فقیدالمثال گمنام ہیروز

0 5

سب سے پہلے تمام اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمت میں سلام و دعائیں اور حج اور عیدالاضحی کے مبارک موقعوں پر دلی مُبارک حاضر خدمت ہے۔ اللہ پاک آپ سب کو اس عید اور ایسی لاتعداد عیدوں کی خوشیاں عطا فرمائے، تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر و نظر بد سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو تمام آفات و مشکلات سے نجات دے اور ملک کو امن و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔
پچھلے چند ہفتوں سے آپ کی خدمت میں کہوٹہ میں اپنے پرانے فقیدالمثال اورملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ساتھیوں کا تذکرہ کر رہا ہوں۔ آج بھی میں ایسے ہی چند اور ساتھیوں کی بے مثال خدمات آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ میں نے آپ کو اپنے قابل اور اہم ساتھی ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا کی خدمات کے بارے میںبھی بتایا تھا۔ ان کے محکمے نے نہایت انمول خدمات انجام دی تھیں اور یہ سب کچھ ان کی رہنمائی میں ہوا تھا۔ یقینا ان کے ساتھی ان کے ساتھ تھے اور انھوں نے بھی اس ڈویژن کی کارکردگی میں، ڈاکٹر مرزا کی رہنمائی میں، کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ان میں ان کے ڈپٹی رمضان احمد بھٹی کے علاوہ ڈاکٹر محمد اسلم ملک، مرحوم مراد خان، مرحوم صلاح الدین اور عبدالرزّاق نے نہایت اہم اور کلیدی رول ادا کئے تھے۔ میں ان سے

اس طرح واقف تھا جس طرح ایک باپ یا بڑا بھائی اپنے بچوں یا چھوٹے بھائیوں سے واقف ہوتا ہے۔ جناب رمضان بھٹی، ڈاکٹر مرزا کی ہدایات کے مطابق اپنے ساتھیوں سے نہایت خوش اسلوبی سے اعلیٰ کام لیتے تھے۔ ان کی نرم گوئی اور نرم مزاجی ضرب المثال تھی۔ ڈاکٹر اسلم کو میں نے انگلستان بھیجا تھا جہاں انھوں نے یونیورسٹی آف مانچسٹر سے مائیکروالیکٹرانک میں پی ایچ ڈی کی تھی اور سینسر ٹیکنالوجی (Sensor Technology) میں مہارت حاصل کی تھی۔ یہ وہ میدان ہے جو ہر پلانٹ کے کنٹرول میں نہایت اہم رول ادا کرتا ہے۔ انھوں نے پروجیکٹ کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ اس محکمہ نے اینٹی ٹینک میزائل بکتر شکن تیار کئے جو چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے سے ٹینک کی دھجیاں اُڑا دیتے ہیں۔ یہ میزائل ایک نہایت نازک موقع پر بوسنیا کے مسلمانوں کو دئیے گئے جن کی وجہ سے انھوں نے سراجیوو کا کئی سال سے محاصرہ کرنے اور قتل و غارتگری کرنے والے سرب دہشت گردوں کو چند دنوں میں بھگادیا۔ بوسنیا کے آرمی چیف نے مجھے بتایا کہ صرف تین دنوں میں انھوں نے سربوں کے 82 ٹینک تباہ کردئیے تھے۔ میری اس مدد کی وجہ سے حکومت بوسنیا ہمیشہ میری بے حد ممنون و احسان مند تھی اور جب بھی ان کے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور آرمی چیف پاکستان آتے تھے وہ میرے گھر آکر میرا دلی شکریہ ادا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ کو میں مشرف کےروئیے کا ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ سنہ 2000 کے وسط میں بوسنیا کے وزیر دفاع، آرمی چیف و وزیرخارجہ پاکستان تشریف لا رہے تھے، ان کے سفیر نے جو میرے دوست تھے مجھ سے رابطہ کیا کہ وہ میرے پاس آکر ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو میرے گھر سے ملحقہ گیسٹ ہائوس میں لنچ کی دعوت دیدی جو انھوں نے بخوشی قبول کرلی۔ مقررہ دن وہ اسلام آباد تشریف لائے۔ دن دس بجے ان کی مشرف سے ملاقات تھی۔ انھوں نے اس کو بتایا کہ وہ اس سے ملنے کے بعد میرے پاس لنچ کرینگے اور ہماری مدد کا شکریہ ادا کرینگے۔ ابھی وہ تقریباً گیارہ بجے وہاں سے نکلے ہی تھے کہ مشرف کے چیف آف اسٹاف جنرل غلام احمد (جو عام طور پر G.A. کے نام سے مشہور تھے) کا میرے پاس فون آیا اور پوچھا کہ کیا بوسنیا کا وفد میرے پاس لنچ کرنے آرہا ہے، میں نے تصدیق کی تو کہا کہ جنرل مشرف کی ہدایت ہے کہ میں ان کے سفیر کو فوراً فون کردوں کہ مجھے ایمرجنسی میں کہیں جانا پڑرہا ہے اور اس لئے لنچ کی ضیافت سے معذرت خواہ ہوں۔ میں نے جنرل غلام احمد سے (یہ خود کو میرا برخوردار کہتے تھے) کہا کہ جھوٹ نہیں بولتا میں صاف صاف وجہ بتادوں گا۔ وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے بوسنیا کے سفیر کو لنچ کینسل کرنے کی اصل وجہ بتادی۔ انھیں بے حد تعجب ہوا کہ جنرل مشرف ایسی حرکت کرسکتے ہیں۔ جنرل غلام احمد کچھ عرصہ بعد برہان کے قریب اپنی کار کے حادثہ میں شہید ہوگئے۔اللہ تعالیٰ ا ن کو جنت نصیب کرے۔ آمین۔ شریف و صاف گو اِنسان تھے۔دیکھئے بات سے بات نکل کر کہاں جاپہنچی۔ جب ایک بات لکھتا ہوں تو دوسری بات نکل آتی ہے اور پوری طرح یاد آجاتی ہے۔ میں یہ بتارہا تھا کہ ہماری بکتر شکن میزائل کی تمام سہولتیں میرے نہایت قابل اور سمجھدار ساتھی افتخار احمد چوہدری نے تیار کی تھیں۔ میرے جناب افتخار صاحب اور ان کی بیگم ڈاکٹر عذرا افتخار سے 1967ءسے بہت اچھے تعلقات تھے۔ دراصل جب میں برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کا طالبعلم تھا اس وقت وہاں صرف ایک اور پاکستانی طالبعلم تھے ان کا نام اختر علی تھا۔ غیرملکی طلباء کے محکمے سے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اِشٹارک نے میرے پوچھنے پربتایا تھا کہ صرف ایک اورطالبعلم الیکٹرانکس میں ہیں اور بہت سمجھدار ہیں۔ مجھے ہائوس ’O‘ میں کمرہ ملا اور یہ سامنے والے ہائوس ’P‘ میں رہائش پذیر تھے۔ میں ان سے جاکر ملا، نہایت دبلے پتلے، نازک بدن، ان کے پاس کئی ہندوستانی لڑکے بیٹھے ان سے الیکٹرانکس پڑھ رہے تھے۔ ہم بہت جلد اچھے دوست بن گئے۔ ان کی جرمن دوست ریناتے میری منگتیر کی بہت اچھی دوست بن گئیں اور ہم اکثر ویک اینڈ پر ساتھ کھانا پکاتے تھے۔ ہم 1965 میں بذریعہ کار یوگوسلاویہ بھی گئے تھے۔ اختر علی کی شادی بعد میں جناب افتخار صاحب کی بہن نسیم سے ہوگئی۔ 1967 میں جب میں اپنی بیگم کے ساتھ6 سال بعد پاکستان آیا تو میں ان کو گھمانے کوئٹہ، لاہور،راولپنڈی،پشاور،لنڈی کوتل،طورخم، سوات، ایبٹ آباد، نتھیا گلی، مری، دہلی، آگرہ،بھوپال وغیرہ دکھانے لے گیا۔ پنڈی میں ہم افتخار بھائی اور عذرا بھابی سے ملے ۔ وہ اس وقت اعلیٰ افسر تھے اور میں نے اس دن سے انھیں ہمیشہ افتخار بھائی ہی کہا اور عذرا بھابی کو عذرا بھابی۔ جناب افتخارصاحب نے ہزاروں اینٹی ٹینک میزائل تیار کئےاور ہماری دفاعی صلاحیت کو بہت مضبوط کردیا۔ چند سال پہلے ان کا انتقال ہوا تو میرا دل بیٹھ گیا۔ یہ ہمارے نہایت اہم، فقیدالمثال ہیرو تھے اور ان کی خدمات پاکستان آرمی کے لئے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بھٹو صاحب کے ملٹری سیکرٹری جنرل امتیاز علی، افتخار بھائی کے کزن تھے۔ اس طرح یہ رابطہ بعد میں، میرے لئے اور ہمارے پروجیکٹ کے لئے نہایت اہم ثابت ہوا۔ جنرل امتیاز کی وساطت سے میں فوراً بھٹو صاحب تک رسائی حاصل کرلیتا تھا۔ یہ نہایت خوبصورت، قابل، اہل، دراز قد افسر تھے اور اگر ضیاء الحق حکومت کا تختہ نہ اُلٹ دیتے تو جنرل امتیاز یقیناً آرمی چیف بن جاتے۔ یہ بہترین اسپورٹس مین بھی تھے اور بہت سے انعامات جیتے تھے۔ جنرل ضیاء کے مارشل لا کے بعد ابوظہبی میں ڈیفنس ایڈوائزر ہوگئے تھے اور میری ان سے اکثرملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔
اَب میں واپس عزیز ساتھی ڈاکٹر اسلم کی جانب آتا ہوں۔ ان کی گرجدار آواز اور پروجیکٹ اور ملک و قوم کی حمایت میں زور دار نعرے آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اہل و عیال کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر سے محفوط رکھے۔ آمین۔
ان کے دونوں سابق و مرحوم قابل ساتھی مراد خان اور صلاح الدین نے بھی اعلیٰ خدمات انجام دی تھیں۔ مُراد جب بات کرتے تھے تو منہ سے پھول جھڑتے تھے۔ بھوپال کے قریب ایک چھوٹی مسلمان ریاست جائورہ کے رہنے والے تھے، نہایت تمیزدار، نرم گو تھے۔ سگریٹ بہت پینے لگے تھے اور غالباً یہی ان کی جوانی میں موت کا سبب بنا۔ان کی بیگم ڈاکٹر شگفتہ KRL اسپتال میں کام کرتی ہیں۔ صلاح الدین کو میں نے انگلستان میں Sussex کی یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کو بھیجا تھا، دل کی بیماری کی وجہ سے جلد واپس آنا پڑا اور یہیں سے M.S. کی تھیسس بھیج کر ڈگری حاصل کرلی۔ بدقسمتی سے کم عمری میں انتقال کرگئے۔ ہمارے ایک اور نہایت قابل، محنتی، نرم گو ساتھی عبدالرزّاق تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر مرزا کی رہنمائی میں الیکٹرانکس ڈویژن میں نہایت اہم اور اعلیٰ خدمات انجام دیں جس کا ملک ہمیشہ مرہون منت رہے گا۔ یہ وہ چند گمنام قومی ہیروز ہیں جن کی خدمات نے ملک کو ایک ایٹمی اور میزائل قوّت بننے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: