا ہوں“۔کیا آج پاکستان اور پاک فوج کا بھی یہی المیہ نہیں ہے؟داخلی غداروں اور منافقین نے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔یاد رکھیے گا کہ میر جعفر وزیراعظم تھا۔ پورنیا وزیر خزانہ تھا۔کیا زرداری، نواز شریف، اسحاق ڈار، شوکت عزیز اور اب پاکستان پر آئی ایم ایف کی جانب سے مسلط کردہ وزراء میر جعفر اور پورنیا سے کچھ مختلف ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر انجام کیا ہوگا؟ٹیپو سلطان کی شہادت اس دور میں امت مسلمہ کیلئے سب سے بڑا سانحہ تھی کہ جس کے بعد ہند کے مسلمانوں پر صدیوں کی غلامی کے دروازے کھول دیئے گئے تھے۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ فطرت انفرادی غلطیوں سے تو درگزر کرجاتی ہے مگر جب پوری قوم کی اشرافیہ ہی ناپاک ہوجائے تو پھر ”بڑی سخت ہی فطرت کی تعزیریں“۔
آج پاکستان میں سڑک سے اینٹ اٹھا کر دیکھیں تو نیچے سے ایک غدار نکلتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اس پاکستان پر ”سایہء خدائے ذوالجلال“ ہے، کا مفہوم نظر آتا ہے کہ اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ یہ ملک آج سلامت رہ سکتا۔زرداری ملک کا صدر ہو، نواز وزیراعظم، افتخار چوہدری چیف جسٹس، اسحاق ڈار وزیر خزانہ اور کیانی جیسا سپہ سالار۔۔۔کیا پاکستان کا بچ جانا معجزہ نہیں ہے۔۔۔؟آج بھی پاکستان کو وہی خطرات لاحق ہیں جو ٹیپو سلطان کو تھے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر سامراجی طاقتیں تجارت کے راستے قابض ہورہی ہیں، ملک کی سیاست، معیشت اور فوج میں غداروں نے سرایت کرلیا ہے، داخلی دشمن مسلسل افواج پاکستان کی پشت میں خنجر ماررہے ہیں، اور بیرونی دشمن حملہ آور ہیں۔
قدرت اللہ شہاب سے ایک مرتبہ فیض احمد فیض نے کہا کہ جس طرح کے ملکی حالات ہیں مجھے خطرہ ہے کہ کہیں پاکستان ختم ہی نہ ہوجائے۔جواب میں قدرت اللہ شہاب نے فرمایا:”مجھے پاکستان کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، مجھے خطرہ اس بات کا ہے کہ جس طرح پاکستان کو چلایا جارہا ہے، کہیں اسی طرح ہی نہ چلتا رہے۔“
ہمیں بھی یہی خطرہ ہے۔۔۔!!!
پاکستان سے پیار کرنے والے ہر وجود کو چاہے وہ عوام الناس میں ہو یا صاحب اختیار و اقتدار ہو، اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سیاسی معاشی اور عدالتی نظام ہمارے غیر ملکی آقاؤں کا بنایا ہوا ہے اور اس کا صرف اور صرف مقصد ہمیں دائمی طور پر غلام رکھنا ہے۔ اس کے باوجود صاحب اختیار و اقتدار جرأت کیوں نہیں کرپاتے کہ اس نظام کو تبدیل کریں؟یہ ہوتا ہے قوموں کا حال صدیوں کی غلامی کے بعد!
اللہ پاکستان کے حال پر رحم کرے۔ پاک فوج ملک کا دفاع تو کررہی ہے مگر نظام نہیں تبدیل کررہی۔سیاست، معیشت اور عدالت وہی کفر کی غلاظت ہیں کہ جو ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سامراجی استعمار نے قائم کی تھیں۔قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان کون بنائے گا، یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے، مگر ہمارا کام اذان دینا ہے، سیدی رسول اللہﷺ سے وفاداری کرنا ہے، سو ہم کریں گے۔
فکر نہ کریں، اللہ کے فضل و کرم سے یہ پاکستان کبھی ختم نہیں ہونیوالا، چاہے کتنے ہی حرام خور مل کر زور ہی کیوں نہ لگا لیں۔ہاں! ہمیں سزا ملے گی، مل رہی ہے، ملتی رہے گی۔اللہ اور اسکے رسولﷺ سے وعدہ خلافی کرنے کی،تکمیل پاکستان نہ کرنے کی، سود اور رباء کا نظام چلانے کی، خلافت راشدہ کا نظام قائم نہ کرنے کی۔۔۔۔بیشک ہم سب مجرم ہیں اور ہم سے سوال کیا جائے گا!!!
بات سخت لگے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان کی قسمت کا فیصلہ پاکستانی نہیں، ہمارے دشمن اور غیر ملکی آقا کررہے ہیں۔ پاکستان کے قاضی، پاکستان کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔پاکستان کے سیاستدان ناپاک اور پلید ہیں۔پاکستان کا میڈیا فحاشی اور آوارگی کے اڈے ہیں۔پاکستان کی افواج بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود تذبذب کا شکار ہے۔یہ امت رسولﷺ کہاں جائے۔

Syed Zaid Zaman Hamid

Syed Zaid Zaman Hamid, better known as Zaid Hamid, is a Pakistani right-wing political commentator, writer and columnist. His byline in newspaper articles has been Zaid Zaman.

Leave a Reply

%d bloggers like this: