Javed Chaudhary

کام یاب وہی ہو گا از جاوید چوہدری ( زیرو پوائنٹ )

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

’’وہ ہمیشہ آپ کے خلاف بات کرتا ہے‘ آپ اسے منع کیوں نہیں کرتے‘ نوجوان کے لہجے میں پیار بھی تھا‘ پریشانی بھی اور خلوص بھی‘ مجھے اس کے خلوص نے چند لمحوں کیلئے پریشان کر دیا اور مجھے سمجھ نہیں آئی میں اسے کیا جواب دوں‘ دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں‘ کچھ لوگ آپ سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے ہیں‘ یہ لوگ آپ کو انسان کے شرف سے اٹھا کر اوتار‘ولی یا دیوتا بنا دیتے ہیں‘ ان کی عقیدت یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتی کہ آپ واش روم بھی جاتے ہوں گے‘ آپ کو بھوک بھی لگتی ہو گی‘ آپ کی بجلی بند ہو جائے تو آپ کو بھی پسینہ آتا ہو گا اور اگر آپ کو چوٹ لگے تو آپ کے

منہ سے بھی عام انسان کی طرح چیخ نکلتی ہو گی‘ یہ لوگ آپ کو یونانی دیوتا بنا کر کسی اونچے طاق میں رکھ دیتے ہیں اور دور کھڑے ہو کر آپ کے چرنوں میں عقیدت اور محبت کے پھول چڑھانا شروع کر دیتے ہیں‘ آپ ان لوگوں کو صدیق کہہ سکتے ہیں‘ یہ لوگ آپ کے ایک ایک لفظ پر یقین بھی کرتے ہیں اور اس کی گواہی بھی دیتے ہیں‘ یہ صدیق دنیا کے ہر انسان کی زندگی میں ہوتے ہیں‘ دوسری کیٹگری میں ایسے لوگ شامل ہیں جو بلا وجہ آپ کے مخالف ہوتے ہیں‘ آپ زندگی میں ان کا کچھ نہیں بگاڑتے‘ آپ کا کبھی ان سے سامنا بھی نہیں ہوتا‘ آپ اور ان کے درمیان کبھی انٹرسٹ کا بھی ’’ کلیش‘‘ نہیں ہوتا اور آپ کبھی ان کا کوئی حق بھی غصب نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود یہ آپ کے جانی دشمن ہوتے ہیں‘ یہ آپ کو ہنستا‘ کھیلتا‘ خوش اور کام یاب ہوتا نہیں دیکھ سکتے‘ آپ کی ہر کام یابی‘ ہر خوشی اور ہر اچھائی ان کے دلوںپر بجلی بن کر گرتی ہے اور یہ آدم خور مگر مچھ کی طرح تلملا کر آپ کی طرف بڑھتے ہیں‘ یہ ابو جاہل نما لوگ ہوتے ہیں‘ یہ دل میں آپ کی خوبیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں‘ یہ آپ کی محنت‘ آپ کی ذہانت اور آپ کی اچھائیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ کی مخالفت کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتے اور لوگوں کی تیسری قسم میں ایسے لوگ شامل ہیں جو حضرت امام حسینؓ کے ساتھ بھی ہوتے ہیں اور یزید کی بھی بیعت کر لیتے ہیں‘ یہ حضرت امام حسین ؓ کو بھی اپنا لیڈر مان لیتے ہیں اور شمر کے لشکر پر بھی خاموش رہتے ہیں‘ ان کے دل حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن تلواریں ہمیشہ یزید کا ساتھ دیتی ہیں‘ یہ کوفی قسم کے لوگ ہوتے ہیں‘ آپ کے ساتھ ان کے جذبات وابستہ نہیں ہوتے‘ یہ پہلے مقتول کا ساتھ دیتے ہیں اور جب قاتل کو پھانسی دینے کاوقت آتا ہے تو یہ اس کے لیے ہمدردی محسوس کرنے لگتے ہیں‘ آپ اگر گا رہے ہیں تو یہ آپ کو سن لیں گے‘ آپ نے گانا بند کر دیا تو یہ آپ کا نام بھول جائیں گے‘ آپ اگر لکھتے ہیں تو یہ آپ کو پڑھتے ہیں‘ آپ لکھنا بند کر دیں‘ آپ دنیا سے رخصت ہو جائیں یا آپ اپنا پروفیشن تبدیل کر لیں تو یہ اگلے ہی دن آپ کو فراموش کر دیں گے‘ یہ کوفی لوگ بھی ہر انسان کی زندگی میں ہوتے ہیں‘ یہ گاہک کیشکل میں بھی ہو سکتے ہیں‘ کولیگز کی صورت میں بھی‘ آپ کے ہمسائے بھی اور آپ کے سامعین‘ ناظرین اور قارئین بھی‘ میرا ذاتی تجربہ ہے ان تینوں لوگوں میں سب سے خطرناک پہلی قسم کے لوگ ہیں‘ یہ لوگ کیوںکہ آنکھوں پر عقیدت کی عینک چڑھا کر آپ کے پاس آتے ہیں چناںچہ آپ کانچ کی نازک چوڑی بن کر ان کے سامنے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ آپ ان کے سامنے چھینک مارتے‘جمائی لیتے یا کان پر خارش کرتے ہوئے گھبراتے ہیں کیوںکہ آپ جب چھینک مارتے ہیں تو یہ بڑی حیرت سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں اور اس وقت ان کی آنکھوں میں اس نوعیت کا چیختا ہوا سوال ہوتا ہے ’’دیوتا آپ کو بھی چھینک آتی ہے‘‘ اور اس سوال پر آپ کی چھینک تک شرمندہ ہو جاتی ہے۔میرے سامنے بیٹھا نوجوان پہلی کیٹگری سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ عقیدت کی عینک چڑھا کرمیرے پاس آیا تھا اور میں بارش میں بھیگے بیمار کبوتر کی طرح اس کے سامنے بیٹھا تھا‘ اس وقت میرے گھٹنے پر شدید خارش ہو رہی تھی لیکن میں اس کے سامنے خارش کرنے کا رسک نہیں لے رہا تھا‘ اس کا کہنا تھا آپ کا فلاں کولیگ پچھلے دس برسوں سے آپ کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے‘ میں نے اس سے عرض کیا ‘بھائی میں اس کو جانتا ہی نہیں ہوں‘ میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی‘

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: