گمنام قومی ہیروز

0 4

اپنے عزیز رفقائے کار اور نہایت قابل، محب وطن پاکستانیوں کی یہ کہانی آپ کو پیش کر رہا ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی شب و روز کی محنت نے اس پسماندہ ملک کو سات سال کے مختصر عرصہ میں ایک ایٹمی قوت بنا دیا۔ بدقسمتی سے اپنی پرانی روایات کے مطابق ہم نے ان محسنوں کو بھلا دیا ہے اور دورِ حاضر کے نااہل، بے ایمانوں کی پوجا کی جارہی ہے، گویا:۔
باطن کو دیکھئے تو سراپا فریب و مکر
ظاہر کو دیکھئے تو فرشتہِ کا خول ہے
آئیے آپ کو آج چند اور مجاہدین وطن کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ان لوگوں نے جو خدمات انجام دیں وہ بھی اتنی ہی اہم تھیں جتنی دوسرے رفقائے کارکی اور مجھے ان کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر فخر رہا ہے۔
آپ سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جب میں دسمبر 1975 کے آخری ہفتہ میں مرحوم بھٹو صاحب کی درخواست پر یہاں رک گیا تو تمام توجہ کام پر لگا دی۔بھٹو صاحب کی ہدایت پر میں نےآرمی چیف جنرل ٹکّاخان سے ملاقات کی۔ میں نے جنرل ٹکّاخان سے کہا کہ میں نے پروجیکٹ کیلئے سائٹ کی تلاش کرنی ہے مجھے کوئی افسر دیدیں جو ہمارے ساتھ جائے اور اس علاقہ سے واقف ہو۔ انھوں نے جناب فقیر صاحب کو ہدایت دی اور فقیرصاحب نے کہا کہ وہ یہ کام کل کردینگے اور افسر آپ کے پاس پہنچ جائیگا۔ دوسرے دن ایک درمیانی قد کے نوجوان، تیز و طرّار ایک صاحب نے آکر رپورٹ دی۔

مجھے پہلے ہی لمحہ میں یہ بہت اچھے لگے اور میں نے ان کو اپنی ضرورت سے آگاہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس علاقہ سے اچھی طرح واقف ہیں اور بخوشی ہماری رہنمائی کریں گے۔ یہ جناب اسلام الحق تھے، خوش گفتار، سمجھدار ۔ ہمارے ساتھ چند ہفتے رہے کہ ہم نے اپنے پروجیکٹ کی جگہ منتخب کرلی۔ اس جگہ کا ذکر جناب شاکر نے کیا تھا۔ جناب اسلام پھر ہماری نگاہ اور دھیان سے غائب ہوگئے۔ بعد میں کئی برس بعد میں نے ان کو ڈھونڈ نکالا، یہ بعد میں بتائونگا۔
آپ کو پہلے بتا چکا ہوں کہ آرمی چیف اور حکومت نے اسلام صاحب کو ہماری مدد کے لئے مامور کردیا تھا۔ ایئر پورٹ کے پرانے گیراج تھے، نہایت خستہ حالت میں ٹین کی ٹوٹی پھوٹی چادروں کے چھت اور گاڑیوں کی صفائی و مرمت کے لئے ہر کمرے میں گہرے گڑھے۔ اسلام اللہ خان (جنھیں بعد میں ایک اہم عہدے پر ترقی دیدی گئی تھی ) نہایت نرم گو، شریف النفس، کام میں ماہر اور ہمیشہ ہماری مدد کو تیاررہنے والے انسان تھے۔ انھوں نے ایک افسر عارف صاحب کو اس خستہ کمپلیکس کو ٹھیک کرنے کا کام سونپ دیا۔ ہم نے کمروں میں گہرے گڑھوں کو قریب واقع اینٹوں کے بھٹہ سے روڑے منگوا کر بھروا دیا اور اس کے اوپر سیمنٹ کا فرش ڈلوا دیا۔ لوہے کے بڑے بڑے دروازے تھے جنھیں ہم نے اس میں ویلڈنگ ٹارچ سے کٹوا کر تقریباً چار فٹ چوڑے اورسات فٹ اونچے دروازے بنوادیئے۔ چھت کا برا حال تھا، ٹاٹ منگوا کر گرم تارکول میں ڈبو کر چھت پر ڈلوادیئے۔ اسی طرح اندر سستی سی فالس سیلنگ کرادی۔ جی ہاں اس طرح ہم نے اپنے اہم کالم کا آغاز کیا تھا، نہ کوئی مناسب دفتر نہ مناسب سہولتیں۔ یہ علاقہ تیس برس سے ویران پڑا تھا، یہاں چمگادڑیں، سانپ اور بچھو بکثرت تھے، ان سے جان چھڑانا خاصا دشوار ثابت ہوا۔ جناب اسلام اللہ خان نے ہمیں جناب قاضی رشید علی اورعبدالمجید صاحب جیسے اچھےافسران بھی دیدیے تھے جنھوں نے بہت اچھا کام کیا اور ہمارے پروگرام کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا۔ ان کے علاو ہ انہوں نے ہمیں ایک افسر جناب ایوب خان بھی دیئے تھے جن کو میں نے ایڈمنسٹریٹر لگایا تھا۔ وہ نہایت قابل اور ماہر افسر تھے جنہوں نے بہت ہی اچھی خدمات انجام دی تھیں۔
اب چونکہ پنڈی میں آفس بن گیا تھا اس لئے وہاں ایڈمنسٹریشن کے لئے اسٹاف کی ضرورت پڑی۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال و یقین تھا کہ حاضر سروس یا اہلکار ہمارے لئے مفید رہیںگے اور جب جنرل ضیاء پہلی مرتبہ تشریف لائے اور اسٹاف کی تعداد کے بارے میں پوچھا تھا تو میں نے بتایا تھا کہ تین ہزار ہیں جن میں سے جن میں سے سترہ سوپچاس ایک ہی ادارے سے آئے ہیں۔میں نے کہا کہ ہم تو مہمان ہیں جب کام ہوجائے گا تو فارغ کردیئے جائینگے اور سب کچھ آپ کا ہی ہوجائے گا۔ یہ پیشگوئی کس قدر سچ ثابت ہوئی اگرچہ بیس سال بعد ہی صحیح۔ بہرحال دفتر میں کام کے لئے ہم نے جناب محمد عالم اور پروٹوکول کی خدمات کے لئےجناب محمد صدیق کو رکھ لیا۔ جناب محمد عالم دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج (ہندوستانی فوج برطانوی فوج ہی کہلاتی تھی) میں تھے اور اٹلی، قبرص اور جرمنی میں بہادری کے جوہر دکھا چکے تھے۔ یہ نہایت نرم گو، شریف النفس انسان تھے، بات سے پہلے مسکراتے تھے۔ صدیق صاحب ایجوکیشن کورس کے افسر تھے، دبلے پتلے، پھرتیلے اور کام میں ماہر، ریٹائرہوئے مدت بیتی مگر ابھی تک میری بیگم اور بچیوں کی باہر روانگی اور واپسی پرایئر پورٹ پر ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کام کا بوجھ بڑھنے لگا اور جناب عالم سے کام سنبھلنا مشکل ہوگیا ، مجھے ایک تیز و عقلمند افسر کی شدّت سے ضرورت پیش آنے لگی۔ میں نے اپنے پیارے قابل ساتھی ڈاکٹر محمد فاروق سے اسلام صاحب کا تذکرہ کیااور کہا کہ ان کو ڈھونڈھ کر لائیں۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے اسلام صاحب کو تلاش کرلیا۔ انھوں نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور سیٹلائٹ ٹائون میں ایک اچھا اسکول چلا رہے تھے، فاروق ان کو ساتھ لے آئے اور ہم نے پرانی یادیں تازہ کیں اور میں نے ان کو اپنا سینئر اسٹاف آفیسر بنانے کی پیشکش کی جو انھوں نے قبول کرلی۔ مجھے یقینا ان سے بہتر افسر نہیں مل سکتا تھا۔ یہ سمجھدار، تیز اور ساتھ میں انگریزی زبان پر خاصا عبور رکھتے تھے،ان کے لاتعداد لوگوں سے تعلقات تھے اور یہ میرے دست راست بن گئے۔ مجھے ان پر مکمل بھروسہ تھا اور یہ میرے ساتھ نہایت وفادار تھے۔ ان کی یہی خوبیاں ان کے مصائب و تکالیف کا سبب بن گئیں۔ گویا ہمارے پیارے مشہور شاعر، سابق کمشنر بھاولپور، ریاضی داں، میرے دوست جناب مرتضیٰ برلاس کا شعر ان پر صادق آگیا:
ریا کے دو ر میں سچ بول تو رہے ہو مگر
یہ وصف ہی نہ کہیں احتساب میں آئے
جب مشرف نے میرے ساتھ احسان فراموشی کی تو میرے ساتھی بھی اس کے شر سے محفوظ نہ رہے۔ اس کے حواریوں نے شاہوں سے بڑھ کر وفاداری دکھانے کی کوشش کی اور ایک شخص جو اُن کا پرانا دوست و کلاس فیلو تھا اس نے ہی ان کے ساتھ نہایت کم ظرفی ، بدتمیزی اور تکلیف دہ سلوک کیا۔ اس کو علم تھا کہ اسلام صاحب بے گناہ تھے مگر مشرف کو اپنی وفاداری دکھانا تھی اور اس سے زیادہ امریکنوں کو۔ اس دنیا میں تو ان احسان فراموشوں کو دنیاوی صلہ مل گیا مگر ابھی آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ان کو کلام مجید میں اللہ پاک کا کیا وعدہ و انتباہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے لئے بہت ہی شدید اور تکلیف دہ عذاب منتظر ہے۔
صاحب عالم بھولے اچھے انسان تھے۔ ایک مرتبہ ہم یورپ جارہے تھے ان سے کہا ٹریول ایجنٹ سے ٹکٹ بنوالیں۔ یہ ٹکٹ لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ اپنے قیام کو طویل نہ کرنا۔ میںنے پوچھا! کیوں؟ بولے میں نے یہ ایک ہفتہ کا اسپیشل ٹکٹ لیا ہے اگر آپ نے ایک دن بھی بڑھایا تو یہ کام نہ آئے گا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیوں کیا، ہمیں تھوڑی علم ہے کہ کام ایک دن پہلے ختم ہوگا یا دو دن بعد، بولے! میں نے سوچا کچھ کفایت ہوجائے گی۔ میں نے کہا جناب براہ مہربانی سوچنے کا کام ہم پر چھوڑ دیجئے اور آپ صرف ہدایات پر عمل کریں، اگر ہم وہاں پھنس گئے توکون مدد کرے گا، نہ ہمارے پاس پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی دوسری ایئر لائن ایسے ٹکٹ کو قبول کرے گا،حسب عادت مسکرا کر چلے گئے اور ٹکٹ تبدیل کرادئیے۔ جب اسلام صاحب آگئے تو عالم صاحب پر بوجھ کم ہو گیا اور وہ اور صدیق صاحب دونوں ہی پروٹوکول کے فرائض انجام دینے لگے۔ عالم صاحب کا انتقال ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت نصیب کرے۔ آمین۔
کہوٹہ میں میرے سیکرٹری محمد اشرف تھے،نہایت سیدھے سادھے انسان، مخلص، وفادار اور کام میں ماہر۔ شبّیر قاصد کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ دونوں میری ریٹائرمنٹ تک میرے ساتھ رہے۔ جس دن میں نےاس پروگرام کو خیر باد کہا اس کے ایک ہفتہ کے اندران دونوں مخلص و وفادار ساتھیوں نے استعفیٰ دیدیا اور چلے گئے۔ بولے، آپ کو بغیر ہمارے لئے یہاں کچھ نہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی صاحب کا مشیر لگا دیا گیا، وفاقی وزیر کا رتبہ تھا۔ اسلام صاحب میرے ساتھ آئے اور میرے ممبر فنانس جناب محمد فہیم اور ڈی جی ڈایکٹر نذیر احمد کو بھی میرے ساتھ کام کی اجازت دیدی گئی۔ یہ بہت اچھا وقت تھا۔جمالی صاحب مشفق، نرم گو، راست گو اور نہایت باتہذیب شخصیت کے مالک تھے۔ جب مشرف نے ان سے کہا کہ کیبنٹ سے منظوری لیکر دیں کہ مجھے امریکنوں کے حوالہ کردیا جائے تو انھوں نے صاف انکار کردیا اور وزارت عظمیٰ کی قربانی دیدی۔ مشرف یہ دعویٰ کرتا پھر رہا تھا کہ مجھے امریکنوں سے بچایا ہے حقیقت اس کے برعکس تھی، وہ بش کی خاطر واشنگٹن کی سڑک پر ننگے ناچنے کو بھی تیار ہوجاتا۔ ایسا وطن فروش و بے ضمیر شخص ہمارا سپہ سالار اور صدر بنا۔ یہ یقینا اللہ پاک کی لعنت اور عتاب ہم پر تھے۔پنڈی آفس میں میرے قاصدوں میں عبدالمجید اور نیاز تھے۔ میں مجید کو مجید بھائی اور نیاز کو نیاز میاں کہتا تھا۔ دونوں نہایت فرض شناس ساتھی تھے۔ میرے ساتھ 25 برس کام کیا اور کبھی ناراضگی یا غلط کام کا موقع نہیں دیا۔ پنڈی آفس میں شیرزمان اور بابا لشکر کُک تھے، بہت نفیس کھانا پکاتے تھے اور نواز ویٹر تھے۔ یہ لوگ نہایت باسلیقہ، خوش اخلاق اور وفادار تھے۔ کہوٹہ میںمنصف کُک تھے، جمیل، تاج اور عباس اعلیٰ سروس دیتے تھے۔ اللہ پاک ان سب کو اور انکے اہل و عیال کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر و مصیبت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: