2Below header

دعا کریں، دعا دیں، دعا لیں!!!!! از محمد اکرم چوہدری ( سائرن )

4Above single post content

دعا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، دعا ایک طرح سے اللہ تعالیٰ سے گفتگو ہے۔ دعا اپنے مسائل، مشکلات خالق کائنات کے سامنے بیان کرنے کا دوسرا نام ہے، وہ خالق کائنات کہ کائنات جس کے کن فیکون کی محتاج ہے۔ بدقسمتی ہے کہ آج ہماری زندگیوں میں دعا کی اہمیت کم ہو کر رہ گئی ہے یقیناً یہی ہمارے مسائل کی بڑی وجہ بھی ہے۔ ہم دعا کی اصل روح سے بھی بہت دور چلے گئے ہیں۔ ہم دعا کو فراموش کر کے ہر وقت ایک ایسے سفر پر ہیں جس کی منزل ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ ہم جس منزل کی تلاش میں ہیں وہ حاصل کر بھی سکتے ہیں یا نہیں پھر ہم ہر وقت دوسروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے، لوگوں کو تکلیف پہنچا کر، دوسروں کو اذیت دے کر، مشکلات کھڑی کر کے اور ہر وہ کام جو ہماری دعا کو کمزور کر دیتا ہے وہ سب کچھ کر کے خالق کائنات کے آگے دست دعا بلند بھی کریں تو اس کا کیا فائدہ کیونکہ اسلام تو امن محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے، اسلام تو آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔ درحقیقت ہم ہر وہ کام جس نے روکا گیا ہے وہ کام کرتے ہیں مشکلات کھڑی کر کے آسانیاں طلب کرتے ہیں جو کہ ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جو ہم دوسروں کی طرف بھیجتے ہیں پلٹ کر وہی ہماری طرف آتا ہے لیکن ہم اس حقیقت کو سمجھنے کے بجائے دھن میں مگن آگے بڑھے جا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ دعا کو پسند فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

اجیب دعوت الداع اذا دعان

میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔

امام ابو عیسیٰ ترمذی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ "دعا عبادت کا مغز ہے"

آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم عبادت کرتے ہیں، کیا ہم عبادت کا حق ادا کرتے ہیں، اگر ہم عبادت کرتے ہیں تو کیا ہم عبادت کے مغز تک پہنچتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے کہ

ادعو ربکم تضرعا و خفیہ انہ لا یحب المعتدین۔

ترجمہ۔ اپنے رب سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

یعنی دعا میں عاجزی و انکساری ہونی چاہیے، دعا میں چیخنے چلانے کے بجائے میانہ روی اختیار کی جائے ،اللہ تعالیٰ ایسے رویے کو پسند فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے کہ تم میں سے جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا گیا اللہ تعالیٰ سے جن چیزوں کا بھی سوال کیا جائے ان میں سے پسندیدہ سوال عافیت کا ہے۔ جو مصیبتیں نازل ہو چکی ہیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے اے اللہ کے بندو دعا کرنے کو لازم کر لو۔ حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگدستی کی شکایت کی آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو اور اللہ تعالیٰ سے فراخی کا سوال کرو۔ آج ہمیں روزگار کے حوالے سے جن مسائل کا سامنا ہے، تنگدستی کا سامنا ہے، مشکلات نے گھیر رکھا ہے ہم میں سے کتنے ہیں جو اس یقین کے ساتھ آسمان کی طرف ہاتھ بلند کر کے گڑگڑا کر اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

وما من دابت فی الارض الا علی اللہ رزقھا

روئے زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو

یہ پڑھتے ہوئے ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہم کتنے لوگوں تک رزق پہنچنے کا ذریعہ بن رہے ہیں کتنے لوگوں کا رزق روکنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں اگر ہم تقسیم کرتے رہیں گے، رزق کے معاملے میں آسانیاں پیدا کریں گے تو ہمارے رزق میں ناصرف وسعت آئے گی بلکہ حصول رزق میں بھی آسانی رہے گی۔ اگر ہم بیمار ہیں تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

واذا مرضت فھو یشفین

ترجمہ۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

قرآن کا پیغام تو ہم سب کے سامنے ہے۔ تاجدارِ انبیاء خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے فرامین ہمارے سامنے ہیں اگر ہم واضح احکامات کے باوجود بھی سبق حاصل نہ کریں تو مسائل و مشکلات کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تین دعائیں قبول ہوتی ہیں مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی دعا اس کی اولاد کے لیے۔ اسی طرح حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچو کیونکہ مظلوم کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ اسی طرح حضرت خزیمہ بین ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچو کیونکہ اس کی دعا بادلوں سے اوپر اٹھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم میں تمہاری مدد ضرور کرونگا خواہ کچھ وقت گذرنے کے بعد۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں اس حوالے سے تین چیزوں کا ذکر ہے دعا جلد قبول ہو جاتی ہے یا آخرت میں اجر عطاء کرنے کے لیے رکھ لی جاتی ہے یا دنیا میں اس کے بدلے کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔ قبلہ رو ہو کر دعا کرنے کی بھی بہت فضیلت ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے میدانِ عرفات میں چہرہ مبارک قبلہ کی طرف کیا اور غروبِ آفتاب تک دعا فرماتے رہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے شوق، محبت اور خوف ہر طرح سے دعا کرنی چاہیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ بندہ کا اپنے رب عزوجل سے سب سے زیادہ قرب سجدہ میں ہوتا ہے سو تم سجدہ میں بہت دعا کیا کرو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دعا کی نعمت سے نوازے، ہمیں دعا کی توفیق عطاء فرمائے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: