کیوں انسان سے انسانیت غائب ہے؟ از تحریر عروسہ منیر جگوال

تمام قارئین کو راقمہ کا سلام،میں 9th کلاس کی طلبہ ہوں میرے بڑے بھائی کا نام ضرار جگوال ہے بھائی اکثر اخبارات کے لیے معاشرتی سسٹم پر مضمون لکھتے رہتے ہیں۔میں ان کے مضمون کمپوز کرتی ہوں،اکثر املاء کی غلطیاں ہو جاتی ہیں،بھائی سے ڈانٹ بھی پڑھتی ہے،ایک مرتبہ میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھ کر پوچھا بھائی آپ کو کام سے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی ہوتی ہے،آپ کاپی پنسل لے کر دھوپ یا بستر میں بیٹھ جاتے ہوں۔اتنی لمبی لمبی تحریریں لکھتے ہو،آپکو یہ سب لکھنے کا کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟؟؟؟انہوں نے غصہ بری نظر سے دیکھا اور کہا میں جب لکھتا ہوں میرے غم ہلکے ہو جاتے ہیں۔میں مسکراتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔آج جب ظلم دیکھا تو سوچا لکھ لوں شاید لکھنے سے میرا غم بھی بھائی کی طرح ہلکہ ہو جاے۔اس لیے یہ پہلی تحریر لکھ رہی ہوں۔۔۔۔ کل شام میری کزن میرے گھر آئی تو اس نے مجھے کہا کہ آوں پانی کے چشمے کی طرف چلتی ہیں ہم بلا جھجک روانہ ہوئیں۔جب پانی کے چشمے پر پہنچی تو ہم نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے سے ایک کمزور سا کتا ہمیں دیکھ کر کنارہ پکڑ گیا۔پہلے تو اس کتے کو دیکھ کر ہم ڈر گئیں لیکن وہ کتا سڑک کے کنارے ہم سے ڈرتے ہوے بیٹھ گیا،جب ہم بوتلوں میں پانی بھر کر گھر کی طرف روانہ ہوئیں تو دیکھ کر گھبرائی کہ دوسری سٹرک سے کوئی راہ گئیر شخص آ رہا ہے۔وہ شخص کون تھا یہ تو ہمیں معلوم نہیں؟ لیکن وہ انسان تھا،مسلمان تھا،اس نے ایک کمزور جانور کے ساتھ طاقتور جانور جیسا سلوک کیا،اس شخص نے اس کتے کو بڑا سا پتھر مار دیا،کتا کانپتی ٹانگوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوے بھاگ گیا مگر اس کی خوفناک چیخ و پکار مجھے یہ بتا رہی تھی کہ واقعی انسان سے انسانیت مٹ گئی ہے۔اس انسان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے،اس شخص نے زرہ برابر بھی نہیں سوچا کہ سماج میں کتنی مرتبہ اس کتے نے چوروں سے انکے گھروں کو بچایا ہو گا۔کتا ایک وفادار جانور ہے،اپنی بھوک مٹانے کے لیے گھر گھر کی ٹھوکریں کھاتا ہے،یہ رب تعالی’ ہی کی پیدائش ہے،کوئی بھی جانور ہو وہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے ہی کسی کو نقصان دیتا ہے پر اس شخص نے بغیر بھوک کے اس کتے کو جو نقصان پہنچایا مجھے اس کا صدمہ ہے۔یہ کتے اپنی بھوک کی وجہ سے بارش دھوپ میں بازاروں میں گھومتے ہیں۔انسان تو محنت کر کے رزق حلال کما سکتا ہے۔لیکن کتا تو نہ محنت مزدوری کر سکتا ہے نہ بول سکتا ہے،ہاں انسان اور حیوانوں کے کھانے کا فرق ہوتا ہے جو ابھی باقی ہے،اس وقت کتا تو وہاں سے چلا گیا مگر بتا گیا کہ میں انسان سے بہتر ہوں،کیونکہ اس نے بدلہ نہیں لیا کیونکہ اگر اس شخص نے کسی دوسرے شخص کو پتھر مارا ہوتا تو دوسرا شخص ضرور اس سے بدلہ لے کر ہی جاتا،مگر کتا تو بدلہ نہیں لے سکتا اسی لیے وہ بے چارا چلا گیا۔۔۔ہمیں چاہیے کہ ہم جانوروں کا خیال رکھیں اور انسان و حیوان کا خیال رکھنا چاہیے۔اگر وہ شخص کمزور کتے کو مارنے کے علاوہ ہی گزر جاتا تو اپنے حساب میں گناہ درج نہ کرواتا۔باقی ملکوں میں جانوروں سے پیار کیا جاتا ہے،انہیں پالا جاتا ہے،جانوروں کی فلاح و بہود کے لیے کئی محکمے کام کر رہے ہیں جو تشدد و ظلم کو روکتے ہیں۔قانون تو ہماری ریاست میں بھی ہے پھر بھی جانوں سے جانوروں والا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔مزے کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ جانوروں سے کیسا سلوک کرنا ہے۔۔۔برطانیہ کے بارے میں راقمہ نے سنا ہے،کہ وہاں کے لوگ کتوں سے نہیں ڈرتے نہ ہی کتے انسان کو دیکھ کر ڈرتے ہیں۔وہاں جانوروں کے ڈاکٹروں کو طعنے نہیں سننے پڑھتے یہاں تو مذاق بنانا جاتا ہے کہ فلاں شخص ڈنگر ڈاکٹر ہے۔اسی لیے میں نے کہا ہے کہ انسان سے انسانیت غائب ہے۔مجھے پتہ نہیں بھائی میری تحریر کو پسند کریں گے یا نہیں،اخبار میں چھپوائیں گے یا نہیں۔لیکن میرا غم واقعی کچھ تو ہلکا ہو گیا ہے صرف لکھنے سے۔۔۔
٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: