تھانہ گڑھی دوپٹہ نے FIR درج کرنیکے بجاے بیچ دی از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

موت سے جنگ کرتے کرتے اکثر زندگیاں ہار جاتی ہیں،اگر میں جھوٹ نہ بولوں تو صاف صاف بات یہ ہے کہ مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں ہوتا بس اتنا ہوتا ہے،میرے سمیت شہریوں کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں دلوں کا درد تیز ہو جاتا ہے۔کچھ دنوں بعد بات بھول جاتی ہے،لیکن جب سماج کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا،معاشرے کے قانون الگ الگ ہو جاتے ہیں،جو لوگ عصمتوں کے رکھوالے ہیں یعنی جن کے بل پر پوری ریاست چین کی نیند سوتی ہے،جب یہ جرائم کو چھپاتے ہیں،،رشوت کھاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں تب جو آنکھیں نم ہوتی ہیں دلوں کا درد ہوتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔نہ ہی انصاف پسند رائٹر، انصاف پسند عوام یہ بات بھول سکتی ہے۔ایسے درجنوں واقعات ہوتے ہیں لیکن بات مک مکا ہو جاتی ہے، اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو اکسیجن میسر ہوتا ہے۔۔ایسا ہی ایک واقعہ گڑھی دوپٹہ میں ہوا ہے جسکی نہ ایف آئی آر درج ہوئی نہ میڈیا و سوشل میڈیا پر کوئی خبر شائع ہوئی،ایک جرم پہلے تھا ایک جرم اور کیا گیا ہے۔مورخہ 19/20 جنوری 2021 کو گڑھی دوپٹہ کے آبائی گاؤں تارا کلس بانڈیاں سے تعلق رکھنے والے محمد حنیف والد عبدالطیف عمر 22 سال قوم تکڑ چوہدری سماج کی عزت سماج کی بیٹی کو ساتھ لے کر گورنمنٹ ہسپتال گڑھی دوپٹہ آیا،لڑکی نے لیڈیز ڈاکٹر صاحبہ کو بتایا کئی ماہ سے ماہواری بند ہے۔۔۔ظاہر ہے عورت کے حاملہ ہونے کی یہی نشانی ہوتی ہے،ڈاکٹر صاحبہ نے باہر ٹیسٹ کروانے کے لیے بھیجا ٹیسٹ کی رپورٹ پازیٹو Positive آئی،لڑکے کی گھبراہٹ کی وجہ سے ڈاکٹر صاحبہ نے سوالیہ انداز سے لڑکی سے پوچھا آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟؟ لڑکی نے بتایا ابھی تک شادی نہیں ہوئی۔تو ڈاکٹر صاحبہ نے پوچھا یہ حمل کس کا ہے؟؟ لڑکی نے محمد حنیف کی طرف اشارہ کر دیا جو اس کے ساتھ ہسپتال آیا تھا۔اسی لڑکے کا ہے یا نہیں اس کی تصدیق تب ہی ممکن ہے جب اس مقصد کے لیے DNA ٹیسٹ کیا جاے گا۔تب صاف واضح ہوے جاے گا لڑکا قصور وار ہے کہ نہیں۔۔پھر لڑکے نے واش کرنے کا مطالبہ کیا جس پر لیڈیز ڈاکٹر نے انکار کر دیا،،،لڑکا رپورٹ اور لڑکی کو لے کر دوسری ڈاکٹر صاحبہ کے پاس چلا گیا دوسری ڈاکٹر صاحبہ نے 30000 کی ڈیمانڈ کی 15000 روپے وصول بھی کیے کہ اتنی دیر میں پولیس آن پہنچی پولیس کو یقینن پہلی ڈاکٹر صاحبہ نے اطلاع دی ہو گی۔۔۔لیکن میرے شک کے مطابق پہلی لیڈیز ڈاکٹر صاحبہ نے 50000 کی ڈیمانڈ کی ہو گی لڑکے نے انکار کرتے ہوے دوسری ڈاکٹر صاحبہ کو چیک کروایا ہو گا دوسری ڈاکٹر صاحبہ نے 30000 روپے واش کرنے کی قیمت مانگی ہو گی پہلی ڈاکٹر صاحبہ نے پولیس کو کال کی ہو گی۔۔ہمارے کشمیر میں یہ بات بھی کافی ترقی یافتہ ہے کہ منہ مانگی موت وی نی تھاندی۔۔ابھی ڈاکٹر صاحبہ نے واش کی ادویات استعمال نہیں کی تھیں کہ پولیس آ گئی دونوں کو تھانے میں لے جا کر بند کر دیا دونوں کے والدین یا وارث آے تھانے میں وہی پرانی رسموں کو زندگی بخشتے ہوے جرگہ کلچر کو اپنایا گیا یہ غیر قانونی تحفظ ہے ایک لاکھ روپے کی بولیاں لگائی گئیں FIR کو فروخت کر دیا گیا،رات کے اندھیروں نے انصاف کو اندھیروں میں دھکیل دیا دونوں خاندانوں میں صلح کروا دی گئی صبح ہوتے ہی دونوں کو رہا کر دیا گیا، نا ایف آئی آر نہ تحقیق صرف اور صرف کاروبار کو پرموٹ کیا گیا۔میری تحقیق کے مطابق لڑکے نے چھ ماہ پہلے اس لڑکی کا ریپ کیا تھا تھانے سے با عزت رخصتی کے بعد،اس واقعہ کے دوسرے دن 21/22 جنوری 2021کو سید اختیار حسین شاہ والد حسین شاہ،عمر 50 سال قوم نقوی جن کے پاس گاؤں کے لوگوں کا نکاح پڑھانے کا اختیار ہے انہوں نے چار گواہوں کی موجودگی میں قاسم والد مٹھا،،،،محمد اصغر والد جمعہ،،،چوہدری یوسف والد اسماعیل ،،، محمد نوید والد مکھا کی موجودگی میں نکاح پڑایا،نکاح کی تاریخ پولیس کے مشورے کے مطابق ایک سال پیچھے کر دی گئی یعنی 22 جنوری 2021 کی جگہ 22 جنوری 2020 کر دی گئی،یہ مضبوط مشورے بھی ایک لاکھ روپے میں ہی دیے گئے ہیں۔۔۔نکاح کے چند دنوں کے بعد دونوں میاں بیوی کو لاہور بھیج دیا گیا ،ابھی تک وہی ہیں۔۔یہ تو ایک کیس ہے جس کے بارے میں کچھ دن پہلے میں نے سنا اور جانچ پڑتال شروع کر دی وقت کافی گزر گیا تھا جسکی وجہ سے مجھے میڈیکل رپورٹ نہ مل سکی نا جانے ایسے کتنے کیس روپیوں کے ساے تلے دفن کیے جاتے ہیں ایسا بھی ممکن ہے لڑکا بے گناہ ہو ،کچھ بھی ہو زمہ دار پولیس ہے،پولیس نے ایک جرم چھپانے کے لیے ایک اور جرم کیا اسی وجہ سے عوام چوروں سے زیادہ،،منشیات فروشوں سے زیادہ،،دہشت گردوں سے زیادہ پولیس والوں سے ڈرتے ہیں۔۔پولیس کو پتہ ہی نہیں عصمت ہے کیا؟یہی پولیس کے اہلکاران سپاہی سے لے کر اعلی’ افسران تک مقامی لوگ ہیں یہ بہنیں انکی بھی بہنیں ہیں یہ بیٹیاں انکی بھی بیٹیاں ہیں لیکن انہیں پتہ ہی نہیں کہ عصمت شئے کیا ہے جس کے چلے جانے سے شرم آنی چاہیے اسی وجہ سے میں پولیس پر کوئی سوال نہیں رکھتا جب عصمتوں کے رکھوالے بھی بکنے لگ جائیں تو قصور وار رشوت دینے والے بھی ہوتے ہیں،کالی رات سفید بدن،سرد رات میں جسم کے سرخ انگارے بھی قصور وار ہوتے ہیں،،بڑے بڑے چھوٹے چھوٹے علاقوں میں ایسے جرم چلتے رہتے ہیں،،چھوٹی چھوٹی رشوتیں جیبوں میں آرام کے لیے آتی رہتی ہیں۔۔ایسے جوابات کی وجہ سے میں اپنے سوالات نہیں رکھنا چاہتا،رشوت لینے اور جرائم کرنے والوں کے دل پتھر ہیں شاید ان پتھروں سے بھی کسی دن عقل ایمانداری کے چشمے نکل جائیں۔۔میری آنکھیں تو ویسے ہی خطرناک خبروں کی عادی ہیں یہ تو ویسے ہی ایسے جرائم پڑتی ہیں مجھے افسوس کے دریا میں غوطا لگانے پر مجبور کرتی ہیں،مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں رائٹر کیوں ہوں الیکٹریکل انجئنیر کیوں ہوں صحافی کیوں ہوں مجھے تو دہشت گرد ہونا چاہیے اگر میں دہشت گرد ہوتا ایسی پولیس ایسے مجرموں کو مارتے مارتے مر جاتا ایسی احمقانہ اور زلت آمیز زندگی سے موت اچھی،،اس معاشرے سے قبر اچھی،،یہاں ایف آئی آر درج کروانے کے بھی پیسے دیں۔۔ایف آئی آر خارج کروانے کے بھی پیسے دیں شناختی کارڈ گم ہو گیا موبائل گم ہو گیا اسکی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے بھی 1000/2000 روپے دیں۔۔رشوت کے بغیر ہماری پولیس کی قلم نہیں چلتی،پولیس حفاظت کے بجاے ظالم بن گئی ہے۔۔پولیس کا کام قانون پر عمل درآمد کروانا ہے لیکن قانون کے محافظ خود قانون توڑتے ہیں مختلف تھانوں کے ایس ایچ او جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کرتے ہیں۔ہر غلط کام یہی کرتے ہیں،آزاد کشمیر کے کئی بلکہ سارے اضلاع میں ظلم،زیادتی،ناانصافی کی زمہ دار یہی پولیس ہے۔۔وہ افسران بھی گزر گئے جو خود کو ایماندار قرار دیتے تھے مگر انہوں نے پولیس فنڈ کو نہیں بخشا حکومت جو رقم تھانوں کی گاڑیوں دیگر ضروریات کے لیے فراہم کرتی رہی،پولیس افسر کی مرضی سے فرضی اخراجات کے بل بنا کر ہڑپ کر لیے گئے نہ ان ایمان داروں کا احتساب ہوا نہ سزا ہوئی بس اللہ تعالی’ سے عاجزانہ دعا ہے اللہ تعالی’ کسی کے وسیلے سے انکی مغفرت فرمائے آمین۔۔۔یہی رسموں رواج آج تک قائم ہے اعلی’ افسران کرپشن کرتے ہیں،سپاہی سے اے ایس آئی تک رشوت لیتے ہیں۔جرائم پر جرائم کرتے ہیں،پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں،عوام کی خدمت و مدد کرنے کے بجاے اپنے مال کو فروغ دیتے ہیں،جھوٹے مقدمات درج کرنے،،، بے گناہوں کو پھسانے،،،رشوت وصول کرنے کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے،،،سرکاری زمینوں پر قبضے کرنے والوں سے بھاری رقم لینے،،،لوگوں کو بلیک میل کرنے جیسی سنگین وارداتوں میں آزاد کشمیر پولیس کے اہلکاران حقیقی طور پر ملوث ہوتے ہیں۔۔۔تھانوں کے ایس ایچ او اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے ہیں،بااثر سپاہی اپنے ایس ایچ او کا اور ایس ایچ او اپنے ایس ایس پی کا تبادلہ کرانے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔پولیس تبادلے بھاری رشوت پر ہوتے ہیں ایسا کونسا پولیس ملازم ہو گا جو رشوت دے کر خرچ کی ہوئی رقم پوری نہیں کرے گا؟ اور بے گناہ پکڑے گئے لوگوں کو مفت میں چھوڑ دے گا۔۔میں سو فیصد گارنٹی سے کہتا ہوں جس کیس کا ذکر میں نے پیچھے کیا ہے پولیس نے ایک لاکھ روپے رشوت لی ہے دینے والوں نے پولیس کی دھمکیاں سن کر دی ہے۔پولیس نے سنگین دفعات لگانے کی دھمکیاں دے کر رشوت وصول کر کہ مک مکا کی ہے۔رشوت دینے والوں کو رشوت دینے کے جرم میں گرفتار کرنا چاہیے تھا لیکن باعزت نکاح پڑھانے اور قانون سے بچنے کے لیے مضبوط مشورے دیے گئے ہیں جن کا رزلٹ پورے سماج کو جرائم کی طرف دھکیل رہا ہے۔۔۔
٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: