ایک اور عہد و پیما کا پیکر آسودہ خاک از محمد اکرم عامر ( کھوج )

چند روز قبل گھر سے دفتر آ کر جونہی موبائل آن کیا تو وٹس ایپ پر خبر ملی کہ شاعر و ادیب شاکر نظامی انتقال کر گئے ہیں، جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ خبر پڑھتے ہی ذہن کو شاک سا لگا اور 1992ء کے وہ دن آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے جب راقم ابھی صحافت میں طفل مکتب تھا اور اپنے قریبی عزیز کا چیک اپ کروانے سول ہسپتال سرگودھا گیا تو فزیشن ڈاکٹر نصر اللہ خان مرحوم کے کمرہ کے باہر رش تھا، میں مریض کے ہمراہ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ اس دوران ایک ہاتھ میں سیگریٹ اور دوسرے ہاتھ میں چھوٹی (پاکٹ سائز) ٹیپ ریکارڈر پکڑے ایک شخص آیا اور کمرے کا روازہ کھول کر اندر چلا گیا، تھوڑی دیر بعد باری آنے پر میں اور مریض ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے تو موصوف کمرہ میں ڈاکٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھے انتہائی دھیمے لہجے میں محو گفتگو تھے، اور کمرے میں موجود درجن بھر لوگ اس گفتگو سے محظوظ ہو رہے تھے، سیگریٹ کا دھواں پورے کمرے میں پھیلا ہوا تھا، راقم نے ڈاکٹر کو اپنا تعارف بطور صحافی کرایا تو موصوف کا دھیان یک لخت میری طرف پلٹا اور مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا ’’اوئے کاکا توں کتھوں آ گیا ایں‘‘ اے (صحافت) تے بڑی مشکل فیلڈ اے۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی ان کے حسن اخلاق نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا، میں بھی ان کے چاہنے والوں میں شامل ہو گیا اور پھر ان سے ملاقاتوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ ان کی وفات سے چند روز قبل تک جاری رہا، ہر ملاقات میں وہ پہلے سے زیادہ خندہ پیشانی سے پیش آتے، وہ ایک کتاب تھے، جسے پڑھ کر ذی شعور انسان بہت کچھ پا سکتا تھا۔ ان کے طالبعلموں میں بڑے بوڑھے نوجوان خواتین سبھی تو شامل تھے جو ان سے علم و ادب پڑھتے تھے۔ میں اکثر ان کے پرانے گھر رحمانپورہ جاتا تو ان کے کمرے میں ہمیشہ ملک بالخصوص شہر کی نمایاں ادبی شخصیات موجود ہوتیں، شعر و شاعری کا دور اور قہوہ چل رہا ہوتا، کمرہ شعراء کے سلگائے گئے سیگریٹ کے دھویں سے اٹا ہوتا، وہ پوری زندگی آمریت کیخلاف اور حق کیلئے آوازبلند کرتے رہے یہ ہی ان کی شاعری میں جابجا دکھائی دیتا ہے۔
وہاں سنتا نہیں کوئی کسی مظلوم کی چیخیں
جہاں انصاف بکتا ہو، جہاں قانون اندھا ہو
ایوان اقتدار میں جب سر جھکا لئے
پھر کیسے پارسائی کے کتبے اٹھا لئے
بونے تھے جتنے قائد اعظم کے سامنے
ان سب نے دھیرے دھیرے قد بڑھا لئے
اب رہبران قوم سے کہنا ہے بس یہی
طوفان سے ملک و قوم کی کشتی نکالئے
وہ ہمیشہ اپنے کام کی لگن میں مست رہنے والے خوش لباس اور خوش اخلاق انسان تھے جو کسی کا دل دکھانا گناہ سمجھتے تھے، اگر کوئی دوست یا تعلق دار انہیں اپنا دکھ بیان کرتا تو وہ (شاکر نظامی) بھی غمزدہ ہو جاتے۔ ان کے کئی شعری مجموعے ان کی ملک گیر شہرت کا باعث بنے، جن میں آئینہ، عقیدت، حسن تمنا، کسی اور کیلئے، حسن نظر اور دیگر شامل ہیں۔
وہ ایک طویل عرصہ سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ اور ایک مقامی اخبار کے مدیر تھے، موصوف نے 70 کی دہائی سے تا دم مرگ علمی، ادبی حوالے سے نوجوانوں کی تربیت کی، ملک بھر میں اب بھی ان کے ہزاروں شاگرد علم و ادب کا نور بکھیرنے کیلئے موجود ہیں، اسی بناء پر یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ اردو نے ایم اے کی سطح پر شاکر نظامی پر تحقیقی مقالہ لکھا، جبکہ نمل اسلام آباد میں بھی ان پر تحقیقی مقالہ لکھا گیا، وہ خوش اخلاق، ملنسار، درویشانہ طبیعت کے مالک اور ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنے والے انسان تھے، سگریٹ اور شعر دونوں سے لگائو رکھتے تھے، ہر کسی سے محبت اور خلوص سے پیش آنا ان کی فطرت میں شامل تھا، پیپلز پارٹی اور بھٹو کا شیدائی ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار پابند سلاسل رہے، ان کے جذبہ میں کبھی لرزش دکھائی نہیں دی، وہ حالات کا مقابلہ کرنا خوب جانتے تھے، ان کی شاعری میں جہاں غریب اور مظلوم طبقہ کی آواز ہوتی وہاں وہ معاشرتی مسائل بھی خوب اجاگر کرتے تھے، مگر اب وہ منوں مٹی تلے جا چکے ہیں، اس طرح علم و ادب کا ایک چراغ بجھ گیا ہے، مگر شاکر نظامی علم و ادب کا گہوارہ اور ادب کے گلستان کا وہ پھول تھے جن کی خوشبو ان کے شعروں اور تحریروں کی صورت میں ہمیشہ زندہ اور ان کی یادیں باقی رہیں گی۔
شعر:۔
دھوپ چڑھی تو سحرا سحرا درد کے منظر جاگ اٹھے
گرم ہوا سے ریت کے ٹیلے بن کر سمندر جاگ اٹھے
جانے کیا پیغام دیا تھا باد صبا نے چپکے سے
کتنے سچے جذبے میرے دل کے اندر جاگ اٹھے

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: