Muhammad Akram Amir Today's Columns

طلاق کا بڑھتا رجحان از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

معاشرے میں ماں باپ سے بغاوت کر کے نکاح کرنے والوں کو ’’پریمی جوڑا‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے، اس طرح ہونے والی شادی کو محبت کی شادی کہتے ہیں، اس نوعیت کے 90 فیصد نکاح کچہریوں میں نام نہاد نکاح خواں پڑھاتے ہیں، اور بغاوت کر کے گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں جنہوں نے اسے (لڑکی) کو ناز نخروں سے پال پوس کر جوان کیا ہوتا ہے کیخلاف طرح طرح کے سنگین گندے الزامات جو اسے وکیل پڑھاتا ہے لگا کر عدالت میں کیس دائر کر کے اپنے ہونے والے شوہر کو محفوظ کر کے خود غیر محفوظ ہو جاتی ہیں، ایسے جوڑے کئی کئی سال نکاح کے بغیر ایک دوسرے کی جنسی تسکین پوری کرتے ہیں، ایسی شادیاں رچانے والوں کی اکثریت فلموں سے متاثر ہو کر ایسا قدم اٹھاتی ہیں اور شادی کے وقت ان کے ذہن میں فلموں جیسا منظر گردش کر رہا ہوتا ہے، وہ تصور کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آئندہ زندگی فلمی جوڑوں کی طرح خوشگوار گزرے گی مگر فلموں میں شادی کے بعد کی کہانی کی عکاسی نہیں کی جاتی، کیونکہ اس صورت میں فلم ڈبہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے شہروں کے ساتھ دیہی پسماندہ علاقوں کی رہنے والی لڑکیوں کے دلوں میں فلمی ہیروز جیسے آئیڈیل پیدا کر دیئے ہوتے ہیں۔ ایسی لڑکیاں اپنے آئیڈیلز جس سے وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر نکاح کرنے جا رہی ہوتی ہیں سے عہد و پیما کرتے ہوئے ایک دوسرے سے قسمیں تک لیتی دیتی ہیں، لیکن آپ یہ سن کر حیران ہونگے کہ ایسی 61 فیصد شادیوں کا انجام طلاق پر ختم ہوتا ہے اور صرف 39 فیصد پریمی جوڑے نبھا کر پاتے ہیں، ان میں سے صرف 11 فیصد میں آخر تک محبت کی فضاء قائم رہتی ہے اور 28 فیصد پوری زندگی تنائو کا شکار رہتے ہیں، جو بچے پیدا ہو جانے کے باعث ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، ایسے ماں باپ کی اولادیں اکثریت میں بے راہ روی کا شکار، نالائق اور معاشرے پر بوجھ ہوتی ہیں، اور ان میں سے بڑے بڑے جرائم پیشہ بھی بنتے ہیں۔
غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020ء میں لاہور، ملتان، گجرانوالہ، راولپنڈی، جہلم، شیخوپورہ، خوشاب، بھکر، سرگودھا، پاکپتن، ساہیوال، بہاولپور، لودھراں، رحیم یار خان، راجن پور سمیت 36 میں سے 30 اضلاع کی کورٹس میں 4 لاکھ 81 ہزار کے لگ بھگ خواتین نے خلع کیلئے رجوع کیا،3 لاکھ 62 ہزار کے قریب کیسوں کے فیصلے ہوئے، 7 ہزار کے لگ بھگ میاں بیویوں نے عدالتوں میں صلح کی اور 3لاکھ 55 ہزار کے قریب خواتین نے خلع حاصل کیا، جن میں پسند کی شادی کرنے والی خواتین و لڑکیوں کی تعداد 82 فیصد کے لگ بھگ تھی، خواتین میں بڑھتے ہوئے طلاق کی بڑی وجہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا ہے، جسے دیکھ کر لڑکیاں خواہشات کی تکمیل نہ ہونے پر شوہر سے بگاڑ پیدا کر لیتی ہیں اور ایسی صورت میں طلاق کی اکثریت وجہ لڑکیوں کی اپنے والدین تک رسائی نہ ہونا ہے جو آ کر میاں بیوی کے مابین معاملہ سدھار سکیں کیونکہ پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کی اکثریت پہلے ہی اپنے والدین کو اپنے تئیں مار کر گھروں سے آئی ہوتی ہے، پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں میں اکثریت پڑھی لکھی ہوتی ہے جو سوشل میڈیا کا استعمال بھی خوب جانتی ہیں اور یہی سوشل میڈیا ان کے گھروں کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 2020ء میں 243 پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کو ان کے والدین نے غیرت کے نام پر قتل کیا، جبکہ ان میں 31جوڑے یعنی پسند کی شادی کرنے والی لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں۔ جبکہ ایسے لا تعداد واقعات بھی ہونگے جو رپورٹ نہیں ہوئے ہونگے، پسند کی شادی کر کے نبھا نہ ہونے پر گزرے سال میں 18 پریمی جوڑوں نے اجتماعی خود کشی کی جبکہ پسند کی شادی کی وجہ بن کر 31 افراد جن میں 6 خواتین بھی شامل ہیں بدلہ میں قتل ہوئے۔ اس طرح طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرتی بگاڑ کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ کئی خاندانوں میں دشمنیوں کا باعث بن گئی، جس کے آنے والے وقت میں بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔
پسند کی شادی کا رجحان 1998ء میں حدود آرڈیننس میں ترمیم کے بعد آئے سال بڑھتا دیکھنے میں آ رہا ہے، جو کہ خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا اگر خدانخواستہ کبھی کوئی طلاق کا واقعہ پیش آتا تو گاؤں کے معززین گاؤں سے دور جا کر طلاق لکھنے یا فیصلے کو سر انجام دیتے تاکہ اس کا عذاب پورے گاؤں پر نہ نازل ہو اور بیٹی والوں کے گھر میں کئی دنوں تک افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ایک عرصے تک وہاں کی فضا سوگوار رہتی تھی۔مگر آج کل دور جدید میں اپنے خاوند کو مجازی خدا سمجھنے والی وہی عورت نام نہاد مغربی آزادی اور اسی زندگی کا پرچار کرنے والے ہمارے ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے فیشن اور آزادی کی دھن میں مگن آج کی خواتین اپنے رویوں کی وجہ سے خود طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافے کا سبب بن چکی ہیں۔ معاشرہ اس وقت اخلاقی گراوٹ کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے حکومت وقت کو موثر اقدامات کرنے ہونگے ورنہ آنے والے وقت میں طلاق کی شرح اس تشویشناک حد تک بڑھ جائے گی جسے کنٹرول کرنا پھر مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جائے گا۔ یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ اپنے گھر، ماں باپ، بہن بھائی، عزیز و اقارب کو چھوڑ کر پسند کی شادی کرنے کے بعد خلع حاصل کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد بے راہ روی کا شکار ہو کر معاشرتی بگاڑ کا باعث بن رہی ہیں اور ایسی خواتین کی اکثریت نوجوان نسل کو تباہ کرنے کیلئے مختلف ڈیروں پر سرعام داد عیش دیتی نظر آتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی شادیاں کرنے والے جوڑوں کی تربیت کیلئے ادارے قائم کیے جائیں اور ان اداروں میں طلاق کیلئے رجوع کرنے والی خواتین کی اصلاح کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تا کہ طلاق کی شرح میں کمی واقع ہو تو بے راہ روی اور معاشرتی بگاڑمیں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: