احتساب کا ادارہ خود کسی کو جواب دہ نہیں از انصار عباسی ( کس سے م نصفی چاہیں )

براڈ شیٹ کیس نے نیب کی جس کارگزاری کو بے نقاب کیا ، وہ کل خرابی کاعشرِ عشیر بھی نہیں۔

مئی 2000 میں اُس وقت کے نیب پراسکیورٹر جنرل فاروق آدم نے سپریم کورٹ کو صدیق الفاروق کی سات ماہ پر محیط غیر قانونی حراست کے بارے میں بتایا کہ نیب دیگر اہم کاموں میں اتنا مصروف رہا کہ اُنہیں کہیں ’’رکھ‘‘ کر بھول گیا۔

نیب نے اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کسی ایف آئی آر کے اندراج کے بغیر ہی سات ماہ تک نیب کی حراست میں رہے ہیں۔ تاہم اُس وقت بھی نیب کے خلاف کسی نے کوئی کارروائی نہ کی۔

براڈ شیٹ کیسز کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کے مطابق نیب کی ناکامی کی وجہ سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف اس ادارے کی نااہلی اور نالائقی بے نقاب ہوئی بلکہ ایک اسکینڈل بھی سامنے آیا جس کے مطابق 2008میں ایک غلط شخص کو 1.5 ملین ڈالر دیے گئے۔

مقامِ حیرت ہے کہ اس پر انکوائری کا حکم دیا گیا اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی کہ کس نے 2008 میں نیب کو کسی شخص کو اتنی بھاری رقم دینے کا اختیار دیاتھاکہ وہ اس کے اور براڈ شیٹ ایل ایل سی کے درمیان بروکرکا کردار ادا کرے۔

یہ معلوم ہونے کے بعد فرم نے مقدمہ کردیا جس کے نتیجے میں 28.7 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ مئی 2008 میں پاکستان نے جیری جیمز کے ساتھ معاہدہ کیا۔جیری جیمز بھی کبھی براڈ شیٹ کا حصہ تھے۔ مان جزیرے (آئی او ایم) میں قائم کردہ فرم براڈ شیٹ کے اثاثے مارچ 2005 میںفروخت کردیے گئے۔

اس دوران نیب نے 2003 میں اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کردیا۔ کلوریڈا امریکا میں مقیم یہ کاروباری شخص، جیری جیمز بنیادی طورپر براڈ شیٹ کا حصہ تھا لیکن اس کی بندش کے بعد وہ ڈیل کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ اس نےکلوریڈا میں اسی نام سے ایک اور کمپنی بنائی، جس کانام براڈ شیٹ ایل ایل سی تھا۔

بیس مئی 2008 میں اُس نے 1.5ملین ڈالر کا ایک جعلی معاہدہ کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ وہ نیب پربراڈ شیٹ کی جانب سے عائد کئے گئے تمام دعوے ختم کرا دے گا۔

معاہدہ اور جیمز کا حلف نامہ جھوٹ اور ابہام سے بھرا ہوا تھا۔ تاہم اس سب کے باوجود آج تک کوئی شواہد دکھائی نہیں دیتے کہ اس معاملے میں نیب کے خلاف انکوائری کون کرے گا ؟

براڈ شیٹ ، جسے پہلے ہی پاکستانی ٹیکس دہندگان کے 4.5 بلین روپے ادا کیے جاچکے ہیں، نے اب نیب پر 1,180,799.66 امریکی ڈالر کی اضافی رقم ادا کرنے کا دعویٰ کردیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ یونائٹڈ نیشنل بینک کی طرف سے فنڈز کی وصولی سے پہلے نیب کے کلائنٹ پر واجب الادا اس رقم کا اضافہ ہوچکا تھا۔ کرویل اینڈ مورنگ میںبراڈ شیٹ کے وکلا نے نیب کے وکلا کو لکھا ہے کہ’’ اُن کے کلائنٹ نے پہلے باور کرایا تھا کہ وہ تمام رقم ادا کرے گا۔

برائے مہربانی اس بات کی تصدیق کیجیے کہ آپ کا کلائنٹ ہمارے کلائنٹ کو 2,100,000 امریکی ڈالر (337 ملین روپے) بلا تاخیر ادا کرے گا‘‘۔

اگریہ کیس کسی بھی سرکاری محکمے میںہوتا تو اب تک نیب بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث اربوں روپوںکے نقصان کی پاداش میں کئی ایک گرفتاریاںکرچکا ہوتا۔ صرف براڈ شیٹ ہی نہیں، نیب نے ایک اور فرم کو خاموشی سے 2.26 ملین ڈالر ادا کیے ہیںجس کی خدمات بے نظیر بھٹو مرحومہ ،اُن کے شوہر ، آصف علی زرداری او ر دیگر کے اثاثہ جات کی تفصیل جاننے کے لیے حاصل کی گئیںلیکن نیب نے قبل از وقت اس کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا تھا۔

2000 میں جب دو سو افراد کے اثاثہ جات کی تحقیقات کے لیے میسرز براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی گئیں تو میسرز انٹر نیشنل ایسٹ ریکوری کے ساتھ بھٹو خاندان کے خلاف اُن اثاثہ جات کی تحقیقات کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔

تاہم نیب نے 2003 میں ضروری طریقہ کار اپنائے بغیر دونوں فرموںکے ساتھ معاہدہ توڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے معاہدوںکے ذریعے تصفیہ کیا گیا۔

پاکستان کے فوجداری جسٹس سسٹم کی تاریخ کے ایک منفرد اسکینڈل کی خبر بھی سامنے آئی۔ دو مختلف ہائی پروفائل کرپشن کیسز ، ایس جی ایس، کوٹیکنا اور اے آر وائی گولڈ کے مختلف احتساب عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے کی ہو بہو نقل ہیں۔ اس کیس کوبھی نظر انداز کیا گیا اور کسی کا احتساب نہ ہوا۔

2011میں راولپنڈی احتساب عدالت کا کوٹیکنا کیس کا فیصلہ ایس جی ایس کیس کے فیصلے کی ہو بہو نقل تھا۔ وہ فیصلہ بھی راولپنڈی کی ایک اور احتساب عدالت نے سنایا تھا۔ نہ صرف دونوں فیصلوں کو ایک ہی انداز میں نمٹایا گیا بلکہ ان کے بہت سے الفاظ ، انداز بلکہ کئی ایک پیرے بھی ایک ہی تھے۔

سابق چیئرمین نیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے تسلیم کیا تھا کہ جنرل مشرف نے اُنہیں بدعنوانی کے اسکینڈلز ،جن میں چینی، آئل مافیا اورحتیٰ کہ کئی بلین ڈالر حجم رکھنے والاا سٹاک ایکس چینج کاسقم بھی شامل تھا، کوبند کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سابق چیئرمین کا اعتراف ظاہرکرتا تھا کہ کس طرح یکے بعد دیگر ے مختلف حکمرانوں نے نیب قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اس ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو عشروںکے دوران کئی ملزموں نے سختی یا میڈیا میں بدعنوانی کے الزامات کی بھرمار کی وجہ سے یاتو خود کشی کرلی یا وہ ادارے کی تحویل میں ہی فوت ہوگئے۔

اگرچہ نیب کے طریقہ کار اورفعالیت کو بہت سے حلقے ’’بے رحم ‘‘قرار دیتے ہیں لیکن اس کا سلسلہ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ اس کی اپنی جانچ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ادارہ دوسروں کے احتساب کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس کا کوئی احتساب نہیں کرسکتا۔

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: