بیش بہا نوادرات

میں اس ہفتہ بھی اپنے گمنام قومی ہیروز کا ذکر نہیں کررہا جنھوں نے اس پسماندہ ملک کو صرف 7 سال میں ایک ایٹمی قوّت اور پھر صرف 3 سال میں ایک میزائل قوّت بنا دیا تھا۔ اور یہ انھوں نے نہ صرف بیرونی قوتوں بلکہ قومی سازشیوں کی کوششوں کے باوجود بفضل خدا کامیابی حاصل کرلی تھی۔ آج میں پہلے ایک بہت ہی اہم کتاب جو قرآن کی خطیبانہ انداز پر مبنی ہے پرکچھ تبصرہ کرونگا مگر قبل اس کے کہ میں کتاب پر تبصرہ کروں پہلے قرآن کی اہمیت اور فن خطابت پر کچھ عرض کرونگا۔
(1) قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جو تمام آسمانی کتابوں کے برعکس آج تک اسی زبان و بیان کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے جس طرح نازل ہوئی، اس کی سورتیں اور مضامین ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ قائم ہیں جیسے چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے مرتب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی آسمانی کتاب ایسی نہیں جو اسی زبان اور صورت میں محفوظ ہو جیسے نازل ہوئی۔ حتیٰ کہ جن زبانوں میں دیگر بعض کتابیں نازل ہوئیں وہ بھی آج ناپید ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن آج دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان اسی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اسی عربی زبان میں کرتے ہیں اور تجوید کے انہی اصولوں کے عین مطابق کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتب فرمائے تھے۔ اس کے علاوہ لاکھوں مسلمان قرآن کے تیس پاروں کو زبانی

یاد کرلیتے ہیں۔ ان لاکھوں حافظوں کو قرآن کی پہلی سورۃ الفاتحہ سے لیکر اس کی آخری سورۃ الناس تک پڑھنے کیلئے کسی بصری مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر سال رمضان کے مہینہ میں ہزاروں حافظ مسجدوں میں اور گھروں میں پورا قرآن تراویح کی نماز میں سنا دیتے ہیں۔ یہ قاری حضرات دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، الگ الگ زبانیں بولتے ہیں لیکن جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو نیوزی لینڈ سے امریکہ تک، اورایشیا سے افریقہ تک سب کے سب ایک ہی طریقہ سے تلاوت کرتے ہیں۔ ان سب کے اپنی زبانوں میں الگ الگ لہجے ہوتے ہیں، ہر زبان کا نظام تلفظ الگ ہوتا ہے لیکن جب یہ سب قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کو عرب اور غیر عرب کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہوسکتا کیوں کہ قرآن پڑھتے ہوئے ہرایک اس کے صوتی نظام کو اختیار کرلیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں جہاںدنیا میں مسلمانوں کی بستیاں ہیں وہاں سینکڑوں ہزاروں بچے بچیاں جن کی عمریں سات سے نو سال تک ہوتی ہیں پورا قرآن بآسانی یاد کرلیتے ہیں اور یہ ان کے سینوں میں محفوظ رہتا ہے۔
یہ سب قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی واضح نشانیاں ہیں جو اللہ کے آخری رسول پر بطور آخری کتاب ہدایت نازل کیا گیا۔ہر وہ مسلمان جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے حیات بخش، ولولہ انگیز روحانی پیغام اور ہلا دینے والے اخلاقی احکام پر غور کرتا ہے ،اس کا وجدان اس کو فوراً بتا دیتا ہے کہ یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کے حاضر و ناظر ہونے اور اس کی قدرت کاملہ کا کھلا ثبوت ہے۔ اس کا دل اور دماغ اور اس کی روح مل کر گواہی دیتے ہیں کہ قرآن ایک معجزہ ہے۔
لیکن کیا قرآن مجید کے غیرمعمولی معجزہ کا علم ہونے کے لئے اتنا ہی خیال کافی ہے کہ تاریخ انسانی میں اس کے نزول سے بڑھ کر کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا؟
اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے میں اپنے قابل دوست پروفیسر ڈاکٹر جسٹس محمد الغزالی صاحب کی حالیہ کتاب Some Rhetorical Features of the Quran کا مطالعہ کرنے کی دعوت اپنے قارئین کو دیتا ہوں۔ پروفیسر صاحب اداراہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد سے تین دہائیوں سے منسلک ہیں۔ انکی یہ کتاب انگریزی زبان میں پہلی تصنیف ہے جس میں اُن لِسّانی اور اَدبی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جن کی بناء پر قرآن مجید ایک بے مثال، غیرمعمولی اور ناقابل تقلید کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب کو پڑھ کر اس زبان و بیان کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے جس سے کام لیکر قرآن مجید کے ادبی اور لسانی اعجاز کو قدیم علماء بلاغت کی تاریخ ساز کوششوں کی روشنی میں بیان کیا گیا۔ ان علماء اسلام نے اسی بات کو ثابت کرنے کیلئے کہ قرآن مجید ایسا لسانی و ادبی معجزہ ہے جس کا مقابلہ کرنے سے دنیا عاجز ہو گئی، ایک باقاعدہ علم کی بنیاد رکھی۔ اس علم کو اعجاز القرآن کا نام دیا گیا۔ یہ علوم تفسیر کی ایک اہم شاخ کے طور پر تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں پروان چڑھی۔ جن علماء نے اس علم کے فروغ میں حصہ لیا اور اس کے اصول مقرر کئے انہوں نے بنیادی طور پر اس سوال کا جواب فراہم کیا کہ جب قرآن مجید نے یہ کھلا چیلنج دیا کہ اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آئو (فأتوا بسُورۃ مِن مثلہ) تو کیا اس سے مراد یہ تھا کہ کیوں کہ اس کتاب میں کائنات کے وہ حقائق بیان ہوئے ہیں جو کسی اور کتاب میں نہیں ہوئے اور جن تک رسائی صدیوں بعد سائنس دانوں کو حاصل ہوئی؟ یا اس لئے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں انسان کی ابتدائے آفرینش سے آخرت میں اس کے انجام تک کے مراحل مفصل بیان کئے گئے ہیں؟ یا یہ کتاب اس بنا پر ایک معجزہ ہے کہ یہ ایک مکمل، متوازن اور جامع اخلاقی پروگرام اور ایسا سماجی ضابطہ حیات فراہم کرتی ہے جس میں بیک وقت انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل موجود ہے اور ان کی فلاح کا ایک جامع منصوبہ اس کے پاس ہے؟
علماء اسلام نے ان سوالات کو اٹھایا، ان پر سیر حاصل بحث کی اور پھر یہ ثابت کیا کہ ان سب خصوصیات سے بڑھ کر قرآن کا اصل معجزہ یہ ہے کہ یہ وہ لسانی اور ادبی شاہکار ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان علماء نے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ، زبان و بیان اور بلاغت کے میدان میں امام کا درجہ رکھتا تھا قرآن مجید کی ایک ایک آیت پر غور کرکے یہ ثابت کیا کہ قرآن مجید کا اعجاز یہ ہے کہ وہ ہر صورت حال میں، ہر سیاق و سباق میں، ہر گفتگو میں، ہر منظر کشی میں، ہر واقعہ کے تذکرہ میں اور ہر حقیقت کے اظہار میں اس قدر اعلیٰ درجہ پر ہے کہ انسانی کوشش اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتی چہ جائیکہ اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کے فصحاء اور بلاغت اور بیان کے ماہرین نے جن کی زبان دانی ضرب المثل تھی، قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ زبان و بیان کا وہ کیا ناقابل حصول معیار تھا جس نے قرآن کریم کے سامنے عرب شاعروں اور ادیبوں کو خاموش کردیا اور وہ اس کی آیات سن کر دنگ رہ گئے، پروفیسر غزالی صاحب کی اس کتاب میں اسی کا جواب ہے۔ یہ کتاب اسلامی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد نے خوبصورت پیرایہ میں شائع کی ہے۔
(2)دوسری دو اعلیٰ کتابوں کے بارے میں مختصر سا تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ دونوں کتابیں (بے مثال حکمران ٹیپو سلطان اور مینار عظمت و رفعت نواب محمد اسمٰعیل خان) میرے عزیز دوست سید خاور محمود صاحب نے لکھی ہیں۔ خاور صاحب ایک اچھے مصنف ہیں اور انھوں نے ایک درجن کے قریب اچھی کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ اس ملک کا کون ایسا فرد ہے جو شیر میسور ٹیپو سلطان مجاہد اسلام کے نام و بہادری سے واقف نہیں۔ خاور صاحب نے سلطان کی زندگی پر گہرا تبصرہ کیا ہے، اس کی بہادری، انگریزوں کے خلاف جہاد، نظام دکن اور مرہٹوں اور میر صادق کی غدّاری، ٹیپو سلطان کی شہادت پر تفصیلات ہیں۔ اگر اس وقت نظام اور مرہٹے سلطان کا ساتھ دیدیتے تو انگریزی جعلسازی اور سازشوں کا خاتمہ 215 سال پیشتر ہوجاتا اور ہندوستان آزاد ہوجاتا مگر ہماری اسلامی تاریخ ایسے غدّارانہ واقعات سے بھری پڑی ہے۔
دوسری کتاب نہایت قابل، محب وطن، قائد اعظم کے معتمد اور پاکستان تحریک کے مشہور اور معزز رہنما بیرسٹر نواب محمد اسمٰعیل خان پر ہے۔ یہ کتاب ملک کے مشہور شخصیات کے مضامین پر مشتمل ہے۔
نواب صاحب کا تعلق اعلیٰ خاندان سے تھا۔بیرسٹری کے بعد موتی لال نہرو کے گھر رہے اور پریکٹس کی۔ نہرو کے دوست تھے مگر جب مسلمانوں کے حقوق کا وقت آیا تو آپ نے فوراً مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور قائد اعظم کے معتمد خاص بن گئے۔ آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تقسیم کے بعد دہلی میں ہی رہ کر ہندوستان میں رہائشی مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدّوجہد جاری رکھی۔
یہ دونوں کتابیں پیرامائونٹ پبلی کیشنز کراچی نے شائع کی ہیں۔
(نوٹ) میری پرانی سِم کی خرابی کی وجہ سے تمام دوستوں، بہی خواہوں کے نمبر ضائع ہوگئے۔ براہ مہربانی وہ تمام دوست جن کو صبح دعائیں بھیجتا ہوں اپنا نام و نمبر ایس ایم ایس کردیں۔ شکریہ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: