گمنام قومی ہیروز

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ اَپنے محب وطن و قابل ساتھیوں کی کہانی ہے جنھوں نے میرے ساتھ مل کر ایک ناممکن کام کو ممکن بنا دیا تھا، ایک معجزہ دکھا دیا تھا۔ انھوں نے ایک پسماندہ ملک کو سات سال میں ایک ایٹمی قوّت بنا کر دنیا کو حیران و ششدر کردیا تھا۔
میں نے پچھلے کالم میں اَپنے اعلیٰ اسپتال اور وہاں کام کرنیوالے ماہرین کے بارے میں آپ کو بتایا تھا۔ اس کالم کے آخر میں اپنے ادارے کی سیکورٹی کی اہمیت اور وہاں کئے گئے ابتدائی انتظامات کے بارے میں بتایا تھا کہ کس طرح میری درخواست پر بھٹو صاحب نے جنرل جیلانی ، کو میرے پاس بھیجا تھا، پھر انھوں نے جنرل ضیاء سے بات کی تھی اور جنرل ضیاء نے جنرل فیض علی چشتی، کو ہدایت کی تھی کہ میری مدد کریں اور انھوں نے ہم پر اور پاکستان پر نہایت بڑا احسان کیا تھا کہ ایک نہایت قابل، اسمارٹ، تجربہ کار افسر جناب عبدالرحمٰن کو ہمارے پاس بھیج دیاتھا۔ میں نے ان کو ڈائریکٹر سیکورٹی لگا دیا تھا۔ یہ ایک ہیرا تھے، ایک جوہر تھے۔ انھوں نے جو ابتدائی اقدامات کئے تھے ان کے بارے میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ انھوں نے غیر ملکی جاسوسی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا ۔ جناب عبدالرحمٰن نے نہایت اعلیٰ خدمات انجام دیں اور تقریباً15برس وہ ادارے کی حفاظت کے ایک اہم شعبے کے سربراہ رہے۔ انھوں نے ایسی اچھی بنیاد

رکھی کہ کبھی کسی غیرملکی کوہمارے بارے میں معلومات تک رسائی نہ ہوسکی۔ ان کے بنائے ہوئے قوانین آج بھی رائج ہیں۔
مارشل لا لگنے کے بعد جنرل ضیاء نے اپنے ہندوستانی فوج میں ملازمت کےدوران (یہ تقسیم سے پہلے انگریزی فوج تھی) نہایت اچھے ساتھی اوردوست جنرل سید علی ضامن نقوی کو ہمارے پروجیکٹ اور کمیشن کیلئے اپنا ایڈوائزر لگا لیا۔ یہ نہایت خوش مزاج، خوش گفتار اور یورپین کی طرح حسین،گورے، ہری آنکھیں اور سنہرے بال والے افسر تھے۔ انھوں نےکمیشن کی بلڈنگ میں اپنا دفتر بنا لیا اور کمیشن کے ڈائریکٹر جناب قمر فاروقی کو اپنا اسٹاف آفیسر بنا لیا۔ فاروقی صاحب ایم اے نفسیات تھے، کام میں ماہر تھے اور جنرل نقوی کے دست راست تھے۔ دونوں ہفتہ میں ایک دن ضرور پروجیکٹ کا چکر لگالیتے تھے۔ ہمارے بہت ہی اچھے تعلقات تھے۔ فاروقی صاحب کو پھول اور پودوں کی بہت معلومات تھیں۔
جنرل نقوی ایک بہادر سپاہی تھے۔ لاہور فرنٹ پر ہندوستانی فوجوں کو پسپا کرنے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ بھٹو صاحب نے ایک نیشنل سیکیورٹی کونسل یا ایجنسی بنائی تھی یہ اس کے سیکرٹری تھے۔ جنرل محمد شریف، جنرل اقبال ان کے نہایت عزیز دوستوں میں سے تھے۔تمام اہم معاملات میںہم باہمی مشورہ کرتے تھے۔ مرحوم جنرل ضیاء نے یہ اصول بنا لیا تھا کہ ہر دو تین ہفتہ بعد ہم دونوں کو رات کو بلا کر پروجیکٹ کی پیش رفت اور سیکورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ وہ کئی مرتبہ پروجیکٹ آئے اور وہاں کی ترقی دیکھ کر بے حد خوش ہوئے تھے۔ یکم مئی 1981 کو جب انسپکشن کرچکے اور ہمارے ساتھ لنچ کیا تو اتنے خوش تھے کہ انھوں نے اسی وقت پروجیکٹ کا نام Engineering Research Laboratories (ERL) سے بدل کر Dr. A. Q. Khan Research Laboratories (KRL) رکھ دیا تھا۔ جنرل نقوی ، رحمٰن صاحب کی کارکردگی سے بے حد خوش تھے۔کام کی اہمیت اور دوسرے اداروں سے تعلقات کی وجہ سے رحمٰن صا حب کے ریٹائر ہونے کے بعد میں نے حاضر سروس جناب صغیر احمد کو لے لیاتھااوررحمٰن صاحب کو ڈائریکٹر پروٹوکول بنادیاتھا۔یہ بعد میں نیب میں ڈائریکٹر لگ گئے تھے۔ سب سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔صغیرصاحب کے بعد جناب راجہ شوکت تعینات کئے گئے، ان کا دور کچھ اچھا نہ تھا۔ یہ بے حد شکی تھے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے کہ گویا ان کی آمد سے پیشتر یہاں کچھ کام ہی نہیں ہوا تھا۔ دوسرے رفقائے کار سے ان کے تعلقات زیادہ اچھے نہ رہے۔بدقسمتی سے یہ جلد ہی ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔ ان کے گھر میں ایک کمرے میں ان کی ساس اور تین بچے سو رہے تھے، سردی کا موسم تھا، رات میں بچے کے پیر سے ہیٹر کا والو کھل گیااور پورا کمرہ گیس سے بھر گیا، علی الصبح جب ان کی ساس نے بجلی کا سوئچ دبایا تو اس کی چنگاری سے گیس نے آگ پکڑلی اور چند لمحے بعد ساس اور دو بچے ہلاک ہوگئے۔ ایک بچی بہت زخمی حالت میں بچ گئی ۔ اس کا علاج پہلے پاکستان اور پھر امریکہ میں کرایا گیا۔ اس حادثہ کے بعدراجہ شوکت کا تبادلہ ہوگیا۔شوکت صاحب کے بعد جناب اقبال تاجور آئے، نہایت قابل، سمجھدار، ذمہ دار، خوش اخلاق اور فرائض کی ادائیگی میں چاق و چوبند۔ یہ ہمارے لئے ہیرا تھے اور یہی ان کا گناہ بن گیا اور مشرف کے حواریوں نے ان کو بہت پریشان کیا۔ وجہ یہ کہ میرے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ مشرف نے ملکی، قومی ہیروز کو بہت تکالیف دیں ۔ جناب تاجور ریٹائر ہوئے تو میں نے ان کو ڈی جی ایڈمنسٹریشن بنا دیا تھا۔ ان کی جگہ فیاض ستی صاحب آئے۔ خوبرو، خوش گفتار اور اپنے کام میں ماہر تھے اور سب ان کو پسند کرتے تھے۔ یہ بعد میں ASF کے ڈی جی بن گئے تھے۔ ان کے بعد جناب افتخار آئے، وہ ایک نہایت محنتی اور قابل افسر تھے۔ انھوں نے بین الاقوامی دبائو اور بگڑتی حالت کے مدنظر ہمارے پروجیکٹ کی سیکورٹی کو مزید ائیرٹائٹ کردیا تھا۔ یہ وہ قومی گمنام ہیروز ہیں جن کی خدمات اور فرائض منصبی کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے ہمارے پروجیکٹ پر آنچ نہ آئی اور ہم اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بفضل خدا کامیاب ہوگئے۔ میں نے رحمٰن صاحب کیساتھ بیٹھ کر پروجیکٹ کی سیکورٹی کے بہت اچھے انتظامات کئے تھے۔ ہر بلڈنگ میں داخلہ کیلئے میں نے دو دروازے لگوائے تھے، پہلے دروازہ کے بعد ایک چھوٹا ہال تھا جہاں ایک کائونٹر تھا اور وہاں چوبیس گھنٹے دو باوردی جوان ڈیوٹی کرتے تھے۔ بلڈنگ میں کوئی چیز اندر یا اندر سے باہر بغیر کوئی ڈاکومنٹ کے نہیں آجا سکتی تھی اور یہ ڈاکومنٹ ڈیوٹی افسر کو دیا جاتی تھا جو وہ اپنے ریکارڈ میں رکھ کر شام کو ڈائریکٹر یا ڈائریکٹر جنرل سیکورٹی کو پہنچا دیتے تھے۔ یہ اصول اورضابطہ ایک بلڈنگ سے دوسری بلڈنگ میں سامان لانے اور لیجانے کے لئے بھی رائج تھا۔ یہی نہیں ہر بلڈنگ میں اپنی میس تھی جہاں وہاں کام کرنے والے کھانا کھاتے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مختلف کام کرنے والے ایک دوسرے سے کم سے کم ملیں اور ایک دوسرے کے کام سے زیادہ واقف نہ ہوں۔ اسی طرح میں نے پورا ٹیکنیکل ایریا چار دیواری سے علیحدہ کردیا تھا اور اس میں داخل ہونے والے صرف وہاں کام کرنے والے تھے۔ میں نے ایڈمنسٹریشن اور دوسری نان ٹیکنیکل سرگرمیاں ٹیکنیکل ایریا سے باہر رکھی تھیں۔ڈرائنگز کی سخت نگرانی تھی۔ یہ ڈی جی انجینئر اعجاز احمد کھوکھر اور ان کے نہایت قابل اور ذمّہ دار رفیق کارانجینئرسعید احمد کےپاس الماریوں میں تالے لگا کر رکھی جاتی تھیں۔ کسی بھی متعلقہ افسر کو جب ڈرائنگز کی کاپی کی ضرورت ہوتی تو یہ دستخط لیکر ریکارڈ میں درج کی جاتی تھی۔ یہ ضابطہ سب کیلئے یکساں تھا۔ اگر میں بھی کوئی ڈرائنگ معائنہ یا ترمیم کیلئے مانگتا تو وہ بھی باقاعدگی سے رجسٹر کی جاتی تھی۔ اس طرح اہم دستاویزات کم سے کم سرکولیشن میں تھیں اور سب کا ریکارڈ موجود تھا۔
پلانٹ میں چونکہ ایک خاص گیس کا استعمال تھا اسلئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے کہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔ یہ کام ہمارے ہیلتھ فزکس کے محکمہ کے پاس تھا۔ اس کے سربراہ ہمارے عزیز دوست اور نہایت تجربہ کار انجینئر منصور احمد تھے۔ یہ روز ان علاقوں کا دورہ کرتے جہاں اس گیس کا استعمال تھا اورکسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ ان تمام بلڈنگوں میں حساس آلے لگے ہوئے تھے۔ منصور صاحب نہایت قابل، تجربہ کار تھے اور پُرمزاح بھی تھے۔ ان کی کمپنی میں ہنسی خوشی کے مذاق ہوا کرتے تھے۔ ان کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ تقریباً بیس سال کے دوران جس میں ہم نے ہزاروں ٹن گیس کا استعمال کیا کبھی ایک حادثہ بھی پیش نہیں آیا۔ ایک خاص دھات کو اپنی مطلوبہ ضرورت کے معیار تک لانے کے بعد کے بعد ڈاکٹر اشرف عطا ءیہ گیس، باقاعدہ رجسٹر میں درج کرکے ڈاکٹر فخرالحسن ہاشمی کو دیدیتے تھے۔
خاص دھات کو ایک مطلوبہ معیار کے مطابق تیار کرنے کے بعد حفاظتی نقطہ نظر سے ایک کنٹینر میں صرف ایک کلوگرام رکھا جاتا ہے ۔ ہاشمی صاحب یہ بوتلیں ڈاکٹر اعتزاز قمر اور ڈاکٹر ولایت حسین کو دیدیتے تھے۔ یہ دونوں سائنسدان نہایت قابل اور اہل تھے۔ انھوں نے گیس کو دھات میں تبدیل کرنے کا چھوٹا سا پلانٹ بنا لیا تھا۔ وہاں یہ گیس کو ایک ایک کلوگرام کی ٹکیوں میں تبدیل کرلیتے تھے۔ بعد مقررہ مقدار کو پگھلا کر دو آدھے گولے (جو ملا کر ایک پرفیکٹ گولہ بناتے تھے) بنا کر قاضی صاحب کو دیدیتے تھے ، وہ ان کو نہایت اعلیٰ اور صحیح پیمائش پر مشیننگ کراکے منصور صاحب کو دیدیتے تھے۔ حفاظتی طور پر ایک کنٹینر میں صرف آدھا گولہ رکھا جاتا ہے، اس کنٹینر کو اندر سے سیسے سے لائن کیا جاتا ہے کہ نقصان دہ اثرات باہر نہ نکلیں۔ جب ایک گولہ مکمل ہوجاتا تھا تو ہم دو کنٹینر پہلے فاروقی صاحب اور نقوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ جب ایس پی ڈی کا قیام عمل میں آیا تو ہم یہ دونوں کنٹینر ان کے ایک افسر کو دیدیا کرتے تھے۔ میں نے یا میرے رفقائے کار نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ نہایت حساس قیمتی مال کہاں گیا،کہاں رکھا گیا۔ ہمارے یہاں سے کبھی ایک گرام دھات بھی غائب نہیں ہوئی۔ اس کا پورا ریکارڈ ڈاکٹر اشرف عطا، ڈاکٹر ہاشمی اور انجینئر منصور صاحب کے پاس تھا۔ جب تک غلام اسحٰق خان صاحب اس پروگرام کے سربراہ تھے (1993ءتک وہ سربراہ تھے) ہم ایک ایک گرام کا ریکارڈ ان کو دیدیتے تھے۔ وہ ہمارے دیئے گئے اعداد و شمار کو ڈاکٹر اشفاق احمد سے بھی چیک کر لیتے تھے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: