گمنام قومی ہیروز

(گزشتہ سے پیوستہ)
اپنے پچھلے کالم میں آپ کو اَپنے اعلیٰ اسپتال (G-9) اور وہاں کام کرنے والے ماہر ڈاکٹروں کی تفصیل بتائی تھی۔یہ وہ مجاہد ہیں جنھوں نے کہوٹہ میں ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے،محب وطن پاکستانیوں کی بہت اچھی دیکھ بھال کی اور انھیں اور ان کے اہل خانہ کو تندرست رکھا تاکہ وہ اپنے اہم قومی فرائض انجام دے سکیں۔ اس میں یہ سو فیصد کامیاب رہے اور ماشاء اللہ میں خود اور میرے تمام رفقائے کار بفضل خدا اور ان کی دیکھ بھال سے ٹھیک ٹھاک رہے اور ابھی تک گزارا ہو رہا ہے۔
میں نے چند ڈ اکٹروں کا آپ سے تعارف کرا دیا ہے۔ آج چند اور نہایت قابل، مخلص، محب وطن ڈاکٹروںکا تعارف آپ سے کرا رہا ہوں۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ میرے لئے فرداً فرداً ان سب کا تعارف کرانا مشکل ہے ، چند سینئر ڈاکٹروں کا تعارف کرائوں گا۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ دوسرے اپنی مہارت، خلوص اور حب الوطنی میں کم تھے یا ہیں۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں ہزاروں رفقائے کار میں سے ان چند ساتھیوں کے ناموں کا یاد رکھنا بھی قابل تحسین ہے۔
ہمارے محکمہ دنداں سازی یا دانتوں کے علاج کا محکمہ بہت اہم تھا۔ دانتوں کی صحت مندی انسان کو تندرست و توانا رکھتی ہے۔ ہمارے ساتھی جو اَب ریٹائرمنٹ کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کررہے ہیں ڈاکٹر سعید جان تھے، بہت اعلیٰ

ڈاکٹر تھے۔ میں نے ان کو امریکہ سے بلایا تھا۔ غصہ بھی کرتے تھے اور پرمزاح بھی تھے۔ ان کے بعد اب محکمہ کے سربراہ ڈاکٹر خاور مسعود خان ہیں۔ میں نے ان کو انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ یہ اپنے کام میں ماہر ہیں۔ ان کے ساتھی تجربہ کار اچھے ڈاکٹر ہیں جن میں مصطفی حیدر (یہ میری نہایت عزیز دوست مرحومہ ڈاکٹر خورشید حمید کے بیٹے ہیں جو ہالینڈ میں سفیر تھیں اور وہاںمیرےمقدمہ میں بہت مددگار ثابت ہوئی تھیں)۔ ڈاکٹر شائستہ رفیع، ڈاکٹر عمرا منہاسو، ڈاکٹر اسماءمنیر، ڈاکٹر عظمیٰ لقمان، ڈاکٹر عمر جاوید، ڈاکٹر سیدہ ندا عباس اور عائشہ خالد نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
ہمارا نہایت اہم اور حساس ادارہ گائناکالوجی (امراض و صحت نسواں )ہے۔ اس کی سربراہ ملک کی چند ماہرین میں شمار ہونے والی ڈاکٹر طاہرہ بتول ہیں۔ اس میدان میںانگلینڈ سے تمام اعلیٰ ڈگریاں حاصل یافتہ ہیں۔ ان کے ساتھ بہترین ٹیم ہے جس کے ممبران میں ڈاکٹر شاہدہ فرخ، ڈاکٹر سلمیٰ افضل کیانی، ڈاکٹر نسرین رحمت اللہ، ڈاکٹر بشرہ بابر اور ڈاکٹر امبرین شبیر ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ بتول ہمارے پورے خاندان کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور بہت اچھی طرح کرتی ہیں۔ فی الحال پچھلے 16 سال سے ہمارے یہاں نیا اضافہ تو نہیں ہوا مگر نسوانی امراض کے لئے ان سے مشورہ لازمی ہے۔ہمارے اسپتال میں پیڈیاٹرکس یعنی بچوں کی دیکھ بھال کا محکمہ بھی بہت اہم ہے۔ اگر کارکنوں کو بچوں کی صحت کے بارے میں بے فکری ہو تووہ دل وجان سے کام میں مہارت دکھاتے ہیں۔ اس محکمہ کی سربراہ نہایت قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر صغریٰ وحید ہیں اور ان کے ساتھ اعلیٰ ماہرین کی ٹیم میں پروفیسر ڈاکٹر نعیم الظفر، ڈاکٹر ملیحہ اختر، ڈاکٹر عنایت اللہ خند، ڈاکٹر ظفر اقبال، ڈاکٹر بشریٰ ناہید اور ڈاکٹر عبدالحمید شامل ہیں۔
آنکھوں کے علاج کا محکمہ ملک کے مشہور مایہ ناز ڈاکٹر قیصر اعجاز مغل کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ آپ ہی سوچئے بغیر اچھی بینائی کیا کوئی اہم کام کرسکتا ہے۔ ان کے ساتھ قابل، ماہرین، ڈاکٹر الطاف حسین، ڈاکٹر ایاز حسین اعوان اور ڈاکٹر ندا زہرہ ہیں۔ہمارے ڈاکٹروں کے ساتھ ایک اچھی، تجربہ کار نرسنگ ٹیم لازمی تھی جس طرح ڈاکٹروں نے نہایت خلوص، نیک نیتی اور مہارت سے ہم سب کا خیال رکھا اسی طرح نرسنگ اسٹاف نے ہم سب کی دیکھ بھال میں کسر نہ اُٹھا رکھی۔ ان کے بارے میں کچھ عرض کرتا ہوں۔
میرے پرانے نرسنگ اسٹاف میں سب سے پہلے محترمہ رفیعہ، محترمہ عابدہ ، سسٹر کرسٹینا اور مس نورا کا ذکر کروں گا۔ یہ بے حد ملنسار اور خوش اخلاق، قابل تھیں۔ رفیعہ صاحبہ کو تو ہمارے پیارے ہیلتھ فزکس کے سربراہ (ڈی جی) منصور صاحب اپنے محکمہ میں تبادلہ کرانے پر تلے ہوئے تھے مگر جناب چوہان نے ان کو اسپتال کیلئے ضروری سمجھا۔ عابدہ صاحبہ بھی بے حد خوش اخلاق اور محنتی تھیں۔ مریض ان سے مل کر ہی آدھا صحتیاب ہو جاتا تھا۔ رفیعہ صاحبہ پہلے سعودی عرب چلی گئی تھیں اور بعد میں سنا ہے کہ انگلستان چلی گئیں۔ عابدہ صاحبہ ابھی تک کراچی کے اسپتال الشفا میں متعین ہیں۔کبھی کبھی فون کرلیتی ہیں اور پرانے وقتوں کو بہت اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہیں۔ ہماری بہت اچھی میٹرن تسنیم قریشی تھیں۔ جب بھی میں یامیری بیگم یا بچیاں اسپتال میں داخل ہوتیں یہ ایک قریبی عزیز کی طرح ہمارا خیال رکھتی تھیں۔ چند ماہ پیشتر اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ اللہ پاک جنت نصیب کرے۔ آمین۔ اس وقت ہم لوگوں کی اعلیٰ دیکھ بھال ہمیشہ مسکراتی اور مددکو تیارمیٹرن روبینہ کاشف، زیتون، شہناز وحید، ریحانہ عاصم،نائلہ نورین، طلعت، ثمینہ، نزہت رحمان اور اقصیٰ لطیف ، روبینہ لطیف،نصرت، محمد علی، اکبر حسین، عمران مسیح وغیرہ وغیرہ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ سب پرانے تجربہ کار اسٹاف ممبر ہیں۔ میں پچھلے چند برسوں میں کچھ زیادہ ہی بیمار رہا ہوں۔پہلے پروسٹیٹ کا خطرناک آپریشن،پھرسلپ ڈسک(کمر) کا آپریشن، پھر دو تین مرتبہ بلڈپریشر کے کم ہونے سے بے ہوشی اورگرپڑنا وغیرہ کا شکار رہا۔ اس دوران نزہت رحمٰن اور اقصیٰ لطیف نے جس محبت اور خلوص و تندہی سے دیکھ بھال کی وہ میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ انھوں نے راتوں کو بھی میرے ساتھ ڈیوٹی کی اور بے حدخیال رکھا۔ میری بیگم اور میں ان سے اپنی بچیوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔ نزہت ہفتہ میں چھ دن اب بھی ہمارے گھر آتی ہیں اور بلڈ پریشر اور نبض کی رفتار چیک کرتی ہیں۔ جب یہ مصروف یا چھٹی پر ہوں تو اقصیٰ ان کی جگہ آتی ہیں۔جہاں تک ڈاکٹروں کا تعلق ہے تو میں عرض کروں گا کہ میں نے ان میں سے کسی کو بھی ایسا نہیں پایا کہ جس کے بارے میں یہ کہہ سکوں کہ مجھے ان سے علاج کرانے میں جھجک یا اعتراض ہو، سب ہی ماشاء اللہ اپنے اپنے علم میں ماہر ہیں اور ان کی موجودگی میں مجھے کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ کہیں باہر جاکر یا کسی غیرملکی ڈاکٹر سے علاج کرائوں۔
یہ بات تو ہمارے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے بارے میں بیان کرنا چاہتا تھا۔ اب نہایت اہم محکمہ سیکورٹی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔کام کی اہمیت اور حساس نوعیت کی وجہ سے میں نے پہلے دن سے ہی سیکورٹی پر بہت توجہ دی تھی۔ میں نے بھٹو صاحب سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ جنرل جیلانی کو ہدایت کرینگے کہ وہ مجھ سے مل کر مناسب انتظامات کریں۔ ہم اس وقت ایف ایٹ ون کی سڑک نمبر 30میں مکان نمبر 16میں قیام پذیر تھے۔ فون کا یہ حال تھا کہ کئی کئی دن خراب رہتا تھا۔ پانی کیلئے میں نے ٹینکر کے ڈرائیور کو بخشش دی کہ وہ روزانہ شام کو پانی پہنچا دیا کرے لیکن ایک بات اچھی یہ تھی کہ اس وقت ہم لفظ لوڈ شیڈنگ سے ناواقف تھے۔ پھر دو تین دن کے بعد مجھے اطلاع ملی کہ جنرل جیلانی مجھ سے گھر پر ملنے آرہے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ ایک عام آدمی کی طرح خاموشی سے آئیں گے تاکہ ہمارے کام سے لوگ ناواقف رہیں لیکن جب شام کو وہ آئے تو بڑی سرکاری کالی گاڑی، اس پر اور بونیٹ پر بڑا جھنڈا، خود وردی اور فیتوں سے مرصّع اور ساتھ میں ایک جیپ بھی جس پر سے مسلّح جوان تھے۔میں نے کام کی اہمیت اور حساسیت کے بارے میں بتایا اور اس پر زور دیا کہ ہمارے لئے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے اس کو پوشیدہ رکھنا ہے۔ انھوں نے کہا وہ جنرل ضیاء سے بات کرکے جلد کچھ بندوبست کردینگے۔ تین چار دن بعد جنرل فیض علی چشتی نے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ افسر مجھے اس کام کیلئے دے رہے ہیں۔
دوسرے دن میرے پاس جناب عبدالرحمٰن نے آکر رپورٹ دی اور کہا کہ ان کو سیکورٹی کیلئے بھیجا گیاہے۔ یہ جوان تھے اسمارٹ تھے اور بات چیت سے میں نے اندازہ کرلیا کہ نہ صرف سمجھدار ہیں بلکہ کسی قسم کی بناوٹ یا ڈینگیں مارنے والے نہیں ہیں۔
میں نے ان کو فوراً ڈائریکٹر سیکورٹی لگا دیا۔ جنرل چشتی (جن کو جنرل ضیاء مرشد کہتے تھے) کا ہم پر بہت بڑا احسان تھا۔ رحمٰن صاحب نے فوراً کافی تعداد میں افسران و جوان بھرتی کرلئے۔ انھوں نے ہمارے پلانٹ کے علاقہ کو ڈبل لائن خاردار تاروں سے محفوظ کرلیا۔ یہی نہیں انھوں نے فوراً ایک ڈاگ پلاٹون بھی حاصل کر لی،غرض انھوں نے ایک ناقابل داخلہ حصار کھینچ دیا۔ اس ہی کی وجہ سے ان کے جوانوں نے وہ اہم ذمہ داری کا ’’پتھر‘‘ اُٹھا لیاتھا اور جاسوسوں کی بھی خوب خبرلیتے رہے (جاری ہے )۔
(نوٹ) تصحیح۔ ریڈیالوجی محکمہ کے انچارج ڈاکٹر محمد وسیم اعوان ہیں اور ڈاکٹر ساجدہ ان کی نائب ہیں۔ آرتھوپیڈک محکمہ کے انچارج ڈاکٹر مغیث اکرام امین ہیں۔ ڈاکٹر رفعت محمود ان کی نائب ہیں۔ غلطی کیلئے معذرت خواہ ہوں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: