انمول، فقید المثال پاکستانی

0 5

اپنے پچھلے 23 کالموں میں کہوٹہ کے چند محب وطن، لائق، ہنرمند، فقیدالمثال گمنام سائنسدانوں اور انجینئروں کا آپ سے تعارف کرایا ہے۔ آج میں آپ کا تعارف اپنے پیارے دوست اور ملک کے مایہ ناز صنعتکار (بزنس مین) اور جانی پہچانی شخصیت جناب صدرالدین ہاشوانی کا کرارہا ہوں۔ ہاشوانی بھائی ملک کی مشہور شخصیت ہیں اور پورا ملک ان کومشہور و معروف ہوٹلوں کی وجہ سے جانتا ہے حالانکہ یہ دوسرے کاموں میں بھی مصروف ہیں۔
ہاشوانی صاحب سے میری بہت پرانی دوستی ہے۔ جب میرا ذکر اخبارات و محفلوں میں ہونے لگا کہ پاکستان کو ایٹم بم کی صلاحیت میرے رفقائے کار اور میں نے میسر کردی ہے تو لوگ مجھ سے ملنے، ملاقات کرنے کے خواہشمند ہوگئے۔ میں غیرملکی صنعتکاروں کے ساتھ ان کے ایک معروف ہوٹل میں جاکر کھانا کھایا کرتا تھا۔ مجھے وہاں سب ہی لوگ جانتے تھے اور کوئی نہ کوئی ہاشوانی صاحب کو اطلاع دیدیتا تھا ، وہ اکثر آجاتے تھے اور سلام دعا، خیریت ، سروس و کھانے کی کوالٹی کے بارے میں دریافت کرلیتے تھے۔ میں نے ان کو نہایت خوش مزاج اور پر مزاح شخص پایا۔ میری دونوں بیٹیوں اور ان کی بیٹیوں کی اسکول میں دوستی تھی اور اس طرح ہمارے درمیان نہایت اچھے، پرخلوص تعلقات قائم ہوگئے تھے اور اکثر ہاشوانی صاحب مجھے دوپہر کو فون کرکے پوچھ لیتے کہ گھر کب واپسی

ہوگی اور اگر مصروفیت نہ ہو تو ان ہوٹل پر رک کر ان کے ساتھ چاٹ چکھ لوں۔ میں اکثر رُک جاتا تھا، چاٹ بے حد لذیز ہوتی تھی اور اس کے بعد اعلیٰ کافی ۔ مجھے ان سے مل کر بے حد خوشی ہوتی تھی۔ یہ ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ ’’سیلف میڈ‘‘ انسان ہیں، ان کی پوری زندگی جدّوجہد، خطرات کا مقابلہ اور کامیابی سے ان پر قابو پانا، اور ترقی کے نئے نئے طریقہ کار استعمال کرنے سے پُر ہے۔ یہ ایک نہایت غیّور اِنسان ہیں۔ بلوچ ہیں اور ان کی آنکھوں کی چمک اور مونچھوں کا اسٹائل اس کی عکّاسی کرتے ہیں۔
صدرالدین ہاشوانی کا تعلق آغاخانی فرقہ سے ہے۔ یہ کٹّر مسلمان ہیں۔ عام تاثر کے برعکس یہ آغا خانصاحب کو نہ ہی پیغمبر مانتے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا لقب دیتے ہیں۔ یہ ان کو اپنا امام مانتے ہیں جس طرح بوہری اپنے رہنما کو مانتے ہیں۔ صدرالدین ہاشوانی نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے اور اس کا نام ہے Truth Always Prevails یعنی ’’سچ کی کہانی‘‘ (اردومیں شائع ہوئی کتاب کا نام)۔ اس کو لاہور کی جمہوری پبلیکیشنزنے شائع کیا ہے جس کے سربراہ جناب فرّخ سہیل گوئندی ہیں۔ یہ اعلیٰ سوانح حیات اسی سال یعنی 2014 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کی تقریب رونمائی16 نومبر کو اسلام آباد میں ایک مشہور ہوٹل میں ہوئی تھی۔ مجھے مہمان خصوصی کے اعزاز سے نوازا گیا تھا مگر بعض ’’غیرمتوقع حالات‘‘ کی وجہ سے میں شرکت کرنے سے قاصر رہا اور مجھے ہمیشہ اس کا افسوس رہے گا۔ لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہاشوانی صاحب نے اپنے بنگلہ پر رات کو مجھے اپنے چند عزیز ترین دوستوں کے ساتھ کھانے پر بلا لیا، اس نے دوپہر کی محرومی کا ازالہ کردیا۔ یہ بنگلہ پہلے صدرفیلڈ مارشل ایوب خان کا تھا، جب فروخت ہوا تو ہاشوانی صاحب نے خرید کر اس کی جگہ بالکل نیا بہت ہی اعلیٰ بنگلہ بنوالیا۔ میں پہلی مرتبہ یہاں گیا اور دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ وہاں آپ کو ہاشوانی صاحب کے اعلیٰ ٹیسٹ کا نظارہ ملتا ہے۔ ماشاء اللہ بہت ہی اعلیٰ طریقہ سے اس کی سجاوٹ کی گئی ہے اور تمام فرنیچر ترکی کا ہے۔
میں نے اپنے عزیز دوستوں جناب سرتاج عزیز، جنرل ریاض احمد چوہان، پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی اور ڈاکٹر افضال اکبر خان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی۔ بدقسمتی سے سرتاج عزیز کسی عزیز کی میت میں شرکت کرنے لاہور چلے گئے اور واپسی میں تاخیر کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔ ماحول نہایت غیررسمی تھا، کھانا بوفے کی شکل میں تھا اور نہایت ہی اعلیٰ۔ ہاشوانی صاحب نے میزبانی کے فرائض اپنی پیاری نہایت قابل بیٹی سارہ کے ذمّہ ڈال دی تھی اس نے نہایت خوش اسلوبی سے یہ فرض ادا کیا۔ میں ان کے بچوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ ماشاء اللہ سب محنتی، ایماندار اور خوش اخلاق ہیں۔ کہاوت ہے کہ ایک سیب درخت سے دور نہیں گرتا، یعنی والدین کی اخلاقی قدریں اولاد میں ضرور آجاتی ہیں، یہ بیٹی اپنے والد کا عکس ہے، بے حد خوش اخلاق، ملنسار اور تمیزدار۔ یہ شام ناقابل فراموش تھی۔ ہاشوانی صاحب نے پرانی باتیں سنائیں۔ یہ جدّوجہد اور کامیابی کی منزلوں تک پہنچنے کے لئے آج کل کے نوجوانوں کے لئے ایک سبق آموز کتاب ہے اور اس سے نوجوان طبقہ کو سبق حاصل کرنا چاہئے کہ جو عزّت و ترقی وہ پرانی نسلوں میں دیکھتے ہیں وہ انھیں نہ ہی ورثہ میں ملی ہے اور نہ ہی کسی نے ان کو پلیٹ پر رکھ کردی ہے، یہ نہایت سخت ایماندار جدّوجہد کا نتیجہ ہے۔ نوجوان لوگ ایسے کامیاب لوگوں کو دیکھ کر حسد کرنے لگتے ہیں اور غلط سلط باتیں کرنے اور تبصرے کرنے لگتے ہیں۔ وہ ہاشوانی صاحب کی سوانح عمری پڑھیں تو ان کو احساس ہوگا کہ جن مشکلات کا انھوں نے کامیابی سے مقابلہ کیا ایسی مشکلات کے پیش آنے سے ہزار میں سے ایک ہی انسان کامیاب ہوتا ہے باقی پہلے ہی جھٹکے میں ہمّت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہر چیز قسمت پر ڈالدیتے ہیں۔ نوجوانوں کے سامنے میری اپنی مثال موجود ہے کس طرح میں کھوکھراپار سے کراچی آیا، کس طرح تکالیف کا سامنا کرکے ڈی جے سندھ گورنمنٹ کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، میں کسی انگریزی زبان کے اسکول کا پڑھا ہوا نہ تھا۔ ڈگری کے بعد تین سال ملازمت کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن چلا گیا۔ جب میں روانہ ہوا تو وَن وے ٹکٹ تھا اور 30 پونڈ ہاتھ میں تھے۔ یہ رقم بڑے بھائی حفیظ نے دی تھی۔ نہ زبان آتی تھی اور نہ ہی کوئی مالی وسائل تھے۔ میں نے چھٹیوں میں کام کرکرکے اپنی تعلیم مکمل کی۔ جب ہماری شادی ہوگئی تو بیگم نے کام سے منع کردیا کہ تعلیم میں حرج ہوتا ہے اور ان کی تنخواہ سے ہمارا خرچ چلتا رہا۔ چوتھے سال میں مجھے وظیفہ مل گیا اور پھر پانچ سال کی تعلیم مکمل کرکے میں ریسرچ اسسٹنٹ بن گیا اور پھر ریسرچ فیلو اور اس دوران جو تنخواہ ملتی تھی ہمارا اچھا گزر ہوجاتا تھا۔ جن مشکلات و مراحل سے میں گزرا ہوں وہ میں ہی جانتا ہوں مگر ہاشوانی صاحب کی طرح اس محنت و جدّوجہد کا ثمر مجھے بھی بہت اچھا ملا اور میں نے ملک کی جو خدمت کی وہ اس محنت کا ہی صلہ ہے۔ میری کامیابی میں جدّوجہد اور خداوندتعالیٰ پر مکمل اعتماد نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔
جناب صدرالدین ہاشوانی کی سوانح عمری نوجوان طبقہ کے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ ان کی پاکستانی نوجوان طبقہ سے بے پناہ محبت کا مظہر ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو بطور مثال پیش کیا ہے اور نوجوان طبقہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انسان زندگی میں ایمانداری، غیرمتزلزل ارادے اور اللہ رب العزّت پرمکمل ایمان، خوش اخلاقی، پیشہ ورانہ شفّافیت پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے راستہ سے تمام رکاوٹیں دور کردیتا ہے اور کامیابی قدم چومتی ہے۔
ہاشوانی صاحب نے بچپن ایک بچے کی طرح گزارا، میری ہی طرح، تعلیم کے ساتھ کھیل کود میں پورا حصّہ لیا، آجکل کے بچوں کی طرح نہیں کہ سوائے لیپ ٹاپ اور انٹر نیٹ کے انھیں کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ پرانی صحتمندانہ عادتیں، وہ بچپنا سب عنقا ہوگئے ہیں۔ بچے اب بچوں کی طرح نہیں بوڑھوں کی طرح باتیں کرتے ہیں بلکہ ان کو بوڑھا بنا دیا جاتا ہے۔ یہ نوجوان طبقہ پر ناقابل معافی جرم ہے۔
صدرالدین ہاشوانی صاحب کو جو لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جن سے وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے اس میں ان کی ایمان کی پختگی اور اللہ پاک پر غیرمتزلزل یقین کامل کا مکمل دخل ہے۔ بہت کم لوگ ان کے فلاحی کاموں سے واقف ہیں، یہ اور بیٹی سارہ جو ہاشو فائونڈیشن کی سربراہ ہیں پورے ملک کے دور دراز علاقوں تک فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ ان فلاحی کاموں کی وجہ سے ہی اللہ پاک نے ان کو نہایت طاقتور، خود غرض لٹیرے اور ڈاکو حکمرانوں سے محفوظ رکھا ہے۔ ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا پورے ملک کو علم ہے۔ میریٹ پر دہشت گردی کے حملہ میں ماشاء اللہ یہ اور ان کے اہل و عیال محفوظ رہے، اس میں ان کی نیکیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔
اُس روز ڈنر کے دوران وہاں دو پیاری شخصیات سے ملاقات ہوئی، ایک تو پرانے عزیز دوست اور میرے مرحوم بھائی قیوم کے رفیق کار جناب ہمایوں محبوب سے (یہ بڑے معروف بنک میں تھے جہاں قیوم سینئر وائس پریذیڈنٹ اور جعلسازی محکمہ کے سربراہ تھے) جو بہت اچھے نجومی، دست شناس ہیں اور دوئم میرے پرانے سیکیورٹی گارڈ ایس ایس جی کے حوالدار علی موجود (صوفی صاحب)۔ یہ پرانے مخلص دوست ہیں۔ نہایت فرض شناس، عقاب کی طرح نظریں رکھتے ہیں۔
اس مختصر سے کالم میں ملک کے نامور، کامیاب، مجاہد صدرالدین ہاشوانی کی طویل جدّوجہد اور کامیاب زندگی بیان کرنا دریا کیا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ میں یہ کالم ان کے اپنے ہی الفاظ پر ختم کرتا ہوں۔
’’مجھے اپنے لوگوں کی لائق و قابل رشک صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ میں پاکستان کی بقا اور مستقبل پر یقین کامل رکھتا ہوں اور سب سے بڑھ کر میں ذات باری تعالیٰ پر مکمل ایمان رکھتا ہوں‘‘۔
اللہ پاک جناب صدرالدین ہاشوانی، ان کے اہل و عیال، عزیز و اقارب اور وفادار رفقائے کار کو تندرست، خوش و خرم رکھے، حفظ و امان میں رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: