فقیدالمثال گمنام ہیروز

اَپنے پچھلے کالموں میں اپنے نہایت قابل، فقیدالمثال، محب وطن، اور ملک کو ناقابل تسخیر ایٹمی دفاع مہیا کرنے والے ساتھیوں کا ذکر کیا ہے۔ آج ایک اور ایسے ہی ساتھی ڈاکٹر محمد اشرف عطا کا آپ سے تعارف کرا رہا ہوں۔ پروجیکٹ کی ابتدا سے کام کی تکمیل تک میرے ساتھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر اشرف عطا کا تعلیمی ریکارڈ شاندار تھا۔ اٹامک انرجی کمیشن میں ملازم تھے، فزکس میں برمنگھم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تھی۔ پروجیکٹ شروع ہوا تو اس میں کام شروع کیامگر چند ماہ بعد ہی جب بھٹو صاحب نے مجھے اس کا سربراہ بنا کر خود مختار ادارہ بنا دیا تو انھوں نے تمام دوسرے ساتھیوں کی طرح اٹامِک انرجی کمیشن واپس جانے سے انکار کردیا اور میرے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی۔ میں نے ان کو پروسیس ٹیکنالوجی ڈویژن میں ڈپٹی ڈائرکٹر لگا دیا چونکہ اس وقت وہ پدّا سازشی اس ڈویژن کا سربراہ تھا۔ جب جنرل ضیاء نے اس کی سازش کا بھانڈا پھوڑدیا تو میں نے اس کو (جیل بھجوانے سے بچانے کے لئے) واپس کمیشن بھیج دیا۔ پروسیس ٹیکنالوجی ڈویژن بہت ہی اہم محکمہ تھا ۔ اس کے ذمّہ یورینیم افزودگی کے اہم پلانٹ کو چلانے اور یورینیم کی افزودگی کی ذمّہ داری تھی۔ میں نے ڈاکٹر اشرف عطا کو بلایا اور ان سے کہا کہ مجھے ان کی قابلیت اور اہمیت پر مکمل اعتماد ہے اور میں ان کو یہ اہم ذمّہ داری

سونپنا چاہتا ہوں اگر وہ قبول کریں تو ان کو ڈائریکٹر بنا کر یہ ذمّہ داری دیدوں گا۔ انھوں نے چند لمحے سوچا اور یہ اہم ذمّہ داری قبول کرلی۔ مجھے اپنے اس فیصلہ پر کبھی افسوس نہ ہوا۔ انھوں نے نہایت قابلیت اور اہلیت کا ثبوت دیا ۔
ڈاکٹر اشرف عطا ایک نہایت خاموش طبع، خوش اخلاق، قابل اور نہایت اَچھے منتظم ہیں۔ انہوں نے ایک اعلیٰ ٹیم تیار کی جن میں ڈاکٹر الطاف حسین، جناب اعجاز احمد مختار (موجودہ چیئرمین کے آر ایل)، ڈاکٹر عاصم فصیح خان، ڈاکٹر تجمل حسین نمایاں ساتھی تھے۔ ڈاکر اشرف عطا پرمزاح بھی ہیں اور وقت ضرورت ایک آدھ اچھا چست جملہ لگا دیتے ہیں۔ نواز شریف کے کٹّر حمایتی رہے ہیں۔ معلوم نہیں موجودہ حالت میں اس کی نااہلی اور عزم کے فقدان کی روشنی میں کیا سوچ رہے ہیں۔
پلانٹ کے بارے میں آپ کو پہلے کچھ بتا چکا ہوں کہ یہ نہایت حساس اور پیچیدہ ہوتا ہے اس میں لاتعداد پائپس میں زہریلی یورینیم گیس سفر کرتی ہے، اس کی مقدار اور پریشر کو نہایت احتیاط سے حدود میں رکھا جاتا ہے۔ یہ کام ڈاکٹر ہاشمی کے نہایت قابل اور اہل سائنسدان ڈاکٹر ولایت حسین اور ڈاکٹر اعتزاز قمر کرتے تھے ۔ ڈاکٹر اشرف عطا کا کام بہت مشکل تھا۔ چوبیس گھنٹے برسوں ہزاروں مشینوں کا چلنا، ان کی مانیٹرنگ کرنا، ان میں گیس کی سپلائی اور اَفزودگی وغیرہ یہ سب ان کی ذمّہ داری تھی۔ 1981 میں ایک سخت زلزلہ آیا اور ہماری بہت سی مشینیں ضائع ہوگئیں۔ تمام ساتھی گھبرا گئے اور نااُمید ہوگئے۔ جنرل ضیاء نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہم نے ہی تو یہ مشینیں بنائی تھیں اور بنالینگے اور اب پہلے سے زیادہ اچھی اور محفوظ بنائینگے۔ میں نے ڈاکٹر اشرف عطا سے مشورہ کیا اور ہم نے مشینوں میں ایسی ترمیم کی کہ پھر زلزلوں سے کبھی ہمیں نقصان نہیں ہوا۔ ان کی خدمات، بلکہ قومی و ملکی خدمات کا مجھ سے زیادہ کسی کو علم نہیں۔ میں نے حتی الامکان اپنے ساتھیوں کی خدمات کا اعتراف کیا اور حکومت سے کرایا۔ ڈاکٹر اشرف عطا پہلے ڈائرکٹر جنرل اور پھر ممبر سائنس رہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے M-1 کے اعلیٰ گریڈ اور ہلال امیتاز کے ایوارڈ سے نوازا۔ انھوں نے ایک اور اعلیٰ کام یہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں، میں نے ایک پلازا میں ان کو اچھی جگہ دلادی تھی، جہاں انھوں نے سافٹ ویئر کا اعلیٰ اِنسٹی ٹیوٹ قائم کیا جہاں نہ صرف کے آر ایل کے افسران بلکہ دوسرے اداروں کے کارکنوں کو بھی اعلیٰ تربیت دیتے رہے۔ کے آر ایل سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر اشرف عطا کئی برس تک کومسیٹس(Comsats) انسٹیٹیوٹ میں فزکس کے پروفیسر رہے اور اعلیٰ تعلیم دی۔ اب ریٹائرمنٹ لے لی ہے سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً حج اور عمرہ کی سعادتیں حاصل کرکے سکون قلب حاصل کرتے رہتے ہیں اور دعائوں میں مجھے یاد کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف عطا ہماری مشینری کے ایسے پرزے تھے کہ ان کے بغیر ہماری مشین کا چلنا ناممکن نہیں تو بے حد دشوار ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اہل و عیال کو تندرست و خوش و خرم رکھے،عمر دراز کرے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
آئیے ایک دوسرے جوہر پارے کا آپ سے تعارف کراتا ہوں۔ یہ میرے عزیز دوست و رفیق کار اِنجینئر نسیم خان ہیں۔ نہایت اعلیٰ کنٹرول و آٹومیشن ایکسپرٹ ہیں۔ یہ پہلے ڈیسٹو (DESTO) چکلالہ میں کام کرتے تھے۔ میری ان سے پہلی ملاقات جون 1974 میں امسٹرڈم میں ہوئی تھی۔ میں اس وقت ہالینڈ کی مشہور کمپنی میں اعلیٰ عہدہ پر ملازم تھا، ہماری کمپنی میں تقریباً ایک لاکھ ملازمین تھے اور لاتعداد پلانٹس بشمول نیوکلیر پلانٹس بناتے تھے۔ ڈیسٹو کی ایک ٹیم ہماری کمپنی کی تیار کردہ ونڈ ٹنل کا معائندہ کرنے اور وصول کرنے آئے تھے، ان کے ساتھ ان کے سربراہ پروفیسر اسلم خان، ڈاکٹر سبطین، انجینئر رضوی اور چند اور لوگ تھے۔ کمپنی نے مجھے یہ کام سونپا کہ ان کو خوش آمدید کہوں اور ہماری کمپنی کے بارے میں بتائوں۔ بعد میں یہ لوگ چند دن کی ٹریننگ و انسپکشن کے بعد واپس چلے گئے۔ نسیم خان مجھے بہت سنجیدہ اور کام میں اچھے نظر آئے تھے۔ جب بھٹو صاحب نے مجھے خود مختار ادارہ کا سربراہ بنا دیا تو مجھے صفر سے ٹیم بنانا پڑی۔ میں نے نسیم خان کو ڈھونڈا اور پروفیسر اسلم خان سے درخواست کرنے سے پہلے نسیم خان کی رضامندی حاصل کی۔ انھوں نے خوشی سے رضامندی کا اظہار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈیسٹو میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہورہا تھا اور وہ وہاں مطمئن نہ تھے۔ میں نے پروفیسر ڈاکٹر اسلم خان سے ان کے تبادلہ کی درخواست کی تو انھوں نے یہ تاثر دیا کہ اگر نسیم خان ایک گھنٹہ کے لئے بھی ڈیسٹو سے گئے تو قیامت برپا ہوجائے گی۔ میں جنرل نقوی کے ساتھ جنرل ضیاء کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ مجھے نسیم خان کی فوری ضرورت ہے۔ انھوں نے جنرل نقوی سے کہا، ضامن صاحب! پروفیسر اسلم سے کہہ دیں کہ میرا حکم ہے کہ نسیم خان کل صبح ۹ بجے ڈاکٹر خان کو رپورٹ کریں۔ دوسرے دن نسیم خان میرے پاس آگئے۔ یہ ہماری پروجیکٹ و پروگرام کے لئے بے حد مُبارک اور مفید دن تھا۔ پہلے ہمارا صرف کمپیوٹر ڈویژن تھا یہ اس کے نائب سربراہ اور پھر ڈائریکٹر لگائے گئے ، جب کام بڑھ گیا اور ہمیں کمپیوٹر ڈویژن کو علیحدہ کرنا پڑا اور کنٹرول و آٹومیشن کا محکمہ بنانا پڑا تو میں نے ان کو نئے ڈویژن کا ڈائرکٹر جنرل بنا دیا۔ یہاں ان کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پورا موقع ملا اور انھوں نے خوب دکھائیں۔ پہلے یہ بتادوں کہ پاکستان میں انجینئرنگ کے بعد انھوں نے لندن سے پوسٹ گریجویٹ کورس کیا تھا اور وہاں کافی عرصہ ملازمت کی تھی اور پھر پاکستان آکر ڈیسٹو میں ملازمت کی تھی۔ ہمارا پورا پلانٹ مکمل آٹومیٹک کنٹرول سے چلتا تھا۔ نسیم خان اس کی فلاسفی تیار کرتے تھے، ڈرائنگز بناتے تھے اور پھر ڈاکٹر ہاشمی اور ڈاکٹر مرزا کے ساتھ مشاورت کرکے فائنل شکل دیتے تھے۔ ڈاکٹر مرزا ہارڈویئر بنا کرنسیم خان کو دیتے تھے اور پھر وہ اس کا پروٹو ٹائپ بنا کر ٹیسٹ کرتے تھے اور پھر پلانٹ میں لگایا جاتا تھا۔ پورے پلانٹ کا کنٹرول و آٹومیشن سسٹم انجینئر نسیم خان اور ان کی ٹیم نے بنایا تھا اور یہ کبھی فیل نہیں ہوا۔ اگر کسی غیرملکی کمپنی سے اسکی تفصیل بنواتے تو کئی ملین ڈالر دینا پڑتے۔ نسیم خان بھی ہماری مشین کا ایسا پرزہ تھے کہ اسکے بغیر یہ مشین بہت ہی مشکل سے چل پاتی۔ نسیم خان چاغی کی ہماری ٹیم کے اہم رکن تھے۔ اللہ نے انکوM-1اور ہلال امتیاز کے اعزازات سے نوازا۔ کے آر ایل سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ فیڈرل اردو یونیورسٹی میں درس و تدریس سے منسلک رہے۔ آج کل ریٹائرمنٹ کی پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ طبیعت کچھ ناساز ہے۔ اللہ پاک ان کو تندرستی عطا فرمائے اور عمر دراز کرے۔ آمین۔ یہ اس ملک کا فقید المثال سرمایہ ہیں۔ حکمرانوں کی جہالت اور نااہلی نے ان کی خدمات سے مزید استفادہ نہیں کیا۔
(نوٹ) ملکی سیاسی صورت سخت نازک رُخ اختیار کرتی جارہی ہے اور اس کی ساری ذمّہ داری طاہر القادری اور عمران خان پر عائد ہوتی ہے اور ان سے بڑھ کر اس میں حکومت کی نااہلی اور فیصلوں کی صلاحیت کے فقدان کا بہت بڑا دخل ہے۔ نواز شریف کی خود کی عقل و فہم اور ان کے مشیروں کی اہلیت پر بہت بڑا سوال اُٹھتا ہے۔ طاہر القادری ایک کینیڈین شہری ہیں وہ جب دبئی میں جہاز سے اترے تو کینیڈین پاسپورٹ سے اترے اور امیگریشن کرائی، حکومت کو کیا پوری قوم کو علم تھا کہ یہ یہاں سیاسی افراتفری اور فساد پھیلانے آرہے ہیں۔ حکومت کا فرض تھا کہ وہ ان کو پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیتی۔ یہ قانونی کارروائی ہوتی اور اس میں کوئی غیرقانونی بات نہ تھی۔ طاہرالقادری کے بغیر عمران خان ایک بونے تھے۔ پہلے بھی یہاں اور بہاولپور میں شورشرابہ کرکے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ پھر دوسرا بلنڈر یہ کہ قادری کو لاہور سے اسلام آباد آنے دیا۔ یہ احمقانہ اقدام تھا۔
اگر ان کو وہیں نظر بند کردیتے تو عمران خان آٹھ، دس ہزار کارکنوں اور ہمدردوں سے کچھ نہ کرسکتے تھے۔ باربار ڈھیل دینا نہایت احمقانہ عمل تھا۔ سپریم کورٹ نے صاف صاف اشارہ کردیا کہ حکومت کے پاس ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے قوانین اور ذرائع موجود ہیں۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے تقاضے اور رویّہ نہایت احمقانہ ہیں۔ اگر 25, 20 ہزار کے دہشت گرد لاکر اور ناچ گانوں اور مذہبی جذبات بھڑکا کر حکومتیں گرائے جانے کا رواج بن گیا تو اس ملک میں ہر تیسرے ماہ حکومت گر جایا کریگی۔ جناب جاوید ہاشمی نے عمران خان کے دعوئوں اور نیت کی پول کھولدی ہے۔ اور ان کا یہ بیان بالکل صحیح ہے کہ اگر فوج آئی (اور دس سال سے پہلے نہ جائیگی) تو ساری ذمّہ داری عمران پر ہوگی۔ انھوں نے اپنے ساتھ چلے کارتوس ملا کر اور قادری صاحب نے ناکام و نااہل سیاست داں ملا کر اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جیو، جنگ اور نیوز کی خدمات نہایت قابل تحسین ہیں کہ مخالفت اور مشکل حالات میں وہ اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ چند صحافی اور ٹی وی اسٹیشنز آگ پر تیل ڈال رہے ہیں اور مفاد پرستی کو ملکی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: