Muhammad Shafiq Bhatti

الیکشن ڈسٹرکٹ بار اوکاڑہ از تحریر محمد شفیق بھٹی ( بلا تفریق )

وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کی اگر مثال ملتی ہے تو وہ صرف وکلا کے انتخابات ہیں جن کا تسلسل ابھی تک جاری ہے وکلا کے انتخابات ہر سال جمہوری طرز عمل پر ہوتے ہیں ملک کے حالات خواہ کچھ بھی ہوں ہر سال ملک میں تحصیل بار سے لے کر سپریم کورٹ تک الیکشن کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں وکلا اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور ایک سال کے لیے جمہوری طریقہ سے اپنی کابینہ کا چناو کرتے ہیں وکلا برادری نے ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے تحریکیں بھی چلائیں جن پر ان کو ڈکٹیٹروں کا سامنا بھی کرنا پڑا اور انہیں قید و بند کی صوبتیں بھی جھیلنا پڑی یہی وجہ ہے کہ وکلا آج بھی جمہوریت کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں اوکاڑہ کو 1982 میں ضلع کا درجہ ملنے کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا اس طرح ، 2021۔22میں ڈسٹرکٹ بار کے یہ 38 ویں انتخابات ہیں اس سے قبل تحصیل بار اوکاڑہ کے انتخابات ہوا کرتے تھے 1170 وکلا جن 172 خواتین وکلا ہیں ووٹ کے ذریعے آئندہ اپنی نئی قیادت کا انتخاب کریں گے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں ہر بار برادری کے دو مضبوط دھڑوں میں مقابلہ ہوتا ہے،آرائیں برادری اور راجپوت برادری ڈسٹرکٹ بار کے لیے اپنا اپنا امیدوار دیتے ہیں اب ان برادری ازم سے ہٹ کر وکلا نے ایک گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے گروپ بنایا ہے جو پچھلے دو سالوں سے بار میں محنت کر رہا ہے اور بار میں ایک مضبوط الائنس سامنے آیا ہے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے اس سے قبل ممبر پنجاب بار ایسوسی ایشن کے لیے اپنا امیدوار دیا جو کہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جو کہ اس بات راجپوت برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی نظر آ رہا ہے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ میں کل 16 امیدوار آمنے سامنے ہیں صدر کے لیے مرزا ذوالفقار علی،سید کوثر شاہ،افتخار بھٹی،اور جنرل سیکرٹری کے لیے رانا محمد عظیم،چوہدری احسان ربیرہ اور زاہدہ حسن جوئیہ امیدوار ہیں،ڈسٹرکٹ بار سال 2021 کے لیے صدر مرزا ذوالفقار اور رانا عظیم آرائیں گروپ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس GDA کے مشترکہ امیدوار ہیں جی ڈی اے گزشتہ دو سالوں محنت اور لگن سے ڈسٹرکٹ بار میں ایک مقام حاصل کر لیا ہے انہوں نے اپنے متحد ہونے کے ساتھ ساتھ بار میں یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا ہے اور چوہدری ریاض الحق آرائیں گروپ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے متفقہ چیئرمین ہیں ان کے علاوہ چوہدری جاوید اسلم، سید عامر احتشام شاہ،کمبوہ برادری،اساس لائر گروپ،یونائیٹڈ گروپ کے علاوہ اور بھی کئی گروپس نے مرزا ذوالفقار اور رانا عظیم کی سپورٹ کا اعلان کر رکھا ہے مرزا ذوالفقار بار میں وہ شخصیت ہے جس نے ہمیشہ حق اور سچ کی سپورٹ کی اسی وجہ سے بار میں وکلا کی ایک بڑی تعداد ان کو سپورٹ کر رہی ہے مرزا ذوالفقار سیاسی لحاظ سے بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں اس سے پہلے سٹی کونسلر بھی منتخب ہوئے ہیں اور انصاف لائر فورم کے سابق ضلعی صدر بھی رہے ہیں اس طرح انکا ایک سیاسی بیک گراونڈ بھی ہے اور ان کو حکومتی جماعت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے لیکن وکلا کے انتخابات میں سیاسی جماعت کا عمل دخل زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہوتا اسی طرح انکا جنرل سیکرٹری بھی خوش اخلاق اور ملن سار شخصیت کا حامل ہے جس کی کامیابی کے لیے ینگ وکلا سمیت بار کی ایک بڑی تعداد انکی سپورٹ کے لیے دن رات کوشاں ہے انہوں نے بار میں بہت جلد اپنا مقام بنایا،جنرل سیکرٹری کے لیے رانا عظیم کو لکھوی لائر گروپ،ینگ وکلا،اور اس کے علاوہ بھی دیگر گروپس کی سپورٹ بھی حاصل ہے دوسری جانب راجپوت گروپ شفیق بھنڈارہ کے امیدوار سید کوثر شاہ اور جنرل سیکرٹری کے چوہدری احسان ربیرہ امیدوار ہیں بار میں اب تک دو مضبوط دھڑوں میں مقابلہ ہوتا آ رہا ہے،سید کوثر شاہ ایک منجے ہوئے وکیل ہیں اور بار میں اپنا ایک مخصوص اثر و رسوخ رکھتے ہیں،اس الیکشن کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اس بار تمام راجپوت برادری کے سر کردہ جن میں اختر حسین بھٹی،راو محمد اشرف،رائے محمد شفیع کھرل،سید زاہد بخاری و دیگر وکلا ایک پیج پر نظر آرہے ہیں اور اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں راجپوت برادری نے اس بار جنرل سیکرٹری کے لیے چوہدری احسان ربیرہ کو میدان میں اتارا ہے چوہدری احسان ربیرہ چونکہ بار میں وکلا کو زیادہ نظر نہیں آئے لیکن اس کے باوجود وہ وکلا میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اس کی ایک خاص وجہ انکی سپورٹ اور ووٹ کے حصول کے لیے دن رات گیم چینجر رائے شفیع کھرل میدان میں اترے ہوئے ہیں اور اسی طرح افتخار بھٹی بھی صدر کے امیدوار ہیں ان کو سینئر ایڈووکیٹ اسلم مغل کی حمایت حاصل ہے اور جنرل سیکرٹری کے لیے خاتون ایڈووکیٹ میڈم زاہدہ حسن جوئیہ امیدوار ہیں وکلا ایک بڑی تعداد اس بار ڈسٹرکٹ بار کے لیے دبنگ قیادت کا سوچ رہی ہے اور وہ دبنگ اور نوجوان قیادت اس بار مرزا ذوالفقار اور رانا عظیم کی شکل میں بار میں موجود ہے اس لیے اس بار پھر آرائیں گروپ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے متفقہ امیدوار کامیاب ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ان کا پلڑا راجپوت برادری کے امیدوار کے مقابلے میں بھاری نظر آ رہا ہے دونوں گروپس اپنی اپنی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں،سید کوثر شاہ بھی کوئی آسان کینیڈیٹ نہیں ہیں اس لیے صدر کے لیے کانٹے دار مقابلہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ سیکرٹری کے لیے رانا عظیم مضبوط امیدوار ہیں کامیابی کا سہرا کس کے سر پر سجتا ہے اس بات کا تو پتا 9 جنوری کو ہی پتا چلے گا۔۔۔۔

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: