Hassan Nisar

پھر باقی کیا رہ جائے گا؟ از حسن نثار ( چوراہا )

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

چند ہفتے پہلے اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ ’’صرف ایک دن کا اخبار کسی بھی قوم کے اجتماعی کردار کو سامنے لے آتا ہے‘‘۔

پارلیمینٹ یا چنڈو خانہ؟ مچھلی منڈی؟ یا لنڈا بازار؟ چشم بددور حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا، ہاتھا پائی، گالم گلوچ، ٹھڈے دھکے، نعرے بازی، سیٹیاں، ہلڑ بازی، سپیکر ڈائس کا گھیرائو، مائیک اتار لیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں۔ عوام کو مبارک ہو۔

جمہوریت کا حسن عروج پر اور یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ یہ کن خوش بختوں کا اجتماعی چہرہ ہے؟

اور تو اور ’’اک بہادر آدمی جاوید ہاشمی‘‘ المعروف باغی کے بارے میں بھی زبان زدعام ہے کہ زمینوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

’’وثوق سے کہہ سکتا ہوں میڈیا آزاد نہیں‘‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ۔

’’سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت نظر نہیں آتی‘‘ چیف جسٹس۔

’’گلوکار کا بیوی پر گھونسوں ٹھڈوں سے تشدد‘‘

’’بارہ سالہ بچے نے ماں کی ڈانٹ پر خودکشی کرلی‘‘

’’شہد کے چھتے سے شہد نکالنے پر مالک نے غلیل چلا کر آنکھ پھوڑ دی‘‘

’’قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے اور گھی بھی فروخت ہونے لگا ہے‘‘۔

’’ارکان اسمبلی کیلئے فنڈز کی بھرمار، عوام پر مہنگائی کی یلغار‘‘

’’لاہور۔20سالہ لڑکی، ہارون آباد میں نوجوان کی خودکشی‘‘۔

’’لیاقت آباد میں کومل نے گھریلو ناچاقی پر پھندہ ڈال کر خودکشی کر لی۔ 18سالہ مدثر بھی پنکھے سے جھول گیا‘‘۔

’’عمران خان کی تعریف کیوں کی۔ مہنگائی کے ستائے شہری کا بیٹے کے رشتے سے انکار‘‘۔

’’زیادتی کے بعد بھتیجی کو قتل کرنے والے چچا کو دوبار سزائے موت کی سزا‘‘۔

’’شاہکوٹ: سفاک شخص نے اپنی والدہ، بیوی، بھابی اور بہن کو ذبح کر دیا‘‘ ۔

’’فیصل آباد: بیٹے نے فجر کے وقت نہ اٹھنے پر باپ کو قتل کر دیا‘‘۔

’’جعلی زرعی ادویات اور کھاد ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم‘‘۔

’’2فیصد پاکستانی کھانے میں کمی پر مجبور۔ ادھار مانگ مانگ کر اخراجات پورے کرنے والوں کی شرح 13فیصد‘‘ سروے رپورٹ۔

کہتے ہیں دیگ کے چند دانے چکھنے سے ہی پوری دیگ کی حالت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور یہ واقعی چند دانے ہی ہیں ورنہ ایسی خبروں کا شمار نہیں جنہیں پڑھ کر انسان پتھرا سا جاتا ہے اور لاتعداد ملی نغمے کانوں میں گونجنے لگتے ہیں۔

ہوا یہ ہے کہ شرمناک اور اذیت ناک خبریں آہستہ آہستہ سلوموشن میں بڑھتی رہیں اور ہم دھیرے دھیرے اسی حساب سے بےحس ہوتے ہوتے اک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے جہاں ایسی کوئی خبر، خبر ہی نہیں رہ گئی بلکہ اب تو شاید قاری ایسی خبر پر دوسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ یہ تو معمول کی باتیں ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ قوم کے اعصاب تیزی سے جواب دیتے جا رہے ہیں۔

درگزر، صلٔہ رحمی، احسان، معافی، برداشت، کسی کو سپیس دینا، نرمی، شفقت، مہربانی نام کے رویے تتلیوں کی طرح اس مردم بیزار معاشرہ سے روٹھتے جا رہے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ جب 22کروڑ لوگوں پر مشتمل یہ ’’ابنارمل‘‘ آبادی مستقبل قریب میں 35،40کروڑ غیر متوازن، غیر مستحکم، غیر محفوظ، غیر یقینی پن کا شکار مخلوق تک پہنچے گی تو کیسے کیسے مناظر دیکھنے کو نہ ملیں گے؟

کیا یہ ممکن ہے کہ حکومت (اگر کوئی ہے) ماہرین نفسیات کا پینل بنا کر گزشتہ 5سال پر مشتمل ایسی خبروں کا ریکارڈ ان کے سامنے رکھ کر ان سے سمجھے کہ اس معاشرہ میں ہو کیا رہا ہے؟ ان غیر انسانی، حیوانی سے بھی بدتر رویوں کی وجوہات کیا ہیں؟ اسباب کیا ہیں؟ اور ان پر قابو پانے یا کم از کم کم سے کم سطح پر لانے کیلئے کیا کچھ کرنا ضروری ہو گا؟

مجھ جیسے اوسط درجہ کے آدمی کیلئے جسے غوروفکر کی لت لگی ہے، یہ بات بہت ہی حیرت انگیز اور تکلیف دہ ہے کہ اس معاشرہ میں ظواہر کی تو فراوانی ہے، مسجدیں بھری ہوتی ہیں، رمضان المبارک میں ہر گھر روشن ہوتا ہے۔

حج عمرے کرنے والوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے، آستانے و پیر خانے بھی آباد ہیں، نذر نیاز بھی جاری، چلے بھی کٹ رہے ہیں، اخباروں سے لے کر ٹی وی چینلز تک پر پندو نصائح کے سلسلے بھی جاری ہیں تو پھر یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور اس سب میں اضافہ کا رجحان کیا اور یہ سفر کہاں رکے گا؟ اس کا انجام کیا ہو گا؟

احتیاطاً عرض کرتا چلوں کہ میں اس حقیقت سے بھی پوری طرح باخبر ہوں کہ جہاں آدم زاد ہو گا …. وہاں جرم بھی ہو گا اور گناہ بھی لیکن یہاں تو اخیر ہو گئی ہے۔

آوے کا آوا بگڑا ہوا نہیں تباہ شدہ ہے۔

’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘‘ تو چھوڑیں، مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اونٹ پاگل ہو کر رسی تڑوا چکا ہے یا تڑوانے کے قریب ہے اور یہ بھی سن لیں کہ اونٹ پاگل ہو جائے تو وہ مست ہاتھی اور بھوکے بھیڑیے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے لیکن یہاں تو حکمرانوں سے بنیادی معاملات نہیں سنبھالے جا رہے جبکہ میں تو بہت ہی ’’باریک‘‘ قسم کی بربادی کا ماتم کر رہا ہوں۔

نام نہاد ناپاک جمہوریت سے لے کر، پولیو زدہ معذور معیشت تک کون سی شے قائم اور اپنے ٹھکانے پر ہے کہ عوام بھی ابنارمل ہوتے چلے جائیں۔

اشرافیہ مادر پدر آزاد اور اوپر سے عوام بھی شتر بےمہار تو باقی کیا رہ جائے گا؟

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: