بجلی کا بریک ڈاؤن اور پاکستانی قوم از جویریہ صدیق ( جویریہ کی ڈائری )

لوڈشیڈنگ اور پاکستانیوں کا ساتھ بہت پرانا ہے۔ ہم جیسے نائنٹی کڈز‘ اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ ہم نے وہ دور دیکھا جس میں لائٹ مہینوں میں کبھی ایک آدھ بار جاتی تھی۔ جب کبھی لائٹ جاتی تھی تو ہمارے لئے وہ عید کا سا سماں ہوتا تھا۔ ہم بچے گلی میں خوب کھیلتے اور یہ بہانہ کرتے کہ گیس لیمپ اور ایمرجنسی لائٹ میں ہم نہیں پڑھ سکتے۔ اس وقت لائٹ جانے کا ایک ہی سبب ہوتا تھا کہ کوئی مینٹیننس کا کام ہورہا ہے لیکن جو بچے 2000ء کی دہائی میں پیدا ہوئے‘ انہوں نے لوڈشیڈنگ دیکھی اور خوب دیکھی۔ یو پی ایس، جنریٹر ان سب کا علم ان کو بہت چھوٹی عمر میں ہوگیا۔ میں نے زندگی کا کچھ عرصہ لاہور میں بھی گزارا، یہ ایک جیتا جاگتا شہر ہے۔ محبت اور ملنساری اس کی فضا میں رچی بسی ہے۔ میں اکثر وہاں نم آنکھوں کے ساتھ خریداری کرتی تھی کیونکہ اس سے قبل میں نے زندگی میں کپڑوں‘ جوتوں کے علاوہ کچھ نہیں خریدا تھا لیکن جب گھر داری کرنا پڑی تو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوگیا۔کم عمری میں مجھے درجن‘ کلو وغیرہ کا فرق معلوم نہیں تھا، میں ایک بار گروسری کے دوران مشکل کا شکار ہوئی تو ایک آنٹی نے میری بہت مدد کی۔ جب ہم دونوں مال سے باہر آئے انہوں نے میرا ماتھا چوما اور کہا: شروع میں سب کو مشکل ہوتی ہے‘ آہستہ آہستہ سب سیکھ جائو گی۔ اس کے بعد ایک ہمت سی آگئی اور میں نے بہت سے گھریلو امور سیکھ لئے۔ اُن دِنوں لاہور میں پندرہ‘ پندرہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ میں اس صورتحال کیلئے بالکل تیار نہیں تھی کیونکہ اس بدترین بحران کے دوران بھی اسلام آباد میں لائٹ 5 سے 6 گھنٹے کیلئے ہی جاتی تھی اور وہ بھی مختلف اوقات میں۔ اب لوڈشیڈنگ سے معمولاتِ زندگی بھی تبدیل ہو گئے تھے، مجھ پر ایک نئی ذمہ داری آ گئی کہ جس وقت بھی لائٹ آئے گی تو پانی کی موٹر چلانی ہے۔ ایمرجنسی لائٹس چارج کرنی ہیں، کپڑے پریس کرنے ہیں، فریج وغیرہ‘ جنہیں لائٹ جانے پر آف کیا تھا‘ کو آن کرنا ہے۔ یہ سب کام میں نے اس سے قبل کبھی نہیں کیے تھے؛ چونکہ لائٹ آنے جانے کا کوئی شیڈول نہیں تھا تو مجھے یہ چیز پسند نہیں تھی کہ وقت بے وقت ملازمہ کو نیند سے جگائوں‘ سو بہت سے کام خود کرنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کی۔ پھر ایک دن ہمت ٹوٹ سی گئی تو میں نے روتے ہوئے امی کو کال کی اور کہا: یا تو آپ یہاں آئیں یا میں واپس آرہی ہوں، میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں نہیں رہ سکتی، میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی کی موٹر آن‘ آف نہیں کرسکتی، یہاں بجلی کے آنے جانے کا کوئی وقت نہیں اور مجھے یہ کام نہیں کرنے آتے۔دنیا میں ایک ماں ہی ہوتی ہے جو آپ سے سچا اور بے لوث پیار کرتی ہے۔ امی چند روز کیلئے میرے پاس آ گئیں اور میرے بہت سے کام بہت آسان بنا دیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملازمہ کو بھی بہت سی چیزیں بتا دیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہ کام جو مجھے پہاڑ لگتے تھے‘ امی نے میرے لئے کتنے آسان بنا دیے۔ حقیقت ہے کہ بڑوں کا تجربہ ہمیشہ چھوٹوں کے بہت کام آتا ہے۔
اسی دوران میں نے سوچا کہ باہر جاکر دیکھتی ہوں کہ لوڈشیڈنگ میں لاہوری کیا کرتے ہیں، جب دیکھا تو لوگ لوڈشیڈنگ کو بھی انجوائے کررہے تھے۔ آگ کے الائو کے گرد باتیں کررہے ہوتے، بازاروں میں کرسیاں سڑک پر رکھ کر کھابے چل رہے ہوتے۔ میں سوچتی کہ یہ عجیب زندہ دل لوگ ہیں‘ لوڈ شیڈنگ کوبھی انجوائے کررہے ہیں۔ 2013ء میں جب بجلی کا ایک طویل بریک ڈائون ہوا اور پورے ملک کی بجلی غائب ہو گئی تو افواہوں کا ایک بازار گرم ہوگیا کہ ملک میں کچھ ہوگیا ہے‘ خدانخواستہ کوئی حملہ ہوگیا ہے۔ دوسری افواہ یہ تھی کہ حکومت برطرف کر دی گئی ہے، یہ ہو گیا ہے، وہ ہو گیا ہے، خیر ایسا کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد 2015ء میں بجلی کا ایک طویل بریک ڈائون ہوا، اس کے حوالے سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ دہشت گردوں نے بلوچستان میں بجلی کی کچھ ٹرانسمیشن لائنز اڑا دی تھیں جس کے سبب ملک کا اسّی فیصد حصہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اس کے بعد حکومت نے سنجیدگی سے توانائی بحران پر کام شروع کیا اور نواز شریف دور میں بہت حد تک یہ مسئلہ حل گیا تھا اور لوڈشیڈنگ کے دورانیہ تقریباً صفر تک پہنچ گیا؛ تاہم پاور سیکٹر کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن میں بجلی کی ترسیل کا پرانا اور بوسیدہ نظام سرفہرست ہے، بیشتر تاریں خراب ہوچکی ہیں، ٹرانسفارمر معیاری نہیں، کبھی وولٹیج کم ہو جاتے اور کبھی زیادہ، اس کے ساتھ بجلی چوری بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جی آئی ڈی سی سکینڈل‘ جو عامر متین‘ روف کلاسرا اور ارشد شریف نے بریک کیا تھا‘ میں سپریم کورٹ نے ڈیفالٹر کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ ملک کے چارسوارب روپے واپس کئے جائیں۔ حکومت تو ففٹی ففٹی پر تیار تھی لیکن سپریم کورٹ نے عوام کے پورے پیسے واپس کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم کے اردگرد کاروباری طبقہ اور کارپوریٹ سیکٹر کے لوگ کچھ اورہی کرنے کے خواہاں ہیں۔ نئے معاہدے میں حکومت نے47 آئی پی پیز کو 450 ارب کی ادائیگی کی پیشکش کی ہے۔ توانائی کے شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن وزیراعظم کی ٹیم اُن لوگوں سے عاری دکھائی دیتی ہے جو ان معاملات کو حل کر سکیں۔ اب حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا نے ایک روپیہ 6پیسے فی یونٹ مزید مہنگا کرنے کی سفارش کی ہے۔
ہفتے کی رات جو پاور بریک ڈائون ہوا، اس سے چند لمحوں میں پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا۔ ایک ایسا ملک جو ایٹمی طاقت ہے‘ جس کا ہمسایہ ملک ہر وقت سرحد پر حالات کشیدہ رکھتا ہے‘ وہ ملک تاریکی میں ڈوب جائے‘ یہ بہت بڑا رسک ہے۔ اس دوران لوگوں نے بہت تکلیف اٹھائی کیونکہ بیشتر علاقوں میں گیس رات کو بند ہوتی ہے اور جہاں ہو وہاں پریشر کم ہوتا ہے‘ اس لیے اب لوگوں کا انحصار بجلی پر ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے معمولاتِ زندگی رک سے گئے تھے۔حکومت کا موقف ہے کہ گدو پاور پلانٹ میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور بجلی کا پورا ترسیلی نظام اس کی لپیٹ میں آگیا۔ اس وقت اشد ضرورت ہے کہ آئی پی پیز کے جن کو بوتل میں بند کیا جائے اور نئے گرڈ سٹیشن قائم کئے جائیں، نئی ٹرانسمیشن لائنز اور نیا انفراسٹرکچر قائم کیا جائے۔ نیز اس بات کی مکمل تحقیق کی جائے کہ ایک پاور سٹیشن میں خرابی سے پورے ملک کی لائٹ کیونکر بند ہو گئی۔ وزیراعظم کی ٹیم مخصوص لوگوں میں گھری رہتی ہے، اس لیے شاید وہ عوام کے مسائل سے ٹھیک طرح آگاہ نہیں ہو پارہے۔ اس وقت پاکستان کو انرجی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہئے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی بہتر اور فول پروف بنانا چاہیے۔ بجلی کا براہِ راست تعلق اب قومی سلامتی کے ساتھ جڑا ہے۔جب پورے ملک میں بلیک آئوٹ ہو جائے‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ بند ہو جائے تو صرف افواہیں جنم لیتی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ایئر فورس ریڈ الرٹ پر ہے حالانکہ پاک فضائیہ کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، اس کے علاوہ جو افواہ نہایت منظم طریقے سے پھیلائی گئی وہ حکومت کی برطرفی کی تھی، یہ بھی سراسر جھوٹ پر مبنی تھی۔ نواز شریف حکومت کی برطرفی کے وقت ایسا ہی ہوا تھا کہ ٹیلی فون لائنیں بند کر دی گئی تھیں، ٹی وی‘ ریڈیو کی نشریات معطل ہوگئی تھی اور لائٹ بھی بند تھی، شاید اسی وجہ سے ان چیزوں کو حکومتی برطرفی کے لوازمات سمجھا جاتا ہے۔ مشکل وقت میں بھی خود کو پریشان نہ ہونے دینا ہم پاکستانیوں کا خاصہ ہے۔بریک ڈائون میں بھی شرارتی افراد نے ٹویٹر اور فیس بک پر میمز کی بھرمار کر دی۔ جس وقت عمر ایوب نے قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا تو ایک صارف نے جوابی ٹویٹ کیا: جناب کتنی دیر تک لائٹ آئے گی میں نے مائیکروویو میں کھانا گرم کرنا ہے۔ ایک عاشق نے لکھا :اگر اس وقت محبوب کا دیدار ہوجائے تو کمرہ روشن ہوجائے گا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ سب اس لئے جاگ رہے ہیں کہ جیسے ہی لائٹ آئے گی تو سو جائیں گے۔ ایک صارف نے کہا: جو لوگ جلدی سوتے ہیں ان کو صبح ہی پتا چلے گا کہ رات کو ملک میں کیا ہوا۔

٭…٭…٭

Leave a Reply

%d bloggers like this: