حقیقی سیاسی کارکن ندیم افضل چن کی رخصتی اور پی ٹی آئی کی بدقس متی! از نصرت جاوید ( برملا )

مختارے کو کرونا سے بچاتے بچاتے ندیم افضل چن خود اس بیرحم سیاسی نظام کا شکار ہو گیا۔ مختارے کو کرونا سے ڈراتے ڈراتے وہ خود ایوان اقتدار کی سازشوں کے سامنے بے بس ہو گیا، مختارے کو بیماریوں سے بچانے کی کوشش کرنے والا ندیم افضل چن خود ذہنی بیمار سیاست دانوں کے گندے کھیل کا شکار ہو گیا۔ مختارے کو بچانے کے لیے تو ندیم افضل چن تھا لیکن چن کو بچانے والا کوئی نہیں تھا وہ اکیلا ہی سیاسی جنگ کے دور میں محبت کی باتیں کرنے والا تھا، نفرت اور شدت پسندی کے اس سیاسی دور میں وہ اکیلا ہی تحمل مزاجی اور برداشت کا پیغام عام کرتا رہتا تھا لیکن شاید اب ایسے اعلیٰ برداشت رکھنے والے، تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنے، اختلاف رائے رکھنے اور عوامی بات کرنے والے سیاستدانوں کی ہمیں ضرورت نہیں رہی۔ آج دور خوشامد کرنے والوں کا ہے، آج دور دو جمع دو کو پانچ بتانے والوں کا ہے، آج دور سیاسی الزام تراشیاں کرنے والوں کا ہے۔ اس پرفتن دور میں ندیم افضل چن جیسے مدبر اور سلجھے سیاست دان کہاں تک عزت بچا کر چل سکتے ہیں۔ سو تمام برائیوں، خامیوں، مسائل اور کمزوریوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ترجمان اور معاون خصوصی ندیم افضل چن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ندیم افضل چن کا استعفیٰ ایک حقیقی سیاسی کارکن کا پاکستان تحریکِ انصاف کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ندیم افضل چن جیسے حقیقی سیاسی کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا خوش کن چہرہ اور فخر ہوا کرتے ہیں۔ ندیم افضل چن سیاسی میدان کا وہ کھلاڑی تھا جو سیاست کے کھیل میں ہر اچھے برے وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال تھا۔ ندیم افضل چن بخوبی جانتا تھا کہ سیاسی جنگ کو امن میں کیسے بدلنا ہے، سیاسی میدان کو فتح کیسے کرنا ہے، سیاسی مخالفین کو کیسے عزت دینی ہے اور حریف سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ کیسے بنانی ہے۔ وہ ایک سلجھا ہوا سیاسی کارکن تھا۔ جمہوری روایات کا امین، وضع داری کی سیاست کا علمبردار تھا۔ اس کا عہدے سے استعفیٰ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس نے یہ فیصلہ اپنے سیاسی مستقبل کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ اس نے یہ بھانپ لیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ رہ کر انتخابات میں عوام کے پاس جانا مشکل ہے۔ ممکن تھا کہ ندیم افضل چن مستعفیٰ نہ ہوتا لیکن اس راستے پر اسے خود پاکستان تحریکِ انصاف نے ڈالا ہے۔ ندیم افضل چن میڈیا پر منطق اور دلیل کے ساتھ گفتگو کرتا تھا وہ دلائل سے عاری گفتگو کرنے کے بجائے مدلل انداز میں پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن کلیئر کرتا تھا۔ ممکن ہے استعفے یا پاکستان تحریکِ انصاف کو چھوڑنے سے ندیم افضل چن کو کوئی نقصان نہ ہو لیکن پی ٹی آئی کو اس سے نقصان ضرور ہو گا۔ یہ آج کی بات نہیں یہ انیس سو چھیانوے سے تحریک انصاف کی بدقسمتی ہے کہ اس جماعت نے کبھی اپنے لوگوں کی قدر نہیں کی، نہ ہی اپنے لوگوں کے ساتھ وفا کی ہے۔ پی ٹی آئی بے وفاؤں کا ٹولا ہے۔ یہاں ہر دور میں ہر اعلیٰ دماغ کے ساتھ ناانصافی کی گئی، صلاحیتوں کی ناقدری کی گئی اور دن رات محنت کرنے والوں کو کبھی مڑ کر پوچھا بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے وزیرانِ کرام اور مشیران کرام ہر وقت سیاسی میدان کو میدان جنگ بنانے میں مصروف رہتے تھے اور اکیلا ندیم افضل چن اس جماعت کو اس جنگ سے نکالنے کے راستے تلاش کرتا رہتا تھا بس وہ یہ راستے تلاش کرتے کرتے خود ہی کہیں گم ہو گیا کیونکہ وہ ایک عوامی سیاست دان ہے، عام آدمی کی تکلیف پر وہ خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ عوام کو جوابدہ ہے۔ وہ عام آدمی کے مسائل پر حکمرانوں کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ سانحہ مچھ کے موقع پر بھی جب بہت سارے سیاست دان اپنی اپنی جماعتوں کا دفاع کرنے میں مصروف تھے اس نے حکومتی عہدے پر ہونے کے باوجود عوامی بات کی۔ اس قتل عام پر ندیم افضل چن کے الفاظ ایک درد مند و بیبس لیکن ایک عوامی سیاست دان کے دل کی آواز ہیں اس نے لکھا "اے بے یارو مددگار مزدوروں کی لاشوں میں شرمندہ ہوں" وہ وزیراعظم کا ترجمان ہوتے ہوئے اس سے زیادہ کیا لکھ سکتا تھا۔ ندیم افضل چن اپنے وزیر اعظم کی طرف سے کوئٹہ جانے میں تاخیر بھی ناراض تھا، وہ ماضی میں بھی عوامی مسائل پر آواز اٹھاتا رہا اور جب اس کو یہ احساس ہو گیا کہ ایک سیاسی کارکن کے لیے ایوانِ اقتدار میں صرف عام آدمی کی بات کرتے رہنا ہی کافی نہیں ہوتا کبھی کبھی اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرنا پڑتا ہے تو ندیم افضل چن نے وہی کیا جو عام آدمی کی سیاست کرنے والا سیاستدان کر سکتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ پی ٹی آئی ایسے حالات پیدا نہ کرتی لیکن اس جماعت کی اپنے اعلیٰ دماغوں کے حوالے سے تاریخ بہت تکلیف دہ ہے لیکن شاید اس جماعت کے بڑے یہ بھول رہے ہیں کہ بے وفائی کے بدلے میں بھی بے وفائی ملتی ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، دائیں ہاتھ سے دیں گے بائیں سے وصول کریں گے۔ مکافات عمل شروع ہوا ہی چاہتا ہے اور مارچ کے بعد کوئی بھی مارچ شروع ہوا تو سب کو اندازہ ہو جائے گا ندیم افضل چن نے سیاسی طور پر غلط فیصلہ ہرگز نہیں کیا تھا۔ میری دعائیں ندیم افضل چن کے لیے ہیں وہ جہاں جائیں خوش رہیں اور سیاسی میدان میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے لانگ مارچ پر وزرات داخلہ کو تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اللہ اس ملک کو کسی بھی آفت اور بڑے نقصان سے محفوظ فرمائے۔ ابھی اسلام آباد میں اسامہ ستی کی ہلاکت کا سوگ ہے شیخ رشید وزیر داخلہ رہے تو نجانے کتنے ہی نوجوانوں کو اسامہ ستی بننا پڑے گا۔ لانگ مارچ ہوا تو تصادم کے امکانات موجود ہیں۔ شیخ رشید کے ہوتے ہوئے تو تصادم بلاوجہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔ سیاستدانوں کا امتحان ہی اس وقت شروع ہوتا ہے جب تمام راستے بند ہوں اور وہاں راستہ نکالا جائے شیش رشید کی موجودگی میں تو کھلے راستے بھی بند ہو جائیں گے۔ حکومت محاذ آرائی سے گریز کریں، تصادم کی طرف نہ بڑھے اپنے لوگوں کو سنے ان کی بات پر عمل کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ آنے والے لوگ کسی بھی جماعت کے کارکن بعد میں ہیں اور پاکستانی پہلے ہیں انہیں سیاسی کارکن کے بجائے پاکستانی کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی کہتے ہیں کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے اسے سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہیے۔ جب بھی مشکل وقت آیا افواج پاکستان اور اداروں نے ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ یہ وقت سیاست کا نہیں عوامی خدمت کا ہے۔ افواج پاکستان سمیت تمام اداروں نے ملکی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے۔ چودھری صاحب کا یہ پیغام یقیناً ان سیاست دانوں کے لیے ہے جو عوام کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد سڑکوں پر ہیں ملک کو در پیش مسائل حل کرنے کے لیے صرف اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ایک پیج پر آنا ہو گا۔ سیاسی اختلافات ختم کرنا ہوں گے اور ملکی مفاد کو ترجیح دینے کی سوچ کو اپنانا ہوگا۔
٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: