حکومت اور اپوزیشن کا شکوہ جواب شکوہ از فیصل فاروق ساگر ( ساگر کنارے )

ڈسکہ اور وزیر آباد کے ضمنی الیکشن کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں وہ انتخابی نظام جس نے انتخابی معرکے کے فاتح کا فیصلہ کرنا تھا ایک بار پھر خودمتنازع بن کر رہ گیا ہے ، 19فروری کے ضمنی الیکشن نے جہاں سیاسی گرما گرمی اور بڑھا دی ہے وہیںالیکشن کمیشن پولیس اور انتظامیہ کو برح طرح بے نقاب بھی کیا ہے پولیس کی صلاحیت اور تربیت کا فقدان تو ایک مدت سے زیر بحث ہے اور اسکی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو لیکن حالیہ ضمنی الیکشن میں پولیس کا کردار اسقدر متنازع نظر آیا کہ شاید پہلے ایسا کبھی نہ تھا ، اب حالات یہ ہیں کہ ایک طرف اپوزیشن راہنما پولیس کی تقرریوں اور تبادلوں سے لے کر پولنگ ڈے پر جانبدارانہ کردارکو ہدف تنقید بنا رہے ہیں این اے 75 ڈسکہ میں بد انتظامی کا چرچا زبان زدعام ہے دن بھر مختلف گروپوں کی ہوائی فائرنگ اور پھر ایک افسوسناک واقعہ میں 2قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود پولیس کی جانب سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنا موضوع بنا ہوا ہے اپوزیشن کے مطابق20پولنگ سٹیشنوں کے رزلٹس رات بھر کے لئے غائب ہونا اور اعلیٰ پولیس افسران کا فون پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں اور دوسری جانب حکومتی ذرائع نے بھی بعض ایسے انکشافات کئے ہیں جو یقینی طور پرغور طلب ہیںحکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی پی او سرفراز فلکی نے اپنے استاد سابق ڈی آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی جانب سے واضح تنبیہہ کے بعد وزیر آباد الیکشن میں اپوزیشن کی کامیابی کی راہ ہموار کی اور حکومتی امیدوار کی بجائے اپوزیشن کے امیدوار کے خفیہ سہولت کار کا کردار اداکیا یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حافظ آباد کے ایک بڑے ن لیگی گھرانے کے احسان تلے دبے ہوئے ایک ڈی ایس پی وزیر آباد الیکشن میں متحرک رہے اور ن لیگ کی کامیا بی کے لئے اپنا حصہ ڈالتے رہے اسی طرح تھانہ سوہدرہ اور تھانہ سٹی وزیر آباد کے ایس ایچ اوز بھی مبینہ طور پرنوشہرہ ورکاں کے ایک ن لیگی گھرانے کے احسانوں کا بدلہ وزیر آباد الیکشن کے دوران اتارنے میں مصروف رہے ، یوں اپوزیشن ہو یا حکومت پولیس کے کردار سے کوئی بھی خوش نہیں نظر آرہا جسکی ذمہ داریقینی طور پر پولیس کی موجودہ قیادت ہے جس کی کوئی گرفت ہے نہ حکمت عملی چنانچہ ادارے کا وہ تماشا بنا ہے اور اتنی جگ ہنسائی ہوئی ہے کہ پولیس ہے ، پولیس قیادت میں انتظامی صلاحیتوں کے فقدان اور ماتحت افسران سے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں واضح ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں قانون کی کوئی رٹ دکھائی نہیں دی ، پولیس قیادت اپنے فرائض اور ریاست کے ساتھ وفاداری اور کمٹمنٹ کو خاطر میں نہیں لائے گی اور دو کشتیوںکا سوار بن کر ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل کرے گی تو اسکا نتیجہ ادارے کی جگ ہنسائی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے سی پی او اگر دو کشتیوں کے سوار تھے تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے تھا کہ اسکا نتیجہ کیا ہوگا ، ضمنی الیکشن میںاگر پولیس حکومت یا اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے ریاست کے ساتھ وفاداری اور کمٹمنٹ دکھاتی اور کسی کے دبائو میں آئے بغیر اپنا کام کرتی توپولیس کا یہ غیر جانبدارانہ کردار اسکی عزت و توقیر کا باعث بنتا ، یا درکھیں پولیس کے ادارے کو غیر سیاسی اور آزادو خودمختار بنانے کے لئے سب سے پہلے اعلیٰ پولیس افسران کو سیاسی گھرانوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ہو گی اور اپنے اندر ہر قسم کے غیر قانونی احکامات کی نفی کی جرات پیدا کرنا ہو گی ورنہ پولیس کا مورال جو پہلے ہی خطرنا ک حد تک گر چکا ہے شرمندگی اوررسوائی کی اس گہری کھائی میں جا گرے گا جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے گی، اسی طرح الیکشن کمیشن بھی موجودہ صورتحال میں بے بسی کا نمونہ بنا ہو اہے اور اپنا آئینی کردار پوری طرح ادا کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے ، سیاستدان حکومت سے ہوں یا ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو انہیں بھی چاہئے کہ الیکشن کمیشن اورپولیس سمیت تمام اداروں کی خود مختاری اور آزادی سے کام کرنے صلاحیت کو اپنے سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں ، حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں ادارے مضبوط ہوں گے تو بہترین نتائیج دینے کے قابل ہو جائیں گے اور عوام کا اعتماد بھی اپنے اداروں پر بڑھے گا ،پولیس افسران کو قطعی زیب نہیں دیتا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے خفیہ آلہ ء کار بن کر رہ جائیں اور اپنی بھرتی اور تقرری کا احسان غیر قانونی احکامات کی بجاآوری کی صورت میں چکائیں، پولیس کی اعلیٰ قیادت کواپنے اندریہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ سیاستدانوں کی میٹنگز اور سیاسی پلاننگ کا حصہ نہ بن کر ہی پولیس بطور ادارہ اپنا وقار بحال کر سکتی ہے ، پولیس افسران کوجتنی جلدی یہ باور ہوجائے اتنا ہی اچھاہے ،

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: