AD Shahid Today's Columns

خوفناک سال 2020 از اے ڈی شاہد ( چنتا )

AD Shahid
Written by AD Shahid

ابھی پچھلے برس ہی کا قرض باقی ہے
پھر کیسے کہوں تجھ کو نیا سال مبارک
سال 2020 انسانی تاریخ کا خوفناک ترین سال ہے اس میں کرونا وائرس نے پوری دنیا میں خوف و ہراس کے ساتھ انسانی جانیں لیں دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی اس کا شکار ہوا کرونا نے دنیا بھر میں لاکھوں شہریوں کو لقمہ اجل بنا دیا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہےکوویڈ 19انسانی تاریخ میں سب سے بڑی وباء کہی جا سکتی ہے لیکن اس سے قبل بھی کئی ایسی وبائیں مصیبتیں اور حادثات انسانی تاریخ میں رونما ہو چکے ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ان وباؤں حادثات اور خوفناک بحرانوں اور آفتوں نے انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا تاریخ کے آغاز سے ہی مشکلات نے انسانی زندگی کو خدشات سے گھیر لیا آج سے 5 ہزار سال قبل ایک پراسرار بیماری نے انسانوں کو دیکھتے ہی دیکھتے مٹی میں پہنچادیا شمال مشرقی چین میں اموات اس قدر تیزی سے ہوئی کہ کسی کو اتنا وقت ہی نہ ملا کے مناسب طریقے سے دفن ہی کیا جاسکے جن علاقوں میں مذکورہ پراسرار بیماری ہامین منگا پھیلی وہ علاقے دوبارہ صدیوں تک آباد نہ ہو سکے اس کے بعدایتھنزکے طاون نے انسانوں کودن رات نگلنا شروع کر دیا 430قبل عیسوی میں ایک طرف ایتھنز اور سپارٹا کے مابین جنگوں نے ہزاروں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا وہیں طاعون جیسی وبا سے لوگوں کو اچانک سر کا بخار چڑھتا اور دیکھتے ہی دیکھتے مریض جان کی بازی ہار جاتا جیسٹی طاون نے اس وقت آدھی انسانی آبادی دنیا سے ختم کردی جب دنیا کی کل آبادی صرف 3 کروڑ کے قریب تھی اس بیماری نے باز نطینی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا اس بیماری کے آنے کےبعد پہلے سال میں 3لاکھ افراد لقمہ اجل بنے ہلکے بخار سے شروع ہونیوالی اس بیماری کا درد ناک انجام تیزی سے ہوتا اس سے جسم پر سیاہ رنگ کے پھوڑے بنتے اور آہستہ آہستہ انسانی جسم کو ختم کر جاتے لیکن کچھ خوش قسمت ایسے بھی تھے جو کوما میں چلے جاتے 700سو سال سیاہ طاعون کی وبا کو سیاہ موت کا نام دیا گیا اس نے اڑھائی کروڑ لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اس بیماری نے 1346 سے 1353 تک یورپ اور ایشیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا اٹلی سے شروع ہونے والی بیماری یا اطالوی طاون بھی 1629میں آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل گئی جس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلایی اٹلی میں 2لاکھ 80ہزار لوگ اس بیماری سے مر گیۓاطالوی طاون نے بعض اطالوی شہروں کی 50 فیصد آبادی صفحہ ہستی سے مٹا دی پھر ایک وقت آیا کہ ان کا عظیم طاعون پھیلناشروع ہوا سترھویں صدی میں لندن کے طاون نے بادشاہ چارلس سمیت ایک لاکھ شہریوں کو ہلاک کر دیا اس نے لندن شہر کی 20 فیصد آبادی کو ختم کر دیا چیچک نے 15ویں صدی میں دنیا بھر میں تباہی مچائی اور لاکھوں افراد مارے گئے لیکن امریکہ میں ایک صدی کے دوران اس بیماری نے 90 فیصد آبائی امریکیوں کو مٹا دیا چیچک دنیا میں پہلی بیماری تھی جس کا ویکسین کے ذریعے علاج ڈھونڈا گیا ہیضے نے بھی دنیا میں کافی نقصان کیا روس میں 10 لاکھ لوگ چھوٹی آنت کی بیماری ہیضے کا شکار ہوئے جنوبی ایشیا میں بھی ہیضے نے ہزاروں افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا 19ویں صدی میں روسی زوکام نے 3 لاکھ 60 ہزار لوگوں کی جان لے لی اور پھر ہسپانوی زوکام نے دنیا میں تباہی مچا دی اس نے 5 کروڑ لوگوں کی جانیں لیں جب کہ کروڑوں شدید بیمار ہوئے اس کی دوسری لہر ایشین زوکام ایشیایی ممالک میں شروع ہوئی جس نے11 لاکھ لوگوں کو مار ڈالا 2003 میں اسی زوکام کی ایک اور قسم دریافت ہوئی جس نے سینکڑوں لوگوں کی جانیں لی لیکن سارس نامی اس بیماری نے دنیا میں بیماریوں کے خلاف کام کرنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور بہت سی نئی تحقیقات شروع ہوئی11 مارچ 2020 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کوویڈ 19 وباکا دنیا کو بتایا جو چینی شہر ووہان میں دریافت ہوئی تھی اس نے دنیا میں ایسا خوف و ہراس پھیلایا ساری دنیا جام ہو کر رہ گئی بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے کوویڈ 19 نےپوری دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر روز ہزاروں لوگوں کی اموات ہوتی رہییں کوویڈ 19 نے پوری دنیا کی شکل تبدیل کرکے رکھ دی دنیا بھر میں اب تک تقریبا 17 لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں جبکہ 8کروڑ کے قریب انسان اسی وائرس کا نشانہ بن چکے ہیں اس بیماری نے عالم انسانیت کے رہن سہن اور تہذیبوں کو بدل کر رکھ دیا انسانوں کے رہنے کے اطوار بدل ڈالے اور میل جول بدل گیا حتیٰ کہ انسانی خوراک اور سوچ میں بھی تبدیلی ہو گئی ابھی تک دنیا کرونا وائرس میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے کہ ایک نئے وائرس نے آگھیرا ہے برطانوی سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کو پہلے ہی کرونا وائرس کی نئی قسم سے خبردار کر دیا تھااس وائرس کو وی آئی یوvIU کا نام دیتے ہوئے انسانی جسم میں 23 مختلف تبدیلیاں لانے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے لندن میں آنے والے 62 فیصد نئے کیسز اسی بیماری سے متعلق ہے یہ وائرس برطانیہ کے علاوہ مزید 3 ممالک تک پہنچ چکا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق برطانیہ کے بعد ڈنمارک میں بھی اسی قسم کے 9 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور ایک کیس کی تشخیص آسٹریلیا میں ہوئی ہے عالمی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا کے حوالے سے آئندہ 6ماہ بدترین ثابت ہو سکتے ہیں اس سے تقریبا 3کروڑ افراد کی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے 2020 رخصت ہو رہا ہے جو انسانی تاریخ کا خوفناک سال تصور کیا جائے گا وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی بے روزگاری اور سیاسی افراتفری اپنے اپنے عروج پر ہے ہم سال 2021 میں لے کر داخل ہو رہے ہیں خدا ہمیں ان بحرانوں اور بیماریوں سے نجات دلائے اور میرے وطن کو عظیم سے عظیم تر بنائے

About the author

AD Shahid

AD Shahid

Leave a Comment

%d bloggers like this: