گمنام قومی ہیروز

آج مزید اُن گمنام قومی ہیروز کا آپ سے تعارف کرائوں جنھوں نے اپنے خون پسینہ اور عقل و فہم سے اس پسماندہ ملک کو ایک مختصر سے عرصہ میں ایک ناقابل تسخیر دفاع میسر کیا تھا اور قوم کو سر اُٹھا کر چلنے اور دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر،بلا خوف و خطر سینہ تان کر ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت مہیا کی تھی۔
آپ کو پہلے مرحوم نہایت قابل شخصیت نورالمصطفیٰ کے بارے میں بتا چکا ہوں۔ فرض کی ادائیگی میں انھوں نے ٹریفک کے حادثہ میں جان دیدی تھی، ہمارے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا اور ہم ایک نہایت ہی قابل، دیندار، مخلص ساتھی سے محروم ہو گئے تھے۔ جب ہم نے اپنے پروجیکٹ کے اہم عنصر کو اپ گریڈ کرنا شروع کردیاتو اس کی ٹھوس حالت میں تبدیلی کا مرحلہ پیش آیا۔ میں نے ڈاکٹر ہاشمی سے مشورہ کرکے یہ کام جناب نورالمصطفیٰ، جناب عبدالرشید علوی، جناب محمد افضل خان اورجناب ولایت حسین کو سونپا۔ ان محب وطن پاکستانیوں نے چند ماہ میں پورا سسٹم تیار کردیا۔ اب بڑا مسئلہ مشیننگ تھی۔ اس کام کاقاضی رشید علی کے شعبے میںجناب نذیر احمد کی نگرانی میں بندوبست کیا گیا۔ اس شعبے میں ہمارے پاس ایک نہایت اعلیٰ ٹیکینشن جناب صدیق صاحب تھے، یہ کام ان کے سپرد کیا گیا۔ مشیننگ کے کالم میںاونچے درجہ حرارت پرآگ پکڑنے کا خطرہ بھی تھا۔ نذیر صاحب نے

اس کی ذمّہ داری لی، یہ اپنے کام میں نہایت سمجھدار تھےاوریہ اچھی نوکری اور اچھا مستقبل چھوڑ کر آئے تھے کہ ملک کی خدمت کریں۔ ان کی یہی خوبیاں ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا سبب بنیں۔مشرف کے حواریوں نے سخت پریشان کیا اور اذیتیں دیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے ہیروز کے ساتھ یہ ہتک آمیز اورتکلیف دہ سلوک کررہے تھے۔جناب صدیق کو کسی نے ڈرادیا تھاکہ مشیننگ سے آگ کےاثرات سےکینسر جیسا موذی مرض بھی لگ جاتا ہے۔ صدیق بہت سگریٹ نوشی کرتا تھا اور بہت دبلا پتلا انسان تھا۔ جب مجھے علم ہوا کہ صدیق بہت خوفزدہ ہے کہ کہیں کینسر نہ ہوجائے یا آگ نہ لگ جائے نذیر صاحب اور میں اس کے پاس اسٹولز پر بیٹھ گئے اور کہا کہ اب مشیننگ کریں۔ وہ گھبرایا اور کہا آپ یہاں بیٹھے ہیں یہ بہت خطرناک ہے۔ میں نے کہا صدیق میاں آپ کے اہل خانہ کے لئے آپ کی جان اتنی ہی عزیز ہے جتنی میرے گھر والوں کے لئے میری۔ اگر کچھ ہونا ہے تو دونوں کو ہوگا۔ نذیرصاحب بھی آگئے ،ہم دونوں وہاں بیٹھ گئے۔ اتنے میں جناب منصور صاحب آگئے۔یہ ایک اسپرے بنا کر لے آئے ، جب مشیننگ شروع ہوئی تو ایک آدمی اس پر اسپرے کرنے لگا اوریوں آگ نہ لگی۔آپ کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس میدان میں تجربہ نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل و فہم اور بہادری اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار کیا تھا۔ ہم ملک کی خدمت کی خاطر کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار تھے اور خطرات سے نمٹنے میں کبھی نہ ڈرے۔ اس ملکی و قومی خدمت کا جو صلہ ہمیں دیا گیا اس سے پوری قوم واقف ہے۔ یہ کام پھر نہایت آسانی اور احتیاط سے انجام پانے لگا۔ منصور صاحب اور ان کی ٹیم نے ہمارے یہاں حفاظت کا فقیدالمثال نظام قائم کیا تھا۔
میرے دور قیام کے 25سال میں ایک بھی حادثہ پیش نہیں آیا۔ جب کام بڑھ گیا اور میں نے نذیر صاحب کو اپنے ہیڈ آفس بلا کر ڈائریکٹر انڈسٹریل ریلیشن لگا دیا تاکہ ہم انڈسٹری اور یونیورسٹیوں سے قریبی روابط قائم رکھ سکیں اور جناب نورالمصطفیٰ کو نہایت اعلیٰ آلات کی ذمہ داری سونپ دی گئی تو ایک اہم جزوکی ٹکیوں کو نصف ٹکیوں میں ڈھالنے کی ذمّہ داری جناب ولایت حسین اور جناب اعتزاز قمر کو دیدی۔ یہ دونوں نہایت قابل اور سمجھدار تھے اور آپس میں ان کی بہت اچھی دوستی تھی۔ میں اکثر ان کے سیکشن کا چکر لگا کر کام دیکھتا تھا اور ہر مرتبہ دل گرم ہوجاتا تھا اور ان کی کارکردگی دیکھ کر طبیعت خوش ہوجاتی تھی۔ منصور صاحب خود اور ان سے ساتھی جس لگن اور محنت و احتیاط سے کام کرتے تھے وہ قابل دید تھا۔ ہمارے یہاں ماحول کا یہ حال تھا، سب دوست تھے ہنسی مذاق کرتے اور کام کرتے جاتے تھے، کہیں ٹینشن، پریشانی نہیں تھی،میں اُن کا دوست تھا، ساتھی تھا اور ہر قسم کی سہولت دیتا تھا۔ مجھے اس پر فخر ہے کہ میرے تمام رفقائے کار مجھے ہمیشہ اپنا دوست، اپنا ہمدرد اور اپنا رہنماء سمجھتے تھے اور آج بھی ان کے دلوں میں میری قابل رشک عزّت و محبت ہے۔ میں نے اپنی آرگنائزیشن میں ایک نیا کلچر رائج کیا۔ سب دوست تھے سب ساتھی تھے اور سب کا ایک ہی مشن تھا کہ اپنے پیارے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیں۔
شروع میں مجھے اُمید تھی کہ جب کام شروع کروں گا تو غیر ممالک میں مقیم ایسے کاموں کے ماہر پاکستانیوںکو بلانے میں کامیاب رہوں گا، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ جولوگ باہر کافی عرصہ سے مقیم تھے وہ وہاں سے واپس نہیں آنا چاہتے تھے ان کی اچھی نوکریاں تھیں روشن مستقبل تھا اور بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولتیں میسر تھیں۔ پھر بھی میں چند محب وطن لوگوں کو بلانے میں کامیاب ہوگیا تھا ان میں جناب محمد عالم،جناب جاویدصاحب، جناب بھُٹّہ صاحب، جناب نثار صاحب، جناب فیروز خان، جناب صدیقی، جناب نذیر احمدقابل ذکر ہیں۔ ان سب نے نہایت اعلیٰ اورقابل قدر خدمات انجام دیں اور ہمارے پروجیکٹ کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ وہ گمنام قومی ہیروز ہیں جن کا یہ ملک مرہون منت ہے کہ قوم آج بلا خوف و خطر آرام کی نیند سوتی ہے۔ صرف حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے انھیں دال روٹی کی فکر لگی رہتی ہے۔ہمارے ایک اہم کام کے انچارج جناب محمد فاروق تھے، ان کی اعلیٰ کارکردگی اور ایمانداری کے بارے میں آپ کو تفصیلاً بتا چکا ہوں۔ مقامی خریداری یعنی لوکل پروکیورمنٹ کا کام بھی بہت اہم تھا اور اس کے لئے ہمیں ایک اچھا سیکشن یا ڈویژن بنانا پڑا تھا۔ اس کے سب سے پہلے سربراہ محترم رفیق صاحب اورمحترم یوسف صاحب تھے جو کئی برس تک ایمانداری سے اعلیٰ خدمات انجام دے کر رخصت ہوگئے، میں نے دونوں کو کام بانٹ دیا تھا۔ ان کے بعد جناب ادریس علی سید نےیہ کام نہایت ایمانداری اور خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ جب وہ ریٹائر ہوئے تو ہمیں ایک اچھے تجربہ کار، ایماندار افسر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ میرے بھوپال کے کلاس فیلو جن کے والد جج تھے اور میرے والد کے عزیز دوست تھے وہ ابھی ابھی ریٹائر ہوئے ہیں ، یہ جناب حبیب الرحمٰن خان تھے۔ وہ اپنے ادارے میں میں سپلائیز وغیرہ کے سربراہ رہے تھے، غیرممالک میں بھی پوسٹنگ رہی تھی۔ میں نے ان کو دعوت دی کہ وہ میرے رفیق کار بن جائیں۔ انہوں نے 6سال نہایت ایمانداری اور اہلیت سے ڈی جی لوکل پروکیورمنٹ کے عہدے پر کام کیا۔ پورا ادارہ ان کی اعلیٰ اور تیز کارکردگی سے بے حد خوش تھا۔ اچھے گھرانے اور دیندار شخصیت کے مالک کے ناتے سے پورا فرض حسن خوش اسلوبی سے ادا کیا۔
میرے چند عزیز ساتھی دوران خدمت قوم و ملک خالق حقیقی سے جا ملے، ان میں خاص طور پر جناب اعجاز احمد کھوکھر، جناب نورالمصطفیٰ، مراد خان، صلاح الدین، تجمل حسین (پروفیسر جمیل جالبی کے برادر نسبتی)، جناب سید ذولفقار (ان کا بیرون ملک ائیرپورٹ پر حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوا تھا)،جناب عزیز الحق (ان کا جرمنی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا تھا)، ڈائرکٹر فنانس جعفری صاحب (ان کا بھی جرمنی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا تھا)قابل ذکر ہیں۔
چند اور دوسرے قابل ساتھیوں کی یاد تازہ ہوگئی ہے ان میں جاوید بھٹی جو ویکیوم ٹیکنالوجی کے ماہر تھے، جناب نصیرالدین جنہوں نے ہمارے کیمیکل ڈویژن میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی تھی، نثار مرزا جن کے پاس انگلینڈ سے ڈگری تھی اورکیمیکل ڈویژن میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی تھی، یہ بھی ان گمنام قومی ہیروز میں سے ہیں جنھوں نے اس ملک کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کئے تھے۔
ایڈمنسٹریشن میں جناب ایوب،جناب اسلام الحق، جناب صفدر نواب۔فنانس میں امتیاز احمد بھٹی صاحب، جناب فخرالدین ملک صاحب اور جناب محمد فہیم صاحب اور جناب ضیاء الدین کی خدمات نہایت قابل تحسین تھیں۔ ان افسران نے مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دیا۔ انھوں نے فرائض منصبی کے تقاضوں سے بڑھ کر سب کچھ دیااور میرے کام کو آسان کردیا۔ ان مخلص اور اہل رفقائے کار کی وجہ سے میں تمام توجہ اپنے خاص مقصد پر مرکوز کرسکا اور اس میں بفضل خدا کامیابی حاصل کی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: