محبت، عشق اور ہمارا معاشرہ از سائرہ عباس

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے ”دیوان حسن شوقی” میں مستعمل ملتا ہے۔کسی بھی پسندیدہ چیز کی طرف میلان طبع کا نام محبت ہے۔ اور جب اس محبت میں شدت آجائے تو اسے عشق کہتے ہیں۔محبت کو اگر سمجھا جائے تو ایک احساس ہے، اگر دیکھا جائے تو ایک رشتہ ہے، اگر کہا جائے تو ایک لفظ ہے، اگر چاہا جائے تو زندگی ہے، اگر کرلیا جائے تو عبادت ہے، اور اگر مل جائے تو جنت ہے۔محبت ایک بہت ہی پچیدہ موضوع ہے۔ ایک ایسی کہانی جہاں زندگیاں برباد ہوتی ہیں، ایک ایسی داستان جہاں زندگیاں آباد ہوتی ہیں۔
جذبات، طرز عمل اور عقائد کا ایک مرکب جو کسی دوسرے فرد کے لئے پیار، حفاظت، گرم جوشی اور احترام کے سخت جذبات سے وابستہ ہے۔محبت صرف انسانوں سے نہیں بلکہ جانوروں اصولوں اور مذہبی عقائد سے بھی ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر، ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے کتے سے محبت کرتا ہے، آزادی سے محبت کرتا ہے، یا خدا سے محبت کرتا ہے۔محبت نسل در نسل فلسفیوں، شاعروں، ادیبوں، اور سائنس دانوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے، اور مختلف افراد اور گروہ اس کی تعریف کے بارے میں اکثر لڑتے رہتے ہیں۔اگرچہ زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ محبت سے پیار کے شدید جذبات کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس کے عین معنی کے بارے میں بہت سارے اختلافات پائے جاتے ہیں، اور ایک شخص کے ”میں تم سے پیار کرتا ہوں ” کا مطلب کسی دوسرے کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔
محبت انتہائی عمدہ خوبی یا اچھی عادت سے، گہری باہمی پیار سے لے کر، آسان ترین خوشی تک، بہت سی مضبوط اور مثبت جذباتی اور ذہنی کیفیات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس مفہوم کی ایک مثال یہ ہے کہ ماں کی محبت میاں بیوی کی محبت سے مختلف ہوتی ہے، عام طور پر، محبت سے مراد مضبوط کشش اور جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں محبت کو کیا سمجھاجاتا ہے؟
محبت دو دلوں کا ایک پاکیزہ رشتہ ہے اور جب رشتوں میں سچائی اور خلوص نہ رہے تو وہ رشتے اسی لمحے ٹوٹ جاتے ہیں۔حقیقت میں محبت ایک غیر مشروط چیز کا نام ہے جہاں کوئی مایوسی، بے چینی، جلن، یا غصہ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگوں نے کبھی بھی اسے محسوس نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی وہ اس حقیقی محبت کو محسوس کرسکتے ہیں جب تک روح میں پاگیزگی نہ ہو۔محبّت ہماری زندگی کا سب سے قیمتی عنصر ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ہر شے کا دارو مدار محبّت پر ہے۔
محبّت کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں اور بہت سے منفی پہلو بھی، جیسا کے اوپر بیان کر دیا گیا ہے۔
محبّت اور عشق دو الگ الگ جذبات ہیں۔ دونوں کے الگ الگ مقامات ہیں۔دونوں ایک دوجے سے قدرے مختلف ہیں۔محبّت، پیار تو ایک ہی درجے کے ہیں جب کہ عشق کا درجے تک پہنچنا آج کل کے خاکی بشر کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ درجہ خدا نے فقیروں درویشوں کو نوازا ہوا ہے.
دنیا میں چند لوگ ہوتے ہے جو اس عشق کے پہلے درجے تک بھی نہیں جا سکتے.عشق کا اصلی درجہ یہ ہے کے سر اتار کر محبوب کے قدموں میں رکھ دیا جائے۔ یہاں عشق حقیقی کو بھی لیا جا سکتا ہے اور عشق مجازی کو بھی۔محبّت تو ایسا پھول ہے یہ جس باغ میں کِھلتا ہے وہاں خوشبوہی خوشبو بکھیر دیتا ہے۔ ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑا دیتا ہے۔یہ محبّت کا پودا جس آنگن میں مہکتا ہے وہاں سے اداسیوں کو ختم کرکے اس آنگن کو جنّت کا باغ بنا دیتا ہے۔ ہر طرف بہار کا موسم طاری کر دیتا ہے۔ جب انسان محبّت کی پہلی سیڑھی پر ہوتا ہے تو محبّت سے حسین اور دلکش منظر تو کوئی لگتا ہی نہیں ہے۔یوں مانو کہ بس لگتا ہے زندگی تو پھولوں کی سیج ہے۔غم کے بادل تو دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے۔
محبّت کی پہلی سیڑھی اس قدر سکون دہ ہوتی ہے کے انسان یہ بھول جاتا ہے کے وہ خدا سے نہیں بلکہ دنیا کے اس انسان سے محبّت کر بیٹھا ہے،جس دنیا میں آدم کو سزا کے لئے بھیجا گیا تھا۔وہاں ہم سکون کیسے پا سکتے ہیں۔انسان یہ بھول جاتا ہے کہ محبّت ہر کسی کے لئے سرخ گلاب کی مانند نہیں ہوتی۔
محبّت،حقیقی عاشقوں کے لئے ایک ایسا خوبصورت خواب ہے جسے دکھاتا تو ہر کوئی ہے مگر منزل تک کوئی کوئی لے کر جاتا ہے۔محبّت کی پہلی سیڑھی پر آپکو قسموں وعدوں کے بندہن میں باندھا جاتا ہے۔آپکو ایسے خواب دکھائے جاتے ہے عمر بھر ساتھ کا یقین دلایا جاتا ہے، دنیا بہت خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
جو ان قسموں وعدوں کو پورا کر کے آپکو اپنی منزل بناتے ہے وہی عشق والے کہلوا نے کے حقدار قرار پاتے ہیں۔ جو عشق کی منزل کو نکاح کی منزل بناتے ہے وہی سچے عاشق کہلاتے ہیں۔
آپکو لگتا ہے کے آپ دنیا کے سب سے خوش نصیب انسان ہیں۔
حقیقی عشق والے آپ سے بغیر لباس کی تصویریں نہیں مانگتے۔بلکہ وہ آپکو اپنی روح کے غلاف میں موتیوں کی طرح پروکے رکھتے ہیں۔ پاکیزگی عشق کی اول شرط ہوتی ہے وہ اس کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ اور اپنے عشق کو نکاح کے خوبصورت بندہن میں باندھ کر اپنے عشق کو ہمیشہ کے لئے امر کر دیتے ہیں۔آپ خود کو مکمل پاتے ہیں۔یوں وہ لوگ عشق کی منزل کو پا لیتے ہیں۔ حقیقی محبّت والے اپنی محبّت کی پہلی سیڑھی کو ہی منزل مقصود بنا لیتے ہیں۔
جو لوگ محبّت کے نام پر کھیل رچاتے ہیں انکی محبّت کی مختلف منزلیں ہوتی ہیں۔
محبّت کی دوسری سیڑھی پر آپ سے پیار کے نام پر تصویریں مانگی جاتی ہیں، آپکو اپنا پیار ثابت کرنے کے لئے لباس اتروانا شرط رکھی جاتی ہے۔ جو کے ہمارے معاشرے کا المیہ بن چکا ہے۔ پیار میں اندھا انسان دوسرے انسان کے اشاروں پر ناچتا رہتا ہے اسکی ہر غلط بات کو اپنی سر آنکھوں پر رکھ کر غلط کرتا جاتا ہے۔
تصویروں کے بعد غلط کاموں پر اْکسایا جاتا ہے۔ پیار کو ثابت کرنے کے لئے ہر غلط حد پار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پھر آخر میں استعمال کر کے کھلونوں کی طرح پھنک دیا جاتا ہے۔
اس طرح یہ محبّت کا کھیل ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔اور جس کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جاتا ہے وہ اپنی جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ اس گھٹیا محبّت کے نام پر جانیں دیتے نظر آتے ہیں۔
ہزاروں لوگ محبّت کی کٹھ پتلی بنے خود کشی جیسے گناہ کا مرتکب کرتے ہیں اس طرح ایک محبّت اپنے ساتھ پورا خاندان برباد کرجاتی ہے۔
خدارا محبّت ایک خوبصورت پھول ہے اسکو پھول ہی رہنے دیں تو بہتر ہوگا کسی کو تباہ کر کے آپ بھی سکون کی زندگی کہاں جی سکتے ہیں۔
مکافات عمل کا تو سنا ہی ہوگا۔جیسا کرو گے تمھارے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جائے گا۔
کیوں کے کچھ جرموں کی ایف۔ائی۔آرآسمانوں پہ کاٹی جاتی ہے۔
”محبّت دینے پہ آئے تودنیا کی سلطنت سونپ دیتی ہے مگر جب لینے پر آتی ہے تو خاک کر دیتی ہے۔ محبّت سے بڑا کوئی سخی نہیں ہے اور محبّت سے بڑا کوئی ظالم بھی نہیں ہے۔
قسمت والے ہوتے ہیں جنکی جھولی میں محبّت پھول ڈالتی ہے ورنہ محبّت بہت ساروں کے لئے کانٹوں کی سیج ہوتی ہے.
خوش نصیب ہیں وہ جو محبّت کو پا لیتے ہیں ورنہ ہر محبّت کی منزل نکاح نہیں ہوتی۔

آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی!

محبّت کو پاتے پاتے
خود کو کھو دیتے ہیں کچھ۔
زندگی چھین کر فقیر بناتی ہے یہ سب کو۔
اسی لئے تو رو دیتے ہیں کچھ لوگ۔
مر جانا پر کبھی پیار نہ کرنا۔
سب سے چیخ چیخ کر کہتے ہیں
یہ محبّت کے ڈسے ہوئے کچھ لوگ۔
محبّت نہیں تھی تو کھیلا کیوں تھا۔
جنازے اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کچھ لوگ۔
میدان حشر جب سجے گا پوچھیں گے ان سے۔
کیوں محبّت کے نام پر دھندا کرتے تھے کچھ لوگ

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: