والد محترم کی عظمت از سجاد علی شاکر ( نگاہ سجاد )

باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ہر معاشرے اور مذہب میں والدین کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ ماں کا جواب نہیں اور باپ کا نعمل البدل نہیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے انسان کو ان دو نعمتوں سے نواز کر بندے کو ایثار اور قربانی کا مفہوم سمجھا دیا۔ یہ وہ رشتے ہیں محبتوں اور شفقتوں کا ہر لمحہ خوبصورت ہوتا ہے۔جو آخرت میں بھی ساتھ ہوں گے۔ روزِ قیامت انسان انہی رشتوں سے پکارا جائے گا۔ ماں باپ کے چہروں کو دیکھنا زیارت کعبہ کے مترادف ہے۔ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے، اس کی طاقت اس کی پہچان ہوتا ہے، اس کی دنیا و آخرت کی نجات ہوتا ہے مگر نافرمان اولاد باپ کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، اول نیک اعمال کر جائے دوم ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں سوم نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔‘‘ تیسرا عمل جس کا ثواب ملتا رہے، جب تک یہ لڑکا دنیا میں زندہ رہے گا، اس کی نیکیوں کا ثواب اس کے ماں باپ کو ملتا رہے گا اور اپنے ماں باپ کے حق میں دعائیں کرے گا۔ لڑکے کے لئے صدقہ جاریہ کی خاص تاکید فرمائی گئی ہے کہ لڑکی شوہر کے حقوق کی پابند ہے جبکہ لڑکا وراثت میں بھی زیادہ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے ۔ والدین در حقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، انسان کا وجود والدین کے رہین منت ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بھی کئی مقامات پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے ساتھ رحیمانہ معاملہ فرماتے ہوئے امت کو اس بات کی تعلیم دی کہ والدین کی اطاعت وفرماں برداری اپنے لیے لازم کرلو، بصورت دیگر والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہ شمار کیا، کبیرہ گناہ وہ ہے جو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا: کبیرہ گناہ شرک اور والدین کی نافرمانی ہے۔ایک باپ جو صبح سے شام تک اولاد کی پرورش ان کی تربیت کے سلسلہ میں بے چین رہتا ہے وہ اس خیال میں محو رہتا ہے کہ اخراجات کی تکمیل کیسے ہو؟باپ کے ہوتے ہوئے اولاد خود کو محفوظ سمجھتی ہے۔ باپ کے ہوتے ہوئے بیٹے بے فکری کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ جیسے ہی باپ کا سایہ عافیت سر سے اٹھتا ہے تو فوراً ہی اولاد کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سر پر کتنا بوجھ آن پڑا ہے۔ باپ دنیا میں اللہ رب العزت کی عظیم نعمت ہے۔ انسان جو کچھ بھی ہے والد ہی کی وجہ سے ہے۔ والد اپنی اولاد کی پرورش کے لیے اپنی جان تک لڑادیتا ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی اولاد کی راحت رسانی میں صرف کردیتا ہے۔ دنیا کی تمام نعمتیں اولاد کو لاکر دینے کی کوشش کرتا ہے، جس کے لیے اپنی خواہشات کو بھی دبا دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے کو خود سے آگے جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا، کسی دوسرے کو خود سے زیادہ ترقی کرتا ہوا دیکھ کر شاید ہی کوئی خوش ہو لیکن والد کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ چاہتا ہے اس کی اولاد اس سے آگے بڑھے۔ وہ بچوں کو ترقی کرتا ہوا دیکھ کر پھولا نہیں سماتا۔ خود اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ جو کام میں نہیں کرسکا میرے بچے کریں۔ والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی نگہبانی کرتا ہے۔اللہ رب العزت نے بھی والدین کی عظمت کا جابجا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان کی عظمت بیان فرماتے ہوئے تلقین کی ہے کہ ان کا ہر حکم بجا لاؤ سوائے اس حکم کے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور ان کے سامنے اف تک نہ کہو۔ ان کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔ بڑھاپے میں ان کا خیال رکھو۔ ان کی خدمت کرکے اپنے لیے حصول جنت کا راستہ ہموار کرو۔ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ میرا باپ میرا سارا مال خرچ کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کو بلایا۔ جب والد کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کی ہے تو انہیں بہت رنج ہوا۔ راستے میں چلتے ہوئے انہوں نے دل میں کچھ اشعار کہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ پہلے مجھے وہ اشعار سنایئے جو آپ نے راستے میں کہے ہیں۔ وہ مخلص صحابی تھے، سمجھ گئے کہ وہ اشعار جو ابھی تک میرے کانوں نے بھی نہیں سنے، وہ بھی اللہ تعالی نے سن لیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر بھی کردی ہے۔ انہوں نے وہ اشعار سنانے شروع کیے۔ خلاصہ کچھ یوں ہے: ’’میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور تمہاری ہر ذمہ داری اٹھائی، تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی رات تم بیمار ہوجاتے تو میں بیداری میں رات گزارا دیتا۔ میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، حالانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ جب تو اس عمر کو پہنچ گیا تو پھر تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی سے دیا۔ جیسا کہ تم مجھ پر احسان و انعام کررہے ہو۔ کم از کم اتنا ہی حق مجھے دے دیتے جتنا ایک شریف پڑوسی دیتا ہے۔ کم از کم مجھے پڑوسی کا حق ہی دیا ہو۔‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے تو بیٹے سے فرمایا کہ ’’تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔‘‘اس سے معلوم ہوا کہ باپ کے دل سے نکلنے والی آہ کتنی جلدی عرش تک پہنچتی ہے، اس لیے والدین کے لیے راحت کا ذریعہ بننا چاہیے نہ کہ اذیت رسانی کا۔ ماں باپ کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ ان کے دل سے دعائیں نکلیں۔ ماں باپ کی خدمت سے زندگی میں خوشحالی آتی ہے، رزق میں برکت ہوتی ہے، اولاد فرمانبردار ہوتی ہے، دعائیں اور عبادت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللہ تعالی کی ناراضی باپ کی ناراضی میں پوشیدہ ہے۔

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: