فقیدالمثال گمنام ہیروز

اپنے پچھلے کالم میں اپنے نہایت عزیز، پرانے کلاس فیلو، دوست اور رفیق کار انجینئر بدرالاسلام کے بارے میں بتایا اور ان کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی تھی۔ جب ہم نے بینظیر صاحبہ کے دوسرے دور ِ حکومت میں ان سے لمبے فاصلہ پر مارکر نے والے میزائل کی منظوری لے لی اور جنرل عبدالوحید نے اس کی تیاری پر اتفاق کیاتو میں نے قاضی صاحب (بدرالاسلام) کو اس پروگرام کا انچارچ بنا دیا۔ مجھے ذاتی تجربہ کی بنا پر ان کی صلاحیتوں کا علم تھا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایک میرین انجینئر ایک ہر فن مولا ماہر ہوتا ہے یعنی بے حد ’’ورسٹائل‘‘ انجینئر ہوتا ہے۔ کھلے سمندر میں جہاز میں ہر قسم کے آلات و مشینری ہوتی ہے اور اس میں خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں، چیف انجینئر اسکی مرمت اور صحیح سلامت ساحل سمندر تک لیجانے کا ذمّہ دار ہوتا ہے۔قاضی صاحب نے اپنے قابل رفقائے کار سے یہ کام نہایت خوش اسلوبی اور مہارت سے بہت کم عرصہ میں کردیا۔ اعلیٰ ورکشاپ بنائی، تمام پروڈکشن سہولتیں تیار کیں اوراس مقصد میں کام آنے والے تمام پارٹس سِوائے لانچنگ سسٹم اور موٹر، تیار کرلئے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ الیکٹرانکس، کنٹرول سسٹم، پارٹس کی تیاری ایسے اہم و حساس کام بہت اہم حصّہ ہوتے ہیں۔ الیکٹرانکس کا پورا کام میرے نہایت قابل ساتھی ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا (ان

کی صلاحیتوں کے بارے میں بعد میں تفصیلاً بتائوں گا) ، انجینئر محمد نسیم خان (اعلیٰ پایہ کے انجینئر جن کا ثانی ملنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ہے)انجینئر اعجازاحمد کھوکھر اور جناب قاضی رشید علی (دونوں کی اعلیٰ صلاحیتوں کے بارے میں بتا چکا ہوں) اورجناب بہرام علی خان نے نہایت اہم خدمات انجام دیں۔ بہرام علی خان ایک اعلیٰ پایہ کے انجینئر تھے، نہایت نرم گو، اسمارٹ، کام میں ماہر اور بے حد خوش مزاج۔ تعلق تعلیمی گھرانے سے ہے، والد لاہور کے مشہور گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے۔ بہرام صاحب کے ذمّہ میں نے نہایت مشکل کام یعنی لانچنگ کا موبائل سسٹم سپرد کیا۔ کام میں ان کی دلچسپی اور انہماک قابل دید تھے۔ ایسے سسٹم کی قیمت باہر چار ملین ڈالر تھی۔ انھوں نے یہ مکمل سسٹم ایک ملین ڈالر سے بھی کم میں تیار کرلیا۔ 1998 میں ہم نے ایک نہایت اہم آزمائشئ تجر بے کو بہرام علی خان کے تیار کردہ سسٹم کے ذریعے ہی کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ بہرام صاحب کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہایت اچھے دوستانہ تعلقات تھے۔ میں روز ان کی ورکشاپ جاتا تھا، کام کے بارے میں ہم تبادلہ خیالات کرتے، چکر لگاتے، چائے پیتے اور میں واپس آجاتا۔ ہر دورہ دل کی تقویت کا باعث ہوتا تھا، کام کی رفتار اور کوالٹی نہایت قابل تحسین تھی۔ آجکل بہرام صاحب لاہور کے مضافات میں اپنا نہایت اعلیٰ فارم چلا رہے ہیں۔ ان کے فارم میں لاتعداد جنگلی جانور، پرندے، موسمی ہجرت کرنے والے پرندے وغیرہ آتے رہتے ہیں مگر ان کو مارنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ میرافلاحی اسپتال (جو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں تعمیر کروا رہا ہوں) دیکھنے کے لئے اکثر لاہور جانا ہوتا ہے میں بہرام صاحب کو مطلع کردیتا ہوں اور وہ سب کام چھوڑ کر تمام وقت میرے ساتھ گزارتے ہیں۔ہماری پرانی باتیں سُن کر ہمارے ساتھی بے حد محظوظ ہوتے ہیں۔ بہرام صاحب گولف کے بھی اعلیٰ کھلاڑی ہیںاور انہوں نے پنڈی میں ہونے والے کئی ٹورنامنٹ جیتے ہیں۔ جب جناب سعید بیگ نے کہوٹہ میں گولف کورس بنا لیا تو یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روز شام کو چھٹی کے بعد وہاں پریکٹس کیا کرتے تھے۔ کے آر ایل کے موجودہ چیئرمین اعجاز احمد مختار ان کے پارٹنر ہوا کرتے تھے۔ یہ ایسے تجربہ کار اور قابل افسر ہیں کہ آج بھی معجزات نہیں تو ناممکن کو ممکن کر دکھا سکتے ہیں۔ اس ملک کے حکمرانوں بلکہ ملک کی سخت بدقسمتی ہے کہ ایسے گنج ہائے گرانمایہ کو یوں ضائع کردیا۔جاہل حکمرانوں اور جاہل قوموں کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اہل علم و قلم اور اہل عقل و فہم کی قدر نہیں کرتے۔ دنیا میں لاتعداد مثالیں موجود ہیں کہ جس قوم نے اپنے قابل لوگوں کی قدر نہ کی وہ دیر یا بدیر ذلیل و خوار ہوکر تاریخ کا ورق پارینہ بن گئی۔
اَب آپ کو ایک اور اپنے قابل اور نہایت اہم رول ادا کرنے والے ساتھی ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جب ہمارے پروجیکٹ کو جولائی 1976 میں بھٹو صاحب نے ایک خودمختار ادارہ بنا کر مجھے اس کا سربراہ بنا دیا تو اس وقت اٹامک انرجی کمیشن کے جو لوگ یہاں پوسٹ کئے گئے ان کو میں نے آپشن دیدیا کہ چاہیں تو واپس کمیشن میں جاسکتے ہیں اور چاہیں تو میرے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔ کسی ایک شخص نے بھی واپس جانا پسند نہیں کیا۔ انھیں کمیشن میں کام کرنے کا تجربہ تھا جہاں کوئی بھی کام ملکی مفاد میں نہیں کیا جارہا تھا۔ ایک پڑھے لکھے، محب وطن شخص کو صرف اچھی تنخواہ اور سہولتیں ہی کافی نہیںہیں، اس نے جو اعلیٰ تعلیم و تجربہ حاصل کیا ہے وہ اس کو ملک کی خدمت کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے یعنی کام میں سکون قلب بہت اہم ضرورت ہے، اسے ہم Professional Satisfaction کہتے ہیں۔ میرے ساتھیوں میں ایک جذبہ تھا ان میں بےچینی تھی، انھوں نے ابھی اپنے سامنے ملک کو ٹوٹتا دیکھا تھا، انہیں بھارت کے 18 مئی کے ایٹمی دھماکہ اور ان کے لیڈروں کے جارحانہ بیانات نے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سخت فکر مند کردیا تھا۔ انھیں اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ اور اس کے چہیتوں سے قطعی کسی قسم کے مناسب جوابی اقدامات کی اُمید نہ تھی۔ انھیں میری شخصیت میں ایک اُمید کی کرن دکھائی دی کہ یہ شخص تجربہ کار ہے، پرخلوص ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور ہمیں اپنا ساتھی ، رفیق کار سمجھتا ہے، نہایت تمیز سے بولتا ہے، ہم میں گھل مل جاتا ہے، ہنسی مذاق کرتا ہے اور کبھی اپنے باس ہونے کا رتی بھر بھی تاثر نہیں دیتا۔ انھیں پہلی مرتبہ اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل رہا تھا، وہ ایک مشکل اور سخت چیلنج قبول کرنے کو تیار تھے، وہ بھارت کا مقابلہ کرنے اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع مہیا کرنے کے لئے پرعزم تھے اور اس اہم قومی مقصد کو حاصل کرنے میں صرف میںاور میں ہی ان کی صحیح رہنمائی کر سکتا تھا۔ یہ بچّے نہیں تھے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے،سب نے انگلستان و امریکہ سے تعلیم حاصل کی تھی مگر ان کو یورینیم کی افزودگی بذریعہ سنٹری فیوج (دنیا کی اعلیٰ اور مشکل ترین) ٹیکنالوجی کا تجربہ نہ تھا، صرف مجھے اس میں عملی تجربہ اور مہارت حاصل تھی۔ میرے علاوہ کوئی بھی شخص پاکستان کے لئے یہ نہیں کرسکتا تھا۔ یہی جانتے ہوئے میں نے پچھلے چھ سات ماہ بغیر کسی شکایت کے تمام تکالیف برداشت کرلی تھیں۔ میں نے اپنا روشن مستقبل اور اعلیٰ ملازمت اور پرآسائش زندگی کو خیرباد کہہ دیا تھا، میری بیگم اور بچوں نے سخت تکالیف کو برداشت کیا تھا۔ ان حالات کی موجودگی میں ڈاکٹر جاوید ارشد کا میرے ساتھ کام کرنا قابل فہم تھا۔ انھوں نے میرے ساتھ کام کرکے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے انگلستان سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی تھی اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ تھا اور الیکٹرانکس میں مہارت تھی۔ میں نے ان کو الیکٹرانکس سیکشن کا سربراہ بنا دیا۔ یہاں انھوں نے اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے۔مرزا صاحب، ہاشمی صاحب، منصور صاحب، اشرف عطا صاحب، نُور المصطفیٰ صاحب، نصراللہ خان صاحب، اعجازی، امین صابر وغیرہ پرانے ساتھی تھے، آپس میں اعتماد تھا، تجربہ کار تھے اور ایک ٹیم کی طرح کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر مرزا نے ایک نہایت اعلیٰ الیکٹرانک لیبارٹری بہت ہی کم عرصہ میں بنالی، یہ لیبارٹری ملک کی کسی بھی لیبارٹری سے بہتر تھی۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایک حساس پلانٹ میں کس قدر الیکٹرانک آلات کی ضرورت پیش آتی ہے، لاتعداد نہایت اہم پاور سپلائیز کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ تمام چیزیں ڈاکٹر مرزا نے اپنے قابل ساتھیوں (انجینئر بھٹی، انجینئر خالد، انجینئر محمود، انجینئر شوکت وغیرہ وغیرہ) سے مل کر مشکل اور اہم ترین تمام آلات کہوٹہ میں ہی تعمیر کئے۔ ہمارے پاس ملک کی بہترین لیبارٹری تھی جہاں ڈاکٹر مرزا کئی تہہ والے پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (Multilayer Printed Circuit Boards) بناتے تھے۔ پورے پلانٹ میں جہاں بھی الیکٹرانک آلات لگتے ہیں ان میں ان کا کلیدی رول تھا۔ اس کے علاوہ جب ہم نے ایک اور اہم دفاعی پروگرام کی تیاری شروع کی۔ تو ڈاکٹر مرزا اس کے انچارچ تھے اوراس پروگرام کی پیداوار سے پاکستان آرمی کو بہت فائدہ پہنچا۔ یہی نہیں بلکہ جب جنرل ضیاء نے ہمیں ایٹم بم بنانے کی ذمّہ داری دیدی تو ڈاکٹر مرزا نے (ہاشمی صاحب، منصور صاحب، کھوکھر صاحب، قاضی صاحب کے ساتھ مل کر) اہم کام کیا۔ جب چاغی میں ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ ہوا تو کے آر ایل کی جانب سے ڈاکٹر ہاشمی، ڈاکٹر مرزا، ڈاکٹر مجید، انجینئر نسیم خان اور منصور صاحب نے وہاں تمام انتظامات کی نگرانی کی۔ یہ چند دن پیشتر وہاں چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی چونکہ مجھ سے عمر میں کچھ بڑے تھے اور ایک سال پہلے ریٹائر ہوگئے تھے اسلئے ڈاکٹر مرزا کو وائس چیئرمین بنا دیا گیا تھا اور میری ریٹائرمنٹ پر وہ چیئرمین کے عہدہ پر تقریباً چھ سال رہے اسکے بعد PCSIR کے عہدہ پر تین سال کام کرکے ریٹائر ہوگئے۔ ان کو M-I کا گریڈ اور ہلال امتیاز کا ایوارڈ ملا تھا۔ ڈاکٹر مرزا کی ایک کمزوری ہیومن ریلیشن شپ تھی وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ ٹھیک سے تعلقات قائم نہ رکھ سکے۔
(نوٹ) ۔ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے قوم کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ اپنی ناراضگی، غصّہ اور ناکامی کا الزام ذرائع ابلاغ پر لگایا جارہا ہے۔ روزنامہ جنگ نے قیام پاکستان کے لئے جو خدمات انجام دیں اور جو پاکستان بننے کے بعد سے کر رہا ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے۔ روزنامہ جنگ اور جیو قوم کی آنکھیں اور کان ہیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے میں کلیدی رول ادا کررہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جنگ، نیوز اور جیو کے قارئین کی کروڑوں میں تعداد ہے۔ سیاست دانوں کو ذرائع ابلاغ پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ دنیا میں سیاسی لیڈر کبھی میڈیا پر بہتان بازی نہیں کرتے ۔ قدرتی نظام ہے کچھ آپ کی پالیسی کے حامی ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔ اس کو ذاتیات سے بلند رکھنا شرافت کا تقاضا ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

%d bloggers like this: