پانامہ سے ڈسکہ تک کا سفر۔ سیاسی تربیت کا فقدان کیا رنگ دکھائے گا؟ از رشید احمد نعیم ( چشم نم )

ایک پنجابی خاتون نے اردو زبان اور آداب سیکھنے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کیں۔ استاد نے کئی ماہ کی محنت کے بعد خاتون سے کہا کہ میں نے آپ کو جو تربیت دی ہے، کل اس کا امتحان ہوگا۔ میں نے ایک معروف اہل زبان شاعر کو چائے پر بلایا ہے، آپ کل ان کی میزبانی کیجیے گا اور یاد رہے کہ معزز مہمان نہایت خوش گفتار اور شائستہ اطوار کے مالک ہیں، لہٰذا اب میری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ خاتون نے استاد محترم کو یقین دلایا کہ وہ نہایت خوش خلقی اور شائستگی کا مظاہرہ کریں گی۔ اگلے روز مہمان تشریف لائے، استاد محترم نے تعارف کے فرائض انجام دئیے۔ میزبان خاتون نے نہایت تپاک سے استقبال کیا، خیریت دریافت کی۔ مہمان نے استفسار کیا”محترمہ! آپ کے شوہر نامدار کیا شغل فرماتے ہیں؟خاتون نے جواب دیا”حضور! ان کی وسیع زمینداری ہے، آج بھی اسی سلسلے میں چند حل طلب امور کی انجام دہی کے لیے گئے ہوئے ہیں، ابھی تشریف لاتے ہی ہوں گے“۔ مہمان نے مزید استفسار کیا”آپ کے آنگن کے پھول نظر نہیں آرہے۔“ خاتون نے عرض کیا”اللہ تعالیٰ نے ایک بہت نیک اطوار بٹیا رانی عطا کی ہے۔ میں ابھی اسے آپ کی قدم بوسی کے لیے بلاتی ہوں“۔ خاتون نے بیٹی کو آواز دی”گڑیا بیٹا! یہاں آئیے، چچا جان کو آداب کیجیے“۔ کچھ دیر گزر گئی، نہ جواب آیا اور نہ گڑیا آئی۔ خاتون نے پھر آواز دی”گڑیا بیٹا! جلدی آئیے، چچا حضور آپ کا انتظار کر رہے ہیں“۔ پھر جواب ندارد۔ خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔”گڑیا! فوراً باہر آؤ“۔ پھر خاموشی۔ پیمانہ چھلک پڑا”نی گڈو! کتھے مر گئیں ایں؟ گشتیے باہر آکے مر۔۔۔ تیرے پیو دا نوکر اڈیکن ڈیا اے۔۔۔۔۔قوم سمجھنے لگی تھی کہ نوے کی دہائی والی سیاست ختم ہوگئی ہے لیکن پھر”پاناما کا حتمی فیصلہ“آگیا۔ اس وقت سے تادم تحریر الفاظ کی گولہ باری اور الزامات کی ہونے والی بارش جنگ کی صورت حال اختیار کر چکی ہے اور نون لیگی راہنماؤں نے ن لیگ کی تربیت کا پول کھول دیااور رہی سہی کسر نون لیگ کا میڈیا سیل نکال رہا ہے۔الفاظ کا وہ استعمال ہو رہا ہے کہ ہر محب وطن سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ سیاسی جنگ کیا رخ اختیار کرے گی؟؟؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ متنازعہ بیانات دینے اور اپنے سیاسی مخالفین پر غیر اخلاقی کیچڑ اچھالنے میں شہرت رکھنے والے کچھ سابق وزراء تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ضمنی انتخاب کے موقع پر افسوسناک سانحہ ڈسکہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔یہ سوچے بغیر کہ دو گھروں میں صف ماتم بچھ چکی ہے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔ایک طرف دو خاندانوں کے چشم و چراغ ان کی جذباتی سیاست کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ سیاست دان اپنی اپنی سیاسی دوکان چمانے میں مصروف ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر الزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے بالکل احساس نہیں کیا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ سیاسی میدان میں سیاسی جنگ لڑنا ہر سیاسی جماعت کا قانونی،سیاسی، اخلاقی اور آئینی حق ہے مگر گالم گلوچ کی سیاست کسی بھی لحاظ سے وطن عزیز کے کے لیے مناسب نہیں ہے۔نون لیگ کے میڈیا سیل کی طرف سے سوشل میڈیا پرجس قسم کے غیر اخلاقی، گھٹیا اور نازیباپوسٹ لگائے جا رہے ہیں ان سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔راقم الحروف کو یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بھی جوابی طور پر ویسا ہی سلوک برتا جا رہا ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ شروعات ن لیگ کے میڈیا سیل کی طرف سے کی جاتی ہیں۔سوال یہ کہ جس طرح غیر اخلاقی، گھٹیا اور نازیباپوسٹ لگا کر غلیظ زبان استعمال کی جا رہی ہے کیا مسلم لیگی راہنما وہی پوسٹ اپنی فیملی میں بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو پھر کیا عوام کو جانور یا بے وقوف سمجھا رہا ہےَ؟؟؟عدالتی جنگ کا مقابلہ عدالت میں اور سیاسی مقابلہ سیاسی میدان میں کرنے کی بجائے طوفانِ بدتمیزی کا بازار کیوں گرم کر رکھا ہے؟؟؟سیانے کہتے ہیں بات سچی ہوتو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ مدلل گفتگو خود بخود زبان پر آجاتی ہے اور چہرے کے تاثرات بھی بتا رہے ہوتے ہیں کہ بندہ سچ بول رہا ہے مگر یہاں یہ حالت ہوتی ہے کہ زبان سے نکلے الفاظ اور چہرے کے تاثرات میں تضادنمایاں نظر آرہا ہوتا ہے۔یہ سب اس لیے ہو رہا ہے یہاں سیاسی تربیت کا فقدان ہے اور ایسا صرف پاکستان میں ہو رہا ہے کیو نکہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں۔ایک پاکستانی سیاستدان دو یا دو سے زائد حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑ سکتا ہے، مگر ایک پاکستانی شہری دو حلقوں میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ ایک شخص جو جیل میں ہے ووٹ نہیں دے سکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان جیل میں ہونے کے باوجود بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ایک شخص جو کبھی جیل گیا ہوکبھی سرکاری ملازمت نہیں حاصل کرسکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان کتنی بار بھی جیل جاچکا ہو، صدر، وزیراعظم، ایم پی اے، ایم این اے یا کوئی بھی عہدہ حاصل کرسکتا ہے۔ بینک میں ایک معمولی ملازمت کے لیے آپ کاگریجویٹ ہونا لازمی ہے مگر ایک پاکستانی سیاستدان فنانس منسٹر بن سکتاہے چاہے وہ انگوٹھا چھاپ ہی کیوں نہ ہو؟۔فوج میں ایک عام سپاہی کی بھرتی کے لیے دس کلو میٹر کی دوڑ لگانے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور دماغی طور پر چست درست اور تندرست ہونابھی ضروری ہے البتہ ایک پاکستانی سیاستدان اگرچہ ان پڑھ، عقل سے پیدل، لاپرواہ، پاگل، لنگڑا یا لولا ہی کیوں نہ ہووزیراعظم یا وزیر دفاع بن کر آرمی، نیوی اورایئر فورس کے سربراہان کا”باس“ بن سکتاہے۔ اگر کسی سیاستدان کے پورے خاندان میں کوئی کبھی اسکول گیا ہی نہ ہوو تب بھی وطن عزیز میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے وزیر تعلیم بننے سے روک سکے اور…..ایک پاکستانی سیاستدان پر اگرچہ ہزاروں مقدمات عدالتوں میں اس کے خلاف زیر التوا ہوں وہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وزیر داخلہ بن کر سربراہ بن سکتا ہے.ایسے حالات میں کسی خیر کی توقع رکھنا کسی دیوانے کے خواب دیکھنے سے کم نہیں مگر پھر بھی ان سیاست دانوں سے اپیل ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ اپنی سیاسی جنگ کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل نہ کریں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: